ونٹیج کاروں کے تاجر جو ’داستان گوئی‘ بھی کرتے ہیں

نئی دہلی میں مقیم سید ساحل آغا نے داستان گوئی اور ونٹیج کاروں کی حفاظت کے شوق ایک ساتھ پالے اور ان دونوں کو ایک ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔

بھارت کی راجدھانی دہلی میں ساحل آغا کی شہرت دو خصوصیات کی وجہ سے ہے، ایک ان کی تجارت جس میں وہ ونٹیج کاروں کو محفوظ کرکے انہیں قدردانوں کو فروخت کرتے ہیں اور دوسری ان کی داستان گوئی۔

ساحل آغا کے یہ دونوں شوق بہت انوکھے ہیں۔ ونٹیج کاروں پر ہاتھ آزمانا اور پھر داستان گوئی جیسے مشکل عمل سے مانوس ہونا، یہ دونوں خاصے مشکل کام ہیں۔ خود ساحل اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ’ایک شوق میری محبوبہ ہے تو دوسرے شوق سے میرا تعلق مادرانہ ہے۔‘

ساحل آغا نے داستان گوئی اور ونٹیج کاروں کی حفاظت کے شوق ایک ساتھ پالے اور ان دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلے۔

ایک عشرہ گزرنے کے بعد وہ ونٹیج کاروں کے لیے ایک عدد گیراج اور درجنوں قدردان ڈھونڈنے میں کامیاب ہوچکے ہیں، وہیں داستان گوئی میں بھی فن سے محبت کرنے والے سیکڑوں افراد انہیں چاہتے ہیں۔ ساحل آغا کے مطابق داستان گوئی کی وجہ سے انہوں نے روس، قطر، سعودی عرب سمیت کئی ممالک کا سفر طے کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساحل آغا دو زندگیاں گزارتے ہیں۔ کاروں کی مرمت و اصلاح کے وقت تمام باریکیوں سے واقف ایک با مہارت مشیر کی شکل میں وہ اپنے گیراج میں کام کاج کراتے نظر آتے ہیں۔ اسی گیراج کے ایک حصے میں مدہم روشنیوں میں ڈوبا ایک کمرہ ہے، جس کا نظارہ کسی قدیم عہد کے حجرہ خاص جیسا نظر آتا ہے، جہاں گاؤ تکیے کے ساتھ ساحل آغا داستان گو بن جاتے ہیں۔ اسی کمرے میں وہ ریاض کرتے ہیں اور پروگرام بھی شوٹ کرتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ساحل نے بتایا کہ داستان گوئی کی شروعات انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے کی، جہاں اساتذہ نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور یہ سلسلہ چل پڑا جبکہ ونٹیج کاروں کی تجارت انہوں نے اچانک شروع کی۔

ساحل کے مطابق اپنے شوق کی تکمیل اور ذاتی استعمال کے لیے کئی برس پہلے انہوں نے ایک ونٹیج کار خریدی اور پھر فروخت کردی، پھر شوق ہوا تو پھر خریدی اور فروخت کردی۔ اس طرح یہ سلسلہ چل پڑا اور اب وہ شہرکے نامور ونٹیج کار تاجر ہیں اور اپنے اعلیٰ شوق کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے بھی دیکھے جاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن