نہ فیورٹ نہ ٹارگٹ، کارروائی قانون کے مطابق ہوگی: شہزاد اکبر

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے شوگر مافیا کے خلاف مقدمات اور کارروائی کے حوالے سے کہا ہے کہ نہ تو کوئی فیورٹ ہے اور نہ کسی کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔

(تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے جہانگیر ترین کے خلاف کیس کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق ہو گی۔

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ ’ہمارے بندے کا نام آیا پھر بھی شوگر انکوائری رپورٹ منظرعام پر لائی گئی۔‘

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران جہانگیر ترین کے حوالے سے سوال کہ کیا انہیں این آر او دیا جا رہا، پر شہزاد اکبر نے کہا کہ ’نہ تو کوئی فیورٹ ہے اور نہ ہی ٹارگٹ، کارروائی قانون کے مطابق ہوئی ہے اور ہوگی۔‘

خیال رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین، ان کے خاندان کے دیگر افراد بشمول تین خواتین اور سابق سیکریٹری زراعت رانا نسیم احمد کے خلاف منی لانڈرنگ کے دو مزید مقدمات درج کر کے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ایف آئی آر کے مطابق جہانگیر ترین کے خلاف ایک مقدمہ 2020 میں شروع کی گئی انکوائری کے نتیجے میں سامنے آنے والے منی لانڈرنگ کے شواہد پر درج کیا گیا۔

صحافیوں سے بات کرتے ہویے شہزاد اکبر نے اس حوالے سے کہا کہ ’کوئی بھی پسندیدہ نہیں ہے، جہانگیر ترین کے خلاف کیس قانون کے مطابق چلے گا۔‘

انہوں مزید کہا کہ شوگر سبسڈی سے متعلق تمام کیسز نیب کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں مصنوعی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف قانون سازی بھی کی گئی ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ ’اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قیمتوں اور ذخیرہ اندوزی کو قانون میں جرم قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سٹہ مافیا واٹس ایپ پر چینی کی قیمتیں اوپر نیچے کرتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے کہ چند روز قبل متعدد بااثر شوگر ملز مالکان کے چینی کی مبینہ سٹے بازی میں ملوث ہونے کے انکشاف کے بعد ایف آئی اے نے کارروائی شروع کر دی ہے۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر محمد رضوان کے مطابق چینی کے سیکٹر میں ایک بہت ہی منظم سٹہ مافیا دھوکے اور جعل سازی سے چینی کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر اوپر لے جا رہا تھا۔

ڈایریکٹر ایف آئی اے کے مطابق اس وقت دس مقدمے درج کیے گئے ہیں، ویسے تو سٹہ مافیا آپس میں جڑا ہوا ہے لیکن ان کے آگے دس مزید گروپس ہیں اور انہی گروپس کے حساب سے ان پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

تاہم شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ ایف آئی اے 12 سے زائد مقدمات درج کر چکی ہے اور تحقیقات کا آغاز کیا جا چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان