پابندی کے بعد تحریک لبیک پاکستان کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا؟

حکومت نے ٹی ایل پی پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے میں انڈپینڈنٹ اردو نے قانونی ماہرین اور مبصرین سے جاننے کی کوشش کی ہے کہ بطور سیاسی جماعت ٹی ایل پی کا مستقبل کیا ہوسکتا ہے؟

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ کی گرفتاری کے بعد تین روز سے ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج جاری تھے(تصویر: اے ایف پی)

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے بعد اس جماعت کا مستقبل کیا ہوگا کیونکہ یہ صرف ایک مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت کے طور پر بھی پاکستان میں رجسٹرڈ ہے۔

یہ وہ سوال ہے جو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔

شیخ رشید نے 14 اپریل کو ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ملک میں جاری دو روزہ پرتشدد مظاہروں اور نقص امن کے پیش نظر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا اس حوالے سے سمری کابینہ کو منظوری کے لیے بھیجی جا رہی ہے۔ اس بارے میں انڈپینڈنٹ اردو نے چند قانونی سوالات پر مختلف قانونی ماہرین اور تجزیہ کاروں سے رابطہ کیا۔

واضح رہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں تحریک لبیک نے سندھ اسمبلی کی پی ایس 107 اور پی ایس 115 سے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ اسے قومی اسمبلی اور باقی کسی صوبے میں کامیابی نہیں ملی تھی۔

الیکشن کمیشن سے متعلق مختلف کیسز کی نمائندگی کرنے والے سینیئر وکیل سلمان اکرم راجہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تحریک لبیک پاکستان فوری طور پر سیاسی جماعت کے طور پر ختم نہیں ہو گی۔

’یہ معاملہ سپریم کورٹ بھیجا جائے گا اور پھر سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی کہ یہ جماعت ملکی سالمیت کے لیے خطرہ ہے یا نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس پارٹی کے ٹکٹ پر جیتنے والے ارکان اسمبلی تب تک بحال رہیں گے جب تک سپریم کورٹ اس معاملے پر اپنا فیصلہ نہ سنا دے۔

اس بارے میں سابق جج شاہ خاور نے آئین کے آرٹیکل 17 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنی آمدن کے ذرائع قانون کے مطابق بتانے ہوں گے، الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 204 کے مطابق اپنی فنڈنگ کا ذریعہ بتانا لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں معاملہ دہشت گردی کی دفعات کا ہے لہٰذا الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 212 کے مطابق اگر وفاقی حکومت کو الیکشن کمیشن یا کسی اور ذرائع سے جماعت کے معاملے پر معلومات ملتی ہیں جس میں ثابت ہو کہ متعلقہ جماعت دہشت گردی میں ملوث ہے تو وزارت داخلہ پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کرے گی اور نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے 15 دن کے اندر معاملہ سپریم کورٹ کو بھیجا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اختیار ہے کہ وہ معاملے پر وفاقی حکومت کا فیصلہ برقرار رکھے یا فریقین کو نوٹس جاری کر کے ان کے دلائل سن کر فیصلہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ معاملہ عدالت میں سنے یا چیمبر میں ان کیمرہ سماعت کرے، پھر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن تحریک لبیک کی رجسٹریشن ختم کر دے گی۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا نے کہا کہ پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ لگائی گئی پابندی جائز ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے مطابق یہ بالکل جائز پابندی ہے کیونکہ جتنا پرتشدد احتجاج تھا وہ دہشت گردی کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔

’اس فیصلے کے ثمرات کیا ہوں گے، یہ دیکھنا ہو گا کیونکہ جماعت کے پہلے سربراہ خادم رضوی کی وفات کے بعد یہ اتنا مضبوط گروپ نہیں جتنا پہلے تھا اور اس بات کا اندازہ حکومت کو بھی ہے کہ اس کو ہینڈل کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا بروقت فیصلہ ہے کہ جب اس جماعت نے اپنی ساری قوت سڑکوں پر دکھا دی تو اس کے بعد مزید کوئی وجہ باقی نہیں رہ جاتی۔

عامر رانا نے کہا کہ جب پابندی عمل میں آئے گی تو وقت کے ساتھ سٹریٹ پاور بھی کم ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کوئی دہشت گرد گروپ نہیں جو کہیں جا کر خود کش دھماکے کرے، اس لیے اتنا خطرہ نہیں ہو گا۔

تحریک لبیک پاکستان کی سیاسی جماعت کے طور پر ہونے والی رجسٹریشن پر انہوں نے کہا کہ جب پارٹی الیکشن کمیشن میں رجسٹر ہوئی تھی تب بھی وزارت داخلہ نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ انہیں رجسٹر نہ کیا جائے لیکن الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

تحریک لبیک پاکستان کا پس منظر

ٹی ایل پی فیض آباد دھرنا دینے کے بعد ایک مذہبی جماعت کے طور پر سامنے آئی جس کے سربراہ خادم حسین رضوی تھے، جو گذشتہ برس انتقال کر گئے۔

2017 میں ختم نبوت کے بِل کے معاملے پر تحریک لبیک نے اس وقت کے وزیر قانون کا استعفیٰ طلب کیا اور اسلام آباد کی جانب مارچ کر کے وفاقی دارالحکومت کو تین ہفتوں تک بند کیے رکھا۔ بعد میں مذاکرات کے بعد دھرنا ختم ہو گیا تھا۔

2018 کے انتخابات کے وقت تحریک لبیک پاکستان نے خود کو سیاسی جماعت کے طور پر الیکشن کمیشن میں رجسٹر کرایا اور انتخابات میں حصہ لیا۔

2018 اکتوبر میں توہین رسالت کے الزام میں سزا پانے والی آسیہ بی بی کی رہائی کے موقعے پر پارٹی نے دوبارہ ملک گیر احتجاج کیا اور سرکاری وعوامی املاک کو نقصان پہنچایا لیکن حکومت نے اس وقت بھی مذاکرات سے معاملے کو ختم کیا۔

لیکن آسیہ بی بی کے ملک چھوڑنے کے بعد سڑکوں پر دوبارہ پرتشدد احتجاج کرنے پر حکومت نے پارٹی کی مرکزی قیادت کو دہشت گردی کے الزامات میں حراست میں لے لیا۔

گذشتہ برس فرانس میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر حکومت پاکستان نے احتجاج کیا لیکن تحریک لبیک پاکستان نے حکومت سے فرانس سے ہر قسم کا سفارتی رابطہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کیا۔

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومت نے اس موقعے پر پارٹی سے معاہدہ کیا اور یوں یہ احتجاج ختم ہوا۔

لیکن حکومت نے معاہدے کی رو سے جس مدت کا ذکر کیا تھا اس مدت تک فرانس کے سفیر کو ملک بدر نہیں کیا جس کے باعث تحریک لبیک نے حکومت کی رِٹ چیلنج کرتے ہوئے پرتشدد احتجاج کا اعلان کیا۔

اس پر حکومت نے جماعت کے سربراہ کو حراست میں لے لیا جس کے نتیجے میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں دو پولیس اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔

وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق کچھ پولیس اہلکاروں کو مظاہرین نے مطالبات پورے کرنے کے لیے یرغمال بھی بنایا۔

پولیس اور مظاہرین کی جھڑپوں میں مظاہرین بھی زخمی ہوئے اور چند مظاہرین کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان