ایران کی جانب سے پابندیوں پر نظر ثانی کے امریکی بیان کا خیرمقدم

ایران نے منگل کو امریکی حکام کےاس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ کی 2015 کے ایٹمی معاہدے میں واپسی کے لیے اسے ایران پر عائد پابندیاں اٹھانی ہوں گی۔

(اے ایف پی)

ایران نے منگل کو امریکی حکام کےاس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ کی 2015 کے ایٹمی معاہدے میں واپسی کے لیے اسے ایران پر عائد پابندیاں اٹھانی ہوں گی۔

ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیعی کا تہران میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ ہم اس مؤقف کو حقیقت پسندانہ اور خوش آئند سمجھتے ہیں۔ یہ اس برے عمل کی اصلاح کا آغاز ہے جس نے سفارت کاری کو بند گلی میں پہنچا دیا۔

پریس کانفرنس میں ربیعی سے ایران کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے رابرٹ میلے کے بیان پر تبصرے کے لیے کہا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ’ہم ان اس بیان کو سلام پیش کرتے ہیں۔‘

 میلی نے جمعے کو ٹیلی ویژن پروگرام پی بی ایس نیوز آور میں کہا تھا کہ امریکہ جانتا ہے کہ ایٹمی معاہدے کی شرائط پوری کرنے کے لیے اسے وہ پابندیاں اٹھانی ہوں گی جو2015 کے معاہدے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چار مستقل اراکین اور ایران کے علاوہ جرمنی کے درمیان منگل کو ایرانی جوہری معاہدے پر مذاکرات کا ایک دور ہونے جا رہا ہے۔

مذاکرات کے اس دور میں امریکہ کے علاوہ چین، روس، برطانیہ، فرانس اور جرمنی بھی شامل ہوں گے جو اس معاہدے میں امریکہ کی واپسی کے خواہاں ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ منگل کو ایران سے ہونے والے ان مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کے نمائندہ خصوصی راب میلے ویانا جانے والے وفد کی سربراہی کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ راب میلے کی ایرانی وفد سے ملاقات طے نہیں ہے۔ منگل کو ہونے والی اس ملاقات کا مقصد امریکہ کی ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپسی کی راہ تلاش کرنا ہے۔

امریکہ زور دیتا ہے کہ پابندیاں ہٹانے سے پہلے ایران معاہدے کی شقوں پر مکمل طور پر عمل کرنا بحال کر دے۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ ایران صرف اسی صورت معاہدے کی شقوں پر عمل کرے گا اگر امریکہ اس پر عائد پابندیوں کو ہٹا دیتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے سوموار کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس کو فوری اہمیت کے معاملے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم یکطرفہ رعایتیں دے کر اس معاملے میں ایران کی پوزیشن کو بہتر نہیں بنائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جوہری معاہدے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا فارمولا آج بھی وہی ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے مصدقہ اور مستقل طور پر روکنے کے بدلے پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ’چاہے جوائنٹ کمیشن کا ایجنڈا نتیجہ خیز ثابت ہو یا نہیں لیکن یہ یورپی اور مذاکرات میں موجود ممالک وہ شرائط یاد دلائے گی جن پر امریکہ نے عمل کرنا ہے۔‘

ان کے مطابق ’روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی امریکہ سے کیا بات کرتے ہیں یہ ان کا آپس کا معاملہ ہے۔‘

خطیب زادہ کے مطابق ایرانی وفد میں شامل ماہرین اس بات کی تفصیلات فراہم کریں گے کہ ’ایران معاہدے کی شقوں کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کو روکنے کا  کیا منصوبہ رکھتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم صرف ایک فیصلہ چاہتے ہیں جو امریکی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔ ایسا بتدریج نہیں ہو سکتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا