کیا اب یوٹیوب سے حاصل ہونے والی آمدن پر بھی ٹیکس کٹے گا؟

یوٹیوب نے کہا ہے کہ اس کے پلیٹ فارم پر اکاؤنٹس کے ذریعے کمائی کرنے والے غیر امریکی اکاؤنٹ ہولڈرز کو اب اپنی ویڈیوز سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

ان تمام ٹیکس کٹوتیوں کا دارومدار امریکہ اور دیگر ممالک کے درمیان ٹیکس کے حوالے سے ہونے والے معاہدوں پر ہے (اے ایف پی)

یوٹیوب نے کہا ہے کہ اس کے پلیٹ فارم پر اکاؤنٹس کے ذریعے کمائی کرنے والے غیر امریکی اکاؤنٹ ہولڈرز کو اب اپنی ویڈیوز سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

یوٹیوب کی جانب سے یوٹیوبرز کو موصول ہونے والے نوٹس کے مطابق یہ ٹیکس انہیں امریکہ سے ملنے والے ویوز پر ادا کرنا ہوگا۔ یعنی اگر ایک ویڈیو کو پانچ ہزار ویوز ملتے ہیں جن میں سے دو ہزار امریکہ میں موجود صارفین سے آئے ہیں تو ان دو ہزار ویوز کی کمائی پر ٹیکس لگے گا۔

صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کسی بھی صارف نے اپنے ٹیکس کے حوالے سے فارم 31 مئی تک جمع نہیں کروایا تو گوگل اس صارف کی آمدن پر ازخود 24 فیصد ٹیکس کاٹے گا کیوں کہ اس اکاؤنٹ ہولڈر کو امریکہ میں مقیم تصور کیا جائے گا۔

آخر گوگل ٹیکس کٹوتی کیوں کر سکتا ہے؟

امریکی انٹرنل ریوینیو کوڈ کے چیپٹر تین کے تحت ٹیکس کے حوالے سے معلومات جمع کرنا، ٹیکس کٹوتی کرنا اور انٹرنل ریوینیو سروسز کو رپورٹ کرنا گوگل کی ہی ذمہ داری ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی وجہ ہے کہ یوٹیوب نے اپنے بیان میں بھی اس بات کو واضح کیا ہے کہ ’اگر آپ کی ویڈیو کو امریکہ میں دیکھے جانے سے آمدن ہو رہی ہے تو گوگل اس آمدن پر جون 2021 سے ٹیکس کٹوتیاں کرے گا، جسے (ودہولٹنگ ٹیکس) کہا جاتا ہے۔‘

اب یہاں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں مثلاً کیا یہ کٹوتیاں تمام یوٹیوبرز سے کی جائیں گی؟ اور امریکہ سے حاصل ہونے والے ویوز پر ہی ٹیکس کیوں کاٹا جائے گا؟

تو یہاں یہ واضح کرتے چلیں کہ یہ ٹیکس کٹوتیاں صرف ان یوٹیوبرز سے کی جائیں گی جنہیں یوٹیوب ویڈیوز سے آمدن حاصل ہوتی ہے۔ ایسے صارفین جنہیں ویڈیو سے کسی قسم کی آمدن نہیں ہوتی انہیں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

نئے ٹیکس سے پاکستانی یوٹیوبرز پر کیا فرق پڑ سکتا ہے؟

عمومی طور پر امریکہ اور دیگر یورپی ممالک سے آنے والی ٹریفک اور اشتہاروں پر یوٹیوبرز کی زیادہ کمائی ہوتی ہے بہ نسبت پاکستان اور بھارت کی ٹریفک سے۔ ایسا اس لیے ہے کہ امریکہ اور یورپ میں موجود کمپنیاں اشتہاروں کی مد میں زیادہ رقم خرچ کرتی ہیں جب کہ پاکستانی کمپنیوں کی جانب سے سستے اشتہار چلائے جاتے ہیں۔

اگر آپ کی ویڈیو پر ایک ہزار اشتہار چلنے پر پاکستان سے ایک ڈالر ملتا ہے تو انہی ایڈ ویوز کے بدلے آپ کو امریکہ سے تقریباً تین گنا آمدن ہوتی ہے۔ اسی لیے جہاں پاکستانی یوٹیوبرز کو اگرچہ پاکستان سے زیادہ ٹریفک ملتی ہے مگر وہیں امریکہ اور یورپ سے آنے والی ٹریفک پر توجہ زیادہ دی جاتی ہے کیوں کہ وہاں کی کم ٹریفک سے بھی زیادہ منافع کمایا جاتا ہے۔

امریکی ٹریفک پر کتنا ٹیکس کٹے گا؟

ان تمام ٹیکس کٹوتیوں کا دارومدار امریکہ اور دیگر ممالک کے درمیان ٹیکس کے حوالے سے ہونے والے معاہدوں پر ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان 1957 میں ایک ٹیکس معاہدہ ہوا تھا، جس کے آرٹیکل تین کی شق دو کے مطابق وہ پاکستانی کمپنی جس کا دفتر امریکہ میں موجود نہیں ہے لیکن امریکہ سے منافع کما رہی ہے تو اس پر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔

اس معاہدے کے تحت کاپی رائٹ اور خدمات کی مد میں کمائی پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، مگر فلموں اور ٹی وی کے مواد پر وِد ہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا۔

یعنی وہ پاکستانی یوٹیوبرز جو گوگل پر فارم کے ذریعے ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کرنا چاہیں گے تو وہ عمومی ٹریفک پر ٹیکس دینے کے مجاز نہیں ہوں گے لیکن اگر وہ ٹی وی اور فلم (موشن پکچرز) مواد یوٹیوب پر ڈالیں گے تو 30 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی