’افغان طالبان کے اہم کمانڈر‘ مولوی نیک محمد پشاور میں ہلاک

 افغانستان کے صوبے ننگرہار کے گورنر ضیا الحق  امر خیل نے دعویٰ کیا ہے کہ پشاور کے حاجی کیمپ اڈہ کے قریب ہلاک ہونے والے افغان طالبان کے اہم کمانڈر تھے اور صوبہ ننگرہار میں انتظامی امور کے سربراہ تھے۔

افغان کمانڈر مولوی نیک محمد رہبر (تصویر: بشکریہ  گورنر ننگرہار ضیا الحق امرخیل)

خيبر پختونخوا پولیس کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے مولوی نیک محمد رہبر کو دارالحکومت پشاور میں حاجی کیمپ اڈہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغانستان کے صوبے ننگرہار کے گورنر ضیا الحق امرخیل کے مطابق مولوی نیک محمد افغان طالبان کے اہم کمانڈر تھے۔

یہ واقعہ پشاور کے تھانہ پہاڑی پورہ کی حدود میں پیش آیا ہے۔ اس تھانے کے ایک پولیس اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پیر کی شام مولوی نیک محمد نامی شخص اپنے ساتھیوں سمیت گاڑی میں جا رہے تھے کہ انہیں نامعلوم افراد کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔

مذکورہ اہلکار نے بتایا: ’اس واقعے میں مولوی نیک محمد ہلاک جبکہ ان کے دو ساتھی زخمی ہوگئے۔ ہم نے واقعے کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’مقتول کا تعلق افغانستان سے ہے اور ان کے ساتھیوں نے مقدمے میں موجودہ پتہ  ضلع نوشہرہ کا علاقہ اکوڑہ خٹک لکھا ہے۔‘

دوسری جانب افغانستان کے صوبے ننگرہار کے گورنر ضیا الحق  امر خیل نے دعویٰ کیا ہے کہ پشاور کے حاجی کیمپ اڈہ کے قریب ہلاک ہونے والے افغان طالبان کے اہم کمانڈر تھے اور صوبہ ننگرہار میں انتظامی امور کے سربراہ تھے۔

امرخیل نے ٹوئٹر پر لکھا: ’پشاور کے حاجی کیمپ اڈے کے قریب افغان طالبان کے صوبہ ننگرہار کے اہم کمانڈر کو ہلاک کردیا گیا جبکہ اس واقعے میں ان کے دو ساتھی زخمی ہوگئے ہیں۔‘

ملا نیک محمد کی ہلاکت کے حوالے سے افغان طالبان کی جانب سے ابھی تک کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔

وہ افغان صوبہ ننگرہار کے افغان طالبان کے اہم کمانڈروں میں شامل تھے اور نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) کے سخت مخالف سمجھے جاتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانوی نجی ادارہ بیورو آف انویسٹی گیٹیو جرنلزم کے مطابق جولائی 2016  میں امریکہ نے ننگرہار میں افغان طالبان کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا تھا، جس میں 11 افراد ہلاک اور کم از کم تین زخمی ہوئے تھے۔

اس ادارے کے مطابق اس ڈرون حملے میں ننگرہار میں اس وقت طالبان کے اہم کمانڈر صابر کوچی کو ہلاک کیا گیا تھا جب وہ مولوی نیک محمد رہبر کے ساتھ ملنے جا رہے تھے۔

رپورٹ میں مزید لکھا گیا: ’صابر کوچی طالبان کے کمانڈر مولوی نیک محمد کے ساتھ اس مقصد سے ملنے جا رہے تھے کہ وہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف محاذ  کھولنے کے بارے میں گفتگو کر سکیں۔‘

مولوی نیک محمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 2016 میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان کے موجود سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور ننگرہار میں افغان طالبان کے ملٹری امور کے سربراہ تھے۔

مولوی نیک محمد کے حوالے سے نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے میڈیا کو جاری ایک پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے افغان طالبان کے کمانڈر مولوی نیک محمد کو پشاور کے حاجی کیمپ اڈے کے قریب نشانہ بنا کر ہلاک کردیا ہے جبکہ حملے میں ان کے تین ساتھی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ حالیہ چند مہینوں میں افغان طالبان کے دو دیگر رہنماؤں کو بھی خیبر پختونخوا میں قتل کیا گیا ہے۔ رواں سال جنوری میں پشاور کے علاقے ترناب میں افغان طالبان کے کمانڈر عبد الصمد طور کو نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کردیا گیا تھا۔ عبدالصمد افغانستان کے صوبہ لغمان کے شیڈو گورنر تھے۔ بعد میں اسی حوالے سے  پولیس نے بتایا تھا کہ ملا طور کی دوسرے طالبان رہنما کے ساتھ ذاتی دشمنی چل رہی تھی، جس کی بنا پر ان کو قتل کیا گیا تھا۔

اسی طرح رواں سال فروری میں افغان طالبان کے  ایک دوسرے مبینہ کمانڈر عبدالہادی کو پشاور کے چارسدہ روڈ پر نامعلوم  مسلح افراد نے قتل کردیا تھا۔ عبدالہادی افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں گورنر تھے اور اس کے بعد پشاور کے علاقے بخشو پل میں 10 سال سے کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان