پاکستان: ’فیفا 22 کروڑ عوام پر اپنی مرضی نہیں تھوپ سکتا‘

فیفا کی جانب سے فیفا ہاؤس لاہور کو خط لکھ کر آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ دفتر کا قبضہ فیفا نارملائزیشن کمیٹی کے حوالے کردیں ورنہ ان کی رکنیت منسوخ کر دی جائے گی، تاہم پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے متنازع صدر اشفاق حسین نے یہ حکم ماننے سے انکار کردیا ہے۔

پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے شفاف انتخابات کرانے کے لیے فیفا ہاؤس لاہور کا چارج نارملائزیشن کمیٹی کے حوالے کیا گیا تھا  (فائل تصویر: اےا یف پی)

بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن (فیفا) کی جانب سے فیفا ہاؤس لاہور کو خط لکھ کر آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ دفتر کا قبضہ فیفا نارملائزیشن کمیٹی کے حوالے کردیں ورنہ ان کی رکنیت منسوخ کر دی جائے گی، جس پر پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے متنازع صدر اشفاق حسین نے یہ حکم ماننے سے انکار کردیا ہے۔

پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے شفاف انتخابات کرانے کے لیے فیفا ہاؤس لاہور کا چارج نارملائزیشن کمیٹی کے حوالے کیا گیا تھا، تاہم 19 ماہ بعد پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے متنازع صدر اشفاق حسین گروپ سمیت زبردستی دفتر سے فیفا کمیٹی کو نکال کر اس میں داخل ہوگئے اور تمام امور اپنے ہاتھ میں لے لیے۔

فیفا کی تشویش اور دفتر کا کنٹرول

فیفا کی جانب سے آج منگل کے روز بذریعہ ای میل پی ایف ایف کے مرکزی دفتر فیفا ہاؤس لاہور کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ’رواں ہفتے اشفاق حسین گروپ کی جانب سے فیفا نارملائزیشن کمیٹی کو نکال کر مرکزی دفتر پر قبضہ کرنے پر انہیں تشویش ہے اور اس عمل کی مذمت کی جاتی ہے۔‘

فیفا کی جانب سے کہا گیا کہ ’فیفا رولز 14 اور 19 کے مطابق فیڈریشن کی جانب سے مرکزی دفتر فیفا ہاؤس لاہور کا کنٹرول نارملائزیشن کمیٹی سے زبردستی لے کر اس پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا لہذا قبضہ کرنے والوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ دفتر کا کنٹرول کل 31 مارچ رات آٹھ بجے تک دوبارہ فیفا نارملائزیشن کمیٹی کے حوالے کر دیں۔‘

مزید کہا گیا کہ ’بصورت دیگر پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی فیفا رکنیت منسوخ کرکے عالمی مقابلوں میں شرکت پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔‘

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے متنازع صدر سید اشفاق حسین سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ 2018 میں پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے انتخابات کے نتیجے میں وہ منتخب ہوئے لیکن مخالف گروپ نے انہیں مرکزی دفتر فیفا کا چارج دینے سے انکار کردیا۔

انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو عدالت عظمیٰ نے انہیں 2018 سے 2023 تک پانچ سال کے لیے قانون کے مطابق چارج دینے کا حکم دیا، انہوں نے چارج سنبھالا تو 19 ماہ پہلے ان کے مخالف گروپ نے فیفا سے رابطہ کیا اور دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔

اشفاق حسین کے مطابق فیفا نے تنازع حل کرانے کے لیے نارملائزیشن کمیٹی تشکیل دی اور اسے شفاف انتخاب کرانے کا اختیار دے کر مرکزی دفتر کا چارج ان کے حوالے کر دیا۔ کمیٹی کو چھ ماہ میں دوبارہ انتخاب کرا کے چارج نومنتخب عہدیداروں کے حوالے کرنے کا اختیار ملا تھا۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ 19 ماہ گزرنے کے باوجود اس کمیٹی نے انتخابات نہیں کرائے۔ ’جب نارملائزیشن کمیٹی کے چیئرمین ملک ہارون سے درخواست کی کہ انتخابات کروائیں تو انہوں نے بات نہیں مانی بلکہ ایونٹ کرانا شروع کر دیے جو ان کا اختیار نہیں تھا تب ہم نے سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق فیفا ہاؤس کا کنٹرول سنبھالا اور اسے قانون کے مطابق چلارہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’فیفا 22 کروڑ عوام پر اپنی مرضی نہیں تھوپ سکتا۔ ان کے خط میں دھمکیوں پر ہم یہ دفتر ان کی کمیٹی کے حوالے نہیں کریں گے کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر فیفا کے غیر قانونی احکامات کو ترجیح نہیں دے سکتے۔‘

دوسری جانب فیفا نارملائزیشن کمیٹی کے چیئرمین ہارون ملک کا کہنا ہے کہ سید اشفاق حسین گروپ نے فیفا ہاؤس میں ایک غیر قانونی ایکشن کیا اور غیر قانونی طور پر زبردستی نارملایزیشن کمیٹی سے فیفا ہاؤس کو لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا: ’فیفا اور نارملایزیشن کمیٹی اس کام کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔ ویمن چیمپیئن شپ سمیت انٹرنیشنل میچز کا شیڈول اس ایکٹ سے متاثر ہوا ہے اور آج ہماری فٹ بال فیڈریشن پھر سے اسی مقام پر آگئی ہے۔ کچھ لوگوں کے ایکشن کی وجہ سے ملک میں فٹ بال کو نقصان پہنچا۔ جن لوگوں نے یہ حرکت کی فیفا ان کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ ابھی معاملات کو حل کرنے کوشش کررہے ہیں ورنہ لائف ٹائم پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ مقامی سطح پر ہی معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرلیں۔‘

پی ایف ایف کے معاملات سلجھنے کی بجائے الجھ کیوں گئے؟

لاہور کے سپورٹس رپورٹرمحمد ابوبکر کے مطابق پاکستان فٹ بال فیڈریشن میں ویسے تو ہر بار حکومت تبدیل ہونے پر فیڈریشن کو قابو کرنے کا تنازعہ چلتا رہتا ہے۔ اس بار بھی فیصل صالح حیات گروپ اور اشفاق حسین گروپ، جنہیں وزیر اعظم کے مشیر سیاسی امور ملک عامر ڈوگر کی حمایت حاصل ہے، کے درمیان یہ تنازع ہوا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ پہلے فیصل صالح حیات گروپ پی ایف ایف میں برسر اقتدار رہا لیکن جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو عامر ڈوگرگروپ کے سید اشفاق حسین کا گروپ جیت گیا۔ ہارنے والے گروپ نے ان کی فتح تسلیم نہیں کی اور دھاندلی کا الزام لگاکر فیفا سے رجوع کر لیا، دیگر افراد نے بھی فیفا سے شکایات کیں۔ جس پر اشفاق حسین گروپ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور عدالتی حکم پر فیفا ہاؤس پر حکمرانی قائم کرلی۔

ابوبکر کے مطابق اندرونی اختلافات کے باعث فیفا نے تنازع ختم کرانے کے لیے 2019 میں نارملائزیشن کمیٹی بنائی اور چھ ماہ میں شفاف انتخابات کا اختیار دیا لیکن وہ معاملہ حل نہ کر سکے۔ اب جو کمیٹی کئی ماہ پہلے بنی، جس کا سربراہ ہارون ملک کو بنایا گیا تھا، وہ بھی انتخابات کرانے میں ناکام رہے جس سے تنازع بڑھتا گیا۔

اشفاق حسین گروپ جو کامیابی کا دعویدار تھا اور جن کی مدت 2018 سے 2023 تک ہے، انہوں نے دفتر میں آکر نارملائزیشن کمیٹی کے عہدیداروں اور ملازمین کو دفتر سے نکال کر چارج خود سنبھال لیا ہے۔

بقول ابو بکر: ’اس صورتحال پر فیفا کی تشویش تو جائز ہے لیکن اصل معاملہ پی ایف ایف کے شفاف انتخابات کرانے کے بعد چارج دینا ہے۔ اگر یہ تنازع حل ہوگا تو روایتی گروپوں کے درمیان جھگڑا شروع ہوجائے گا لہذا اس کا مستقل حل یہ ہے کہ دونوں گروپوں کو بیٹھا کر مشترکہ لائحہ عمل طے کر کے تحریری معاہدے کے تحت انتخابات کرائے جائیں جن کی نگرانی خود فیفا آفیشلز کو کرنی چاہیے، اس کے بعد ہی اس تنازع کا مستقل حل نکل سکتا ہے۔‘

ابوبکر نے مزید کہا کہ ’خواتین فٹ بال چیمپیئن شپ بھی اسی تنازع کے باعث متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ بھی کھلاڑی مسائل کا شکار ہیں اور مایوس ہیں۔‘ ان کے مطابق: ’پہلے ہی پاکستان کی فٹ بال زبوں حالی کا شکار ہے، اس قسم کے معاملات سے مزید بدحال ہوجائے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال