’کرنٹ لگنے سے زخمی بھائی کے ہاتھ سود پر 70 ہزار لے کر کٹوائے‘

سندھ کے ضلع قمبر شہداد کوٹ کے گاؤں گوٹھ حیات خان گوپانگ کے رہائشی 10 سالہ علی رضا گوپانگ کراچی کے ڈاکٹر رتھ فاؤ ہسپتال کے پلاسٹک سرجری وارڈ میں کئی دنوں سے سرجری کا انتظار کر رہے ہیں۔

علی رضا اپنے گاؤں کے قریب سے گزرنے والی 11 ہزار واٹ کی تار گر نے کے نتیجے میں زخمی ہوئے تھے۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

کراچی کے ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال کے پلاسٹک سرجری وارڈ میں بیڈ نمبر سات پر لیٹے 10 سالہ علی رضا گوپانگ کئی دنوں سے سرجری کا انتظار کر رہے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل ڈاکٹروں نے ان کے دونوں ہاتھ کاٹ دیے تھے اور انہیں بتایا گیا تھا کہ پلاسٹک سرجری کے بعد وہ گھر جاسکیں گے۔

گذشتہ تین مہینوں سے مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج علی رضا گاؤں واپسی کا سن کر اداس چہرے کے ساتھ مسکرا دیتے ہیں۔  

شمالی سندھ کے ضلع قمبر شہداد کوٹ کے نواحی گاؤں گوٹھ حیات خان گوپانگ کے رہائشی علی رضا چرواہے ہیں اور گاؤں میں بکریاں چراتے ہیں۔

تین مہینے پہلے ان کے گاؤں کے قریب سے گزرنے والی 11 ہزار واٹ کی تار گر گئی تھی، جس سے کرنٹ لگنے کے باعث وہ زخمی ہوگئے۔

انہیں علاج کے لیے لاڑکانہ لے جایا گیا، مگر لاڑکانہ کے ڈاکٹروں نے انہیں کراچی منتقل کرنے کا مشورہ دیا، جس کے بعد پھر انہیں کراچی کے جناح ہسپتال لایا گیا۔ یہاں ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کے لیے ان کے دونوں ہاتھ کاٹ دیے۔

علی رضا کے بڑے بھائی اربیلو گوپانگ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’بجلی کی تار کئی دن پہلے گری تھی، مگر اس دن جب بھائی وہاں سے گزر رہے تھے تو اچانک بجلی آ گئی اور کرنٹ لگنے سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ ہم انہیں کراچی لائے اور ان تین مہینوں میں بھائی کے علاج کے لیے دو بکریاں بھی فروخت کردیں۔ اس کے علاوہ 70 ہزار روپے سود پر بھی لیے، پتہ نہیں اب یہ رقم واپس کیسے ادا کروں گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اربیلو نے مزید بتایا: ’جب ہم نے سکھر الیکٹرک پاور سپلائی کمپنی والوں سے شکایت کی تو انہوں نے 20 ہزار دے کر کہا کہ اب خود جاکر علاج کروا لیں۔ اب بھائی عمر بھر کے لیے معذور ہوگئے ہیں، گھر میں موجود تمام رقم بھی خرچ ہوگئی اور سود کی رقم الگ سے ادا کرنی ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کس سے شکایت کریں۔‘

دوسری جانب سکھر الیکٹرک پاور سپلائی کمپنی کے لائن سپرنٹنڈنٹ حامد سومرو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں دعویٰ کیا: ’اس گاؤں کی طرف ہماری بجلی چوری ہوتی ہے، اس لیے ہم وہاں بجلی نہیں دیتے، مگر ہماری تاریں وہاں پہلے سے لگی ہوئی ہیں۔ لوگ قریبی لائن سے بجلی چوری کرتے ہیں اور جس تار سے اس گاؤں کا رہائشی بچہ زخمی ہوا، اس میں مقامی لوگوں نے کنڈا لگا کر بجلی دے رکھی تھی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم نے مقامی پولیس تھانے کو بھی تحریری اطلاع دی تھی کہ اگر بجلی کی چوری بند نہ ہوئی تو کبھی بھی بڑا حادثہ ہوسکتا ہے، مگر اس کے باجود ہم نے علی رضا کی مالی مدد کی ہے اور اب ان کے علاج میں بھی مالی مدد دیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت