’جہاں ظلم وہاں خبریں‘ کوئی خبر چھپتی تو آگ لگ جاتی ‘

’خبریں‘ اخبار کے بانی ضیا شاہد، جنہوں نے کم عرصے میں ہی ملک کا تیسرا بڑا میڈیا گروپ قائم کرلیا، اب دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔

(تصویر:ضیا شاہد  فیس بک)

پاکستانی پرنٹ میڈیا میں سنسنی خیزی کو برینڈ بنانے والے ’روزنامہ خبریں‘ کے چیف ایڈیٹر اور سینیئئر صحافی ضیا شاہد اب ہم میں نہیں رہے۔

اخبار کو عام آدمی کا بنانے والے ضیا شاہد کو شاید بہت سے لوگ ایک ایڈیٹر کے طور پر ہی جانتے ہیں مگر ان کی جد وجہد اور طویل سفر کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہوں گے۔

ضیا شاہد پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں اپنی نوعیت کی الگ پہچان رکھتے تھے۔ انہوں نے روزگار نہ ملنے پر لاہور شہر کی دیواروں پر فلموں اور کمپنیوں کی تشہیر کے لیے تحریریں لکھ کر بھی گزارا کیا۔

اس کے بعد وہ روزنامہ ’جنگ‘ میں ملازمت کرنے لگے اور ایڈیٹر تک ترقی کی لیکن انتظامی امور پر ’جنگ‘ کے مالک میر شکیل الرحمن سے اختلاف پر انہیں ادارے سے نکال دیا گیا۔

انہوں نے 1990میں دوستوں کے ساتھ مل کر ’روزنامہ پاکستان‘ نکالا جس کے مالک اکبر علی بھٹی جبکہ ایڈیٹر ضیا شاہد تھے۔ ان کے ساتھ صحافی خوشنود علی خان بھی شامل تھے۔

اس اخبار کے مالک سے ان کے اختلافات ہوئے تو انہوں نے 1992میں ’روزنامہ خبریں‘ نکالنے کا فیصلہ کیا جس میں خوشنود علی خان اور اعظم سہروردی نے ان کا ساتھ دیا۔

یہ اخبار لبرٹی پبلشرز پرائیویٹ لیمیٹڈ کمپنی کے نام سے شروع ہوا جس میں مختلف لوگوں کو شیئرز فروخت کر کے پیسہ اکھٹا کیاگیا لیکن بعد میں سب کو فارغ کر دیا گیا۔

مختلف شہروں سے نکلنے کے بعد ’خبریں‘، ’نیا اخبار‘، ’خبرون سندھی‘، انگیزیزی اخبار ’دا پوسٹ‘ اور ’چینل فائیو‘ تک گروپ میں شامل ہو گئے اور دو دہائیوں تک اس میڈیا گروپ کا ملک میں طوطی بولتا رہا۔

تیسرا بڑا میڈیا گروپ کھڑا کرنے کے لیے پہلے دو کروڑ کیسے جمع ہوئے؟

ضیا شاہد کے ابتدائی پارٹنر اعظم سہروردی کے بیٹے سینیئر صحافی مزمل سہروری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا:  ’ضیا صاحب نے 1992میں جنگ گروپ سے نکلنے کے بعد یہ اخبار نکالا جس کے لیے لبرٹی پبلشرز پبلک کمپنی بنائی گئی لیکن قانون کے مطابق اس کے شیئرز سٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ کرانے کی بجائے قانون کی ایک شق جس میں سٹاک ایکسچینج میں رجسٹریشن کے بغیر بھی شیئرز فروخت کرنے کی رعایت تھی اسے اپنایا گیا۔‘

مزمل سہروردی کے مطابق: ’ضیا شاہد نے پیسہ اکھٹا کرنے کے لیے نیا طریقہ اپنایا۔ انہوں نے ملک بھر سے نمائندگان کو شیئر ہولڈر بنانے کا اعلان کیا جو نمائندے چند ہزار تنخواہ میں کام کرتے تھے وہ تو شیئرز نہ خرید سکے البتہ صحافت کا سہارا لے کر مال بنانے کے خواہش مند تمام چھوٹے بڑے شہروں سے رابطے میں آگئے۔‘

’انہوں نے نہ صرف خود بلکہ اپنے دوستوں کو بھی شیئرز خریدنے پر قائل کیا۔ ضیا صاحب کا یہ فارمولا اتنا کامیاب رہا ہے کہ چند دن میں ہی دو کروڑ روپے جمع ہوگئے جن سے جماعت اسلامی سے لاہور میں دفتر خریدا گیا۔ پریس مشینیں اور کاغذ لیا گیا، پہلے لاہور اور اسلام آباد سے روزنامہ خبریں کی اشاعت کی گئی۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’اس کے بعد بھی شیئرز کی فروخت جاری رہی اور دیکھتے ہی دیکھتے سرمایہ کاروں نے بھی شیئرز خریدنا شروع کر دیے لیکن یہ شیئرز سٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ نہیں ہوتے تھے۔ پھر ضیا صاحب نے اپنے آپ کو پانچ کروڑ کے شیئرز خود ہی فروخت کیے لیکن رقم کمپنی اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوئی اور شیئر ہولڈرز کو اخبار کی طاقت سے خوفزدہ کر کے بغیر پیسے دیے فارغ کر دیا گیا۔ کیونکہ اب اشتہارات اور طاقتور لوگوں کی جانب سے پیسہ ناقابل یقین حد تک ملنے لگا تھا۔‘

اس کے بعد مشرف دور میں جب کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا معاملہ اٹھا اور سندھی اخبار اس کی مخالفت کر رہے تھے تو ضیا شاہد نے جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ سکھر سے انہیں سندھی اخبار نکالنے کے لیے پیسہ دیا جائے تو وہ کالا باغ ڈیم کے حق میں راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

لہذا انہیں ’خبرون‘ نکلانے پر جو حکومتی مدد ملی اس کا پتہ بڑے شہروں میں خبریں گروپ کے دفاتر کی عمارتوں اور ضیا صاحب کی ذاتی زندگی کی آسائشات سے لگایا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزمل سہروردی نے کہا کہ ’سب شیئر ہولڈرز کو فارغ کرنے کے بعد سب سے آخر میں میرے والد اعظم سہروری کو علیحدہ کیا گیا تو ہم نے عدالت میں کیس کیا جس پر کافی ریکوری ہوئی اور ابھی تک کیس زیر سماعت ہے۔ ہم واحد تھے جو اپنے شیئرز کسی حد تک لینے میں کامیاب ہوئے۔‘

روایتی صحافت جہاں ظلم وہاں خبریں میں کیسے تبدیل ہوئی؟

چیف ایڈیٹر ضیا شاہد کے سب سے قریبی سمجھے جانے والے ساتھی سینیئر صحافی خوشنود علی خان نے اس سوال کا جواب کچھ یوں دیا: ’ہم نے روایتی اور اشرافیہ کے گرد گھومتی صحافت کی نمایاں حیثیت کم کر کے عام آدمی کی خبروں کو نمایاں کرنے کی پالیسی اپنائی تاکہ روایتی صحافت سے نکل کر عوامی صحافت شروع کی جائے تاکہ اخبار عوام میں شہرت اختیار کرے۔‘

’ان کا یہ فارمولا کامیاب رہا جس طرح ضیا شاہد کی شخصیت صحافت کی دنیا میں کوئی ثانی نہیں رکھتی اسی طرح میرا ان سے تعلق بھی اپنی مثال آپ رہا۔‘

انہوں نے بتایا:  ’ہم دونوں یک جان تھے اسی لیے زندگی کے نشیب وفراز مل کر برداشت کیے، کئی بار مشکلات بھی آئیں اور پھر دنیا نے دیکھا ہم نے ملک کا سب سے موثر اخبار کھڑا کر دیا۔‘

انہوں نے کہا کہ لاہور شہر میں دیواروں پر لکھ کر روزگار شروع کرنے والے ضیا صاحب نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی، بڑی بڑی قوتوں کو ہلا کر رکھ دیا اور مظلوم کے آگے ظالموں کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔ ’جہاں ظلم وہاں خبریں نے محروم اور پست ہوئے طبقہ کو نئی زندگی دی، وڈیرے جاگیرداروں، کرپٹ بیوروکریٹ افسران اور من مانی کرنے والے منہ زور پولیس افسران کو اپنے فرائض حقیقی معنوں میں ادا کرنے پر مجبور کیا۔‘

خوشنود علی خان کے مطابق: ’صحافت کو بڑے لوگوں کے ڈرائینگ روم کی لونڈی سے نکال کر طاقتوروں کو کٹہرے میں لانے تک پہنچا دیا۔‘

خوشنود علی خان کے مطابق ضیا شاہد نے 1999میں جب انہیں اپنے آپ اور خبریں گروپ سے علیحدہ کیا تو پھر سب نے دیکھا یہ گروپ دن بدن زوال کا شکار ہوتا گیا۔ ’پھر ضیا صاحب کا ملتان میں آپریشن بگڑنے کے باعث وہ علیل ہوئے تو ان کے بڑے بیٹے عدنان شاہد انہیں علاج کے لیے لندن لے گئے اور وہاں ان کے بیٹے کا انتقال ہو گیا جس سے ضیا صاحب کو اتنا صدمہ پہنچا کہ وہ دوبارہ سنبھل نہ سکے۔‘

مزمل سہروری نے کہا کہ ’خبریں‘ مظلوموں کی ایسی آواز بنا کہ انہیں طاقتوروں کے لیے خوف بنا دیا۔ ’جہاں ظلم وہاں خبریں‘ کے ٹائٹل سے جب کوئی سٹوری لیڈ چھپتی تو آگ سی لگ جاتی تھی اور ظالموں کا بچنا مشکل ہو جاتا تھا، یہی وجہ تھی کہ ’خبریں‘ ایک خوف کی علامت بن گیا۔

مظفر گڑھ میں مختاراں مائی سے پنجائیت کے حکم پر اجتماعی زیادتی کا معاملہ خبریں نے اٹھایا تو مختاراں مائی کے زیادتی کے ملزم نشان عبرت بن گئے، اسی طرح بہت سی مثالیں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ ہمیشہ سے محرومیوں کا شکار رہا اور ان ہی علاقوں میں ’خبریں‘ نے مظلوموں کو ظالم پر حاوی کر دیا جس کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔

خوشنود علی خان کے مطابق خبریں گروپ کے عروج و زوال کی داستان میڈیا انڈسٹری میں بے مثال بنی اور یہ گروپ اپنی طاقت کے بوجھ میں ہی بے اثر ہو گیا۔

باالآخر ضیا شاہد جیسی ناممکن کو ممکن بنانے والی شخصیت خالق حقیقی سے جا ملی اور یہ صحافت کا ایک منفرد باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان