والد کی قبر پر کچرہ نہیں، محل بنانے کے لیے ملبہ ڈلوایا: عارف مہدی

مہدی حسن کے صاحبزادے عارف مہدی حسن کے مطابق: ’ابا کے انتقال کے بعد ان کے مزار کی تعمیر کے لیے آٹھ، نو سال حکومت کا انتظار کیا، مگر حکومت کی جانب سے مزار تعمیر نہیں کیا گیا تو اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم خود ہی ان کی قبر کو تعمیر کروائیں۔‘

نارتھ کراچی کے سیکٹر سیون بی کی شاہراہ نور جہاں پر واقع تاریخی محمد شاہ قبرستان کے مرکزی دروازے سے اندازاً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ایک ٹوٹی پھوٹی چاردیواری کے باہر اردو میں درج ہے:’آخری آرام گاہ شہنشاہ غزل مہدی حسن خان صاحب۔‘

دیوار کے ساتھ عمارتی ملبے کا ڈھیر لگا ہوا ہے، جس میں پلاسٹک کی تھیلیاں، ٹوٹی ہوئی بوتلیں اور دیگر کوڑا کرکٹ شامل ہے۔ چاردیواری کا کوئی دروازہ نہیں اور اندر داخل ہونے سے پہلے ہی سیمنٹ کا بنا ہوا مقبرہ نظر آتا ہے۔

احاطے کی پچھلی طرف دیوار کا ایک بڑا سا حصہ ٹوٹا ہوا ہے، جہاں سے چند بچے آجا رہے ہیں۔ اس چار دیواری میں ایک ہی قبر ہے جبکہ چار دیواری کے اندر عمارتی ملبے کا ڈھیر لگا ہوا ہے، جس پر چند بچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ پانی کے ڈبے لیے یہ بچے ہر جانے والے سے مخاطب ہوکر  کہہ رہے تھے: ’آپ پیسے دیں تو ہم قبر پر پانی چھڑک دیں۔‘

مقبرے کے اندر ایک پکی قبر بنی ہوئی ہے، اس قبر کا اوپر والا حصہ کچا ہے، جس میں گلاب کا ایک پودا لگا ہوا ہے، مگر پھول نہیں ہے جبکہ کچے حصے کو ایک بڑی کانٹےدار جھاڑی سے ڈھانپا گیا ہے۔

قبر کے ٹوٹے ہوئے کتبے پر احمد فراز کا ایک شعر ’اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں۔۔۔ جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں‘ کے نیچے درج ہے: ’شہنشاہ غزل مہدی حسن خان صاحب ولد عظیم خان صاحب۔ تاریخ پیدائش 28 جولائی 1933۔ تاریخ وفات 22 رجب 1433ھ، بمطابق 13 جون 2012 بروز بدھ، کراچی۔‘

مزار کی خستہ حالت کے حوالے سے مہدی حسن کے صاحبزادے عارف مہدی حسن نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا: ’ابا کے انتقال کے بعد ان کے مزار کی تعمیر کے لیے آٹھ، نو سال حکومت کا انتظار کیا، مگر حکومت کی جانب سے مزار تعمیر نہیں کیا گیا تو اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم خود ہی ان کی قبر کو تعمیر کروائیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قبر کے احاطے میں موجود عمارتی ملبے سے متعلق عارف مہدی نے بتایا: ’لوگ سمجھتے ہیں کہ کچرے کا ڈھیر لگ گیا ہے، مگر یہ عمارتی ملبہ ہم نے خود یہاں ڈلوایا ہے کیونکہ مہدی حسن کے انتقال کے بعد حکومت نے ان کے مقبرے کے لیے جو زمین دی وہ بہت نیچے ہے، جسے اوپر کرنے کے لیے ہم نے حال ہی میں عمارتی ملبہ ڈلوایا ہے تاکہ اس جگہ کو پانچ سے چھ فٹ تک اوپر کیا جاسکے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’جب ملبہ ڈالنے کے بعد زمین اوپر ہو جائے گی تو اس پر بالو مٹی ڈالی جائے گی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ مزار کو خوبصورت عمارت بنانے کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے، جس کے لیے مہدی حسن سے پیار کرنے والے لوگوں سے مدد لی جائے گی۔‘

عارف مہدی کے مطابق ان کے انتقال کے بعد بھارت کی مقبول ترین گلوکارہ لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ جس طرح بھارت کے شہر آگرہ میں محبت کا تاج محل بنا ہوا ہے، اسی طرح مہدی حسن خان صاحب کے نام پر ایک موسیقی کا تاج محل ہونا چاہیے۔ 

بقول عارف مہدی: ’میں نے خود آگرہ کے تاج محل کو دیکھا ہے، مگر وہ محل مکمل طور پر سفید نہیں ہے، اس لیے میں نے مہدی حسن کے مزار پر شہنشاہ غزل کا سفید محل بنانے کا منصوبہ بنایا ہے، جو مکمل طور پر سفید ماربل سے بنایا جائے گا۔اس کے لیے محل کا جو ماڈل بنایا جائے گا، اسے بھی بعد میں محل میں رکھ دیا جائے گا تاکہ لوگ دیکھ سکیں اور اس منصوبے پر آنے والے اخراجات بھی سامنے لکھے ہوں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا