شہباز شریف کی واپسی

شہباز شریف جب ن لیگ کی قیادت کریں گے تو یقیناً ہم اس جماعت کی سیاست میں کچھ تبدیلی ضرور دیکھیں گے۔

شہباز شریف آگے مریم نواز پیچھے؟ (تصویرمریم ٹوئٹر اکاؤنٹ)

لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار  نے 16 اپریل کو دو رکنی بنچ کا فیصلہ کورٹ روم میں آ کر سنایا کہ اثاثہ جات کیس میں شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست پر عدالت کو کوئی اعتراض نہیں۔

اس اعلان کے مطابق تمام چینلز نے یہ خبر بریک کی کہ شہباز شریف کو ضمانت ملنے لگی ہے۔ شام تک بہرحال ضمانت نہیں ہوئی کیونکہ پچاس پچاس لاکھ کے مچلکے جمع نہیں ہوئے۔

اس کی وجہ جب عدالتی حکم نامے پر دستخط کرنے کی بات آئی تو ایک جج نے فرمایا کہ ان کو اعتراض ہے۔

اب صورت حال یوں ہے کہ ذرائع بتاتے ہیں کہ امید یہ رکھی جا رہی ہے کہ جو جج اعتراض کر رہے ہیں وہ شاید یہ فرما دیں کہ میرٹ پر وہ یہ ضمانت منظور نہیں کر رہے لیکن ہارڈ شپ پر منظور کر لیں۔

مسلم لیگ ن کے حلقوں امید کر رہے ہیں کہ ضمانت پیور کو منظور ہو جائے گی، مچلکے بھی جمع ہو جائیں گے اور فیصلے پر دستخط بھی ہو جائیں گے۔ پیر سے آگے یہ معاملہ نہیں جاسکتا کیوں کہ ایک جج نے بہاولپور بنچ اور دوسرے نے ملتان بنچ پر جانا ہے۔

شہباز شریف کی رہائی سے بہت سے معاملات غور طلب بن گئے ہیں۔ سب سے بڑا معاملہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی سیاست کیا رخ اختیار کرے گی؟

مریم نواز کچھ دنوں سے خاموشی کا شکار ہیں۔ پارٹی کے کچھ رہنماؤں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ بیمار ہیں تو باہر جانے کی بات ہو رہی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر کسی کا کوئی رشتے دار باہر بیٹھا ہے تو باہر جا کر ملنا ممکن ہو سکتا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ باہر جائیں گی تو واپس بھی آجائیں گی۔

مسلم لیگ ن کی قیادت میں مریم نواز کا باب عارضی طور پر فی الوقت ختم تو نہیں البتہ اس میں کم از کم بریک ضرور آگئی ہے۔

مریم نواز کی خاموشی اور ان قیاس آرائیوں میں اگلا سوال یہ ہےکہ اب کون قیادت سنبھالے گا، کون چلائے گا اور سمت دے گا۔ میاں نواز شریف تو لندن میں بیٹھے ہیں ان کی بات تو ظاہر ہے پارٹی بشمول شہباز شریف سب کے لیے حکم ہی ہوتا ہے۔

لندن سے جو حکم نامہ پہلے آیا تھا کہ جنگ لڑو اور لڑ مرو یعنی کہ ووٹ کی عزت ہر صورت ہو۔ اس کے راستے میں جو بھی آئے چاہے جنرل ہو، چاہے کرنل ہو، چاہے وزیر اعظم ہو، چاہے جج ہو آپ بس آگے بڑھتے رہیں اور ثابت قدم رہیں۔ مڑ کر دیکھنے کی بات نہیں تھی۔ ووٹ کی عزت کے لیے آگے بڑھتے جائیں۔ ان کی یہ بات مانی گئی۔

یہ بھی کہا جائے کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے کچھ دیر ان کی یہ بات چلی حالانکہ بلاول بھٹو ساتھ ساتھ اپنی پریشانی اور کچھ کچھ ناراضی کا اظہار بھی کرتے تھے۔

آصف علی زرداری کے ہاں سے یہ بات ہمیشہ نکلتی تھی کہ پریشر ڈالو تاکہ باتیں اپنی منوائیں۔ اس وقت حکومت کو گرانے کی بات نہیں ہے۔ 

تاہم نواز شریف کی بات پر من و عن عمل ہوا اور پی ڈی ایم کی پیدائش سے پہلے اور کچھ مہینوں سے نواز شریف کی ووٹ کو عزت دو کے انقلاب کی بات کو آگے بڑھایا گیا۔

اب شہباز شریف اس بات کو کیسے آگے لے کر جاتے ہیں؟ نواز شریف کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اب پی ایم ایل این کہاں کھڑی ہے؟

مسلم لیگ ن کی جعمیت علمائے اسلام (جے یو آئی) سے بہت دوستی ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں ایک دوسرے کے لیے اچھے خیالات نہیں رکھتے ہیں۔

مسلم لیگ کے اندر لوگوں کی حکومت سے ناراضی اور غصہ بالکل قائم ہے اور احتساب کے حوالے سے شکایات بھی جائز ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کا لندن سے واپس آنا ضروری ہے۔ حالانکہ وہ سرعام نہ کہیں لیکن اندر خانہ وہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کو واپس آنا چاہیے۔

جب جنگ لڑنی ہے تو جنگجو سپہ سالار کو لندن میں نہیں پاکستان میں ہونا چاہیے۔ ساتھ کئی رہنماؤں سے جب پوچھا جائے کہ پارٹی کدھر جا رہی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ دیکھتے ہیں ہمیں بھی ابھی کچھ نہیں معلوم۔ ہمیں جو کہا جاتا ہے ہم وہ کرتے ہیں۔

جو شکایات حکومت سے ہیں، چاہے اسٹیبلشمنٹ سے ہیں وہ چاہے مہنگائی کی ہو یا بدانتظامی کی وہ اپنی جگہ ہیں۔ یہ اب چونکہ سیاست ہے تو سیاست تو ممکنات کا فن ہے۔

لیکن نواز شریف نے جو اپنی برینڈ سیاست کی چلائی وہ ناممکنات کے فن کو  لے کر آگے چلے۔ سب سے لڑ پڑو اور جماعتوں کو ساتھ لو لیکن اب آر یا پار والی بات ہو۔

آر یا پار والی، لڑنے بھڑنے کی انقلابی سیاست سے مسلم لیگ ن کو ڈسکہ میں بھی جیت حاصل ہوئی اور یقینا پنجاب میں بھی اس کی حمایت موجود ہے۔

سوال یہ ہےکہ اس سپورٹ کو لے کر مسلم لیگ کی سیاست کو بڑھاوا مل رہا ہے یا وہ کہیں بند گلی میں جا کھڑی ہوئی ہے۔

آنے والے دنوں میں کراچی میں جو الیکشن ہونے والا ہے این اے 249 اس میں مفتاح اسماعیل کا جو نتیجہ نکلے گا وہ بہت اہم ہے۔ فی الوقت لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن صرف پنجاب میں ہی ہے۔

پارٹی کے لوگ جو نواز شریف اور ان کی بیٹی کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے رہے ہیں وہ سب سوال اٹھا رہے ہیں کہ اپنے سیاسی کیپیٹل کے ساتھ ہم کیا کریں گے۔ جب شہباز شریف دوبارہ داخل ہوں گے تو دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح سے وہ سیاست کو آگے لے جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لگتا یہ ہے کہ اگر جو بات چیت ہو رہی ہے اور جو سننے میں آ رہا ہے کہ جو کرتا دھرتا طاقتیں ہیں ان کا بھی شہباز شریف کے ساتھ رابطہ رہا ہے تو پھر شاید اس مرتبہ وہ باہر نکلیں تو سیاست کے لیے کچھ جگہ ان کو دی جائے گی یعنی کہ فوری طور پر ان کو کسی نہ کسی کیس میں بند نہیں کیا جائے گا اور پارٹی بھی شاید اب پارلیمان میں ہر حال میں جھگڑے کی پالیسی کو ترک کر کے زیادہ متحرک ہوگی، کمیٹیوں میں اپنا رول ادا کرے گی۔

بڑا سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا عمران خان بھی اپنی پارٹی کو انہیں برا بھلا کہنے سے روکیں گے؟ کیا سیزفائر ہر طرف سے ہوگا؟ اور اگلے دو سال ایسے گزارے جائیں کہ سب اگلے الیکشن کی تیاری کریں۔ یہ وہ رول ہے جو بظاہر لگتا ہے کہ شہباز شریف ادا کریں گے۔

اب اس کردار میں ایک بڑا سوال ہے پنجاب میں حکومت کی بقا کا۔ باوجود اس کے کہ بہت سی باتیں کہی جاتی ہیں کہ کون کس کو نکالے گا اور بزدار کیا گھر جائیں گے، جہانگیر ترین اپنے سیاسی پر تول رہے ہیں اور پیپلز پارٹی بارہا کہ رہی ہے کہ آئیں مل کر عثمان بزدار کو گھر بھیجیں۔

دیکھنا یہ ہوگا کہ یہ سب باتیں ہی ہیں یا پنجاب میں واقعی کوئی سیاسی ہلچل ہوگی۔ ان حالات میں شہباز شریف جب مسلم لیگ کی قیادت کریں گے تو یقینا اب ہم اس جماعت کی سیاست میں کچھ تبدیلی ضرور دیکھیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ