پاکستانی شوبز میں رائلٹی کی گونج: ’فنکار کمزور وکٹ پر ہوتے ہیں‘

پاکستانی شوبز کی دنیا میں چند روز سے فنکاروں کو ان کے کام کی رائلٹی دیے جانے کے حوالے سے مہم جاری ہے۔

اس مہم کی بنیاد معروف ٹی وی فنکارہ نائلہ جعفری نے رکھی تھی، جس کے بعد منال خان، احمد بٹ  اور اقرا عزیز سمیت دیگر فنکار بھی میدان میں آگئے۔ (تصاویر: انسٹاگرام)

پاکستانی شوبز کی دنیا میں چند روز سے فنکاروں کو ان کے کام کی رائلٹی دیے جانے کی بازگشت جاری ہے۔ بہت سے فنکاروں اور گلوکاروں نے اپنے انسٹاگرام پر #GiveRoyaltiesToArtists  کے ہیش ٹیگ کے ساتھ پوسٹس شئیر کیں اور ایک مہم کا آغاز کر دیا۔

رائلٹی وہ رقم ہے جو کسی فنکار کو اس کے کام یا پروڈکٹ کے معاوضے کے طور ادا کی جاتی ہے۔ عام طور پر رائلٹی کی رقم ایک طے شدہ شرح کے مطابق اس وقت تک ملتی رہتی ہے جب تک وہ کام یا پراڈکٹ فروخت ہوتی رہتی ہے۔

اس مہم کی بنیاد معروف ٹی وی فنکارہ نائلہ جعفری، جو کافی عرصے سے بیمار ہیں، کی ایک ویڈیو کے ساتھ شروع ہوا، جب نائلہ نے اپنا ایک ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا۔

انہوں نے اس ویڈیو میں اپنی بیماری اور مشکل مالی حالات کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ٹی وی چینلز کو آرٹسٹوں کا کام دوبارہ ٹیلی کاسٹ کرنے کی رائلٹی یا معاوضہ فنکاروں کو دینا چاہیے تاکہ ان کے مالی حالات اس حد تک خراب نہ ہوں کہ انہیں اپنے علاج معالجے کے لیے دوسروں سے مدد لینی پڑے۔

نائلہ جعفری کی اس ویڈیو کے بعد شوبز میں ’فنکاروں کو رائلٹی دو‘ کی مہم نے زور پکڑ لیا۔

اداکارہ منال خان نے سب سے پہلے اس ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے انسٹاگرام پر اسے پوسٹ کیا جس کے بعد اقرا عزیز، ماہرہ خان، عائشہ عمر، فیصل قریشی، عمیر رانا، منشا پاشا، احمد علی بٹ سمیت دیگر فنکاروں اور گلوکاروں نےاپنے کام کے دوبارہ نشر کیے جانے پر رائلٹی کا مطالبہ کیا۔

کیا پرانے وقتوں میں رائلٹی ملا کرتی تھی؟

ایونیو سٹوڈیو کے سی ای او سجاد گل نے رائلٹی کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’رائلٹی ہر فنکار کا حق ہے، انہیں ملنی چاہیے۔ کوئی بھی تخلیقی شخص جو کوئی مواد تخلیق کرتا ہے رائلٹی اس کا حق ہے۔‘

سجاد گل کہتے ہیں کہ 25، 30 برس پہلے رائلٹی دینے کا رواج پی ٹی وی میں ہوا کرتا تھا۔ فنکاروں، پروڈیوسروں اور ہر تخلیقی کام کرنے والے شخص کو رائلٹی ملا کرتی تھی۔ اس وقت کام کا معاوضہ کم دیا جاتا تھا لیکن ان کے کام کے ری ٹیلی کاسٹ پر رائلٹی دی جاتی تھی۔

وہ بتاتے ہیں کہ ہر ہفتے ایک مناسب رقم فنکاروں کو دی جاتی تھی لیکن پھر فنکاروں نے ہی کہا کہ ’ہمیں یک مشت پیسے دیے جائیں اور بعد میں نہ دیے جائیں جو کہ آرٹسٹ ایسوسی ایشنز کا ایک غلط فیصلہ تھا۔‘

ان کے مطابق رائلٹی دنیا بھر کے فنکاروں کو ملتی ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں ایسا معمول نہیں ہے۔

سجاد گل کہتے ہیں: ’مجھے یاد ہے ایک زمانے میں EMI  ریکارڈز لمیٹڈ کمپنی کا رائلٹی کا ایک سسٹم ہوتا تھا۔ جب بھی ریڈیو پاکستان پر کوئی گیت چلتا تھا تو گلوکاروں کو پیسے ملتے تھے اور میڈم نور جہاں کو سب سے زیادہ پیسے ملا کرتے تھے۔ اسی طرح مغرب میں دیکھیں تو مشہور گلوکار مائیکل جیکسن تو دنیا سے چلے گئے لیکن ان کی فاؤنڈیشن کو ان کے گانوں کی رائلٹی اب بھی ملتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ جب ہم لوگ 50 اور 60 کی دہائی میں کام کرتے تھے تو میڈم نور جہاں اپنے ساتھ ساتھ اپنے پروڈیوسر کی رائلٹی بھی لیا کرتی تھیں۔ ہر گانے سے پہلے ایگریمنٹ لکھواتی تھیں کہ ان کے گانے کی رائلٹی پروڈیوسر کو نہیں صرف انہیں دی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بطور مصنف، مینیجر اور ڈائریکٹر 30 برس تک پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستہ رہنے والے اجوکہ تھیٹر کے روح رواں شاہد محمود ندیم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’پی ٹی وی جب  شروع ہوا تو باقاعدہ ایک سسٹم تھا جس میں موسیقاروں، مصنفوں، گلوکاروں اور اداکاروں کو رائلٹی ملا کرتی تھی۔‘

’یہ کافی عرصہ تک چلتا رہا لیکن جب پی ٹی وی کے چینلز بھی زیادہ ہوئے اور ری ٹیلی کاسٹ بھی بڑھ گئی تب انہوں نے رائلٹی کی رقم بہت کم کر دی۔ جو شور مچاتا تھا ان کو رائلٹی مل جاتی تھی پھر آہستہ آہستہ یہ سلسلہ ختم کر دیا گیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ رائلٹی نہ دینے کا حل یہ نکالا گیا کہ جب آرٹسٹ اور چینل کے درمیان معاہدہ طے پاتا تھا تو فنکاروں کو بتا کر یا بغیر بتائے ان کے کاپی رائٹس مستقل بنیادوں پر خرید لیے جاتے تھے، جس کا مطلب یہ تھا کہ چینل ان کے پروگرام کو جتنی بار بھی نشر کریں یا کسی اور چینل کو دیں یا پوری دنیا کو دیں تو فنکار اس پر رائلٹی کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب تو رائلٹی دینا بہت ناقابل عمل سی بات ہے کیونکہ اب 50 جگہوں پر وہ پروگرام چلتے ہیں، اس کا حساب رکھنا بھی مشکل ہے۔ پی ٹی وی کے اپنے ذرائع بھی محدود ہیں اور میرے خیال میں رائلٹی کے مطالبے کی جتنی بھی کوششیں ہوئیں ہیں، پی ٹی وی نے انہیں بس ادھر ادھر کر کے اپنا کام چلا لیا۔

’اسی طرح اب جتنے نجی چینلز ہیں وہ شروع میں ہی آرٹسٹ کے ساتھ ایک پیکج ڈیل کرتے ہیں، جس میں فنکار اپنے تمام جملہ حقوق چینل کے حوالے کر دیتے ہیں اور چینل والے ان کے کام کے ساتھ جو مرضی کریں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’یہ ضرور ہے کہ جب چینل آپ کے جملہ حقوق خریدتے ہیں تو اس کے بدلے میں وہ شروع میں فنکار کو ایک اضافی رقم دے دیتے ہیں۔‘

’اگر فنکار خاص طور پر پروڈیوسر اپنے جملہ حقوق اپنے پاس رکھنے پر زور دیں تو اس میں انہیں یہ آپشن دیا جاتا ہے کہ پروگرام ایک یا دو بار یا ایک سال میں دوبارہ نشر ہونے کے بعد اس کے جملہ حقوق پروڈیوسر یا کچھ کیسز میں مصنفوں کو واپس مل جائیں گے جس کے بعد رائلٹی دینا پڑے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’فنکاروں کے لیے ایک پیکج ڈیل ہوتی ہے، ان کا کوئی فیس سٹرکچر ہی نہیں ہے، وہ مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق ایک پرائیویٹ سیٹلمنٹ ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ رائلٹی ایک فنکار کا حق ہے لیکن یہ منحصر ہے کہ آپ کس ادارے کے ساتھ کیا کام کر رہے ہیں ان کی پالیسی کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے آپ اپنے حق کو محفوظ کر سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’عموماً فنکار کمزور وکٹ پر ہوتے ہیں کیونکہ ان کے وسائل کا مسئلہ ہے، انہیں ایک رقم مل رہی ہوتی ہے پھر وہ قانونی طور پر بھی اتنی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے یا ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا۔ وہ خود بھی اس پر زیادہ زور نہیں دیتے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں معاہدے پر دستخط کے وقت جملہ حقوق خریدنے کی بھی ایک حد ہونی چاہیے، یہ تو نہیں ہونا چاہیے کہ آپ ان کے حقوق خرید کر سالہا سال پوری دنیا میں ان کے پروگرام چلائیں اور فنکار کو کچھ نہ ملے۔

دوسری جانب فنکاروں کو رائلٹی دلوانے کے لیے سینیٹر فیصل جاوید بھی میدان میں ہیں اور انہوں نے بھی چند روز قبل ٹویٹ کی تھی کہ دنیا بھر میں آرٹسٹوں کا کام ری ٹیلی کاسٹ ہونے پر انہیں رائلٹی دی جاتی ہے لیکن پاکستان میں آرٹسٹ کو ویسے ہی کم معاوضہ دیا جاتا ہے۔

اپنی ٹویٹ میں انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کروائی کہ وہ مختلف سٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے میں ہیں اور جلد اس مسئلے کے حل کے لیے ایک جامع بل پیش کریں گے۔

رائلٹی کے حوالے سے قانون کیا کہتا ہے؟

سینیئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ علی سبطین فاضلی نے انڈپینڈنٹ اردو کو اس حوالے سے بتایا کہ رائلٹی کے حوالے سے قوانین وہی ہیں جو دنیا بھر میں ہیں اور اس کے کنونشنز پر پاکستان نے دستخط کر رکھے ہیں، اس لیے دنیا بھر میں اس پر عمل ہوتا ہے۔

ان قوانین کے تحت اگر پہلی پرفارمنس ہو جائے اور اگر آپ نے رجسٹر نہیں بھی کروایا تو بھی آپ کا کاپی رائٹ رجسٹر مانا جاتا ہے۔ ایک گانا، فلم یا کچھ اور بنانے والے کی ملکیت ہے۔ اسے ہم انٹلیکچوئل پراپرٹی کہتے ہیں۔

علی سبطین نے بتایا: ’اس کا آغاز 1930 سے ہوا تھا جس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ انسان جب کچھ تخلیق کرے گا وہ اس کی ملکیت ہوگی۔ اب یہ جملہ حقوق مالک کی مرضی ہے کہ وہ انہیں بیچ بھی سکتا ہے۔ اب چاہے وہ سستے دام بیچے یا مہنگے یہ اس کی مرضی ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں: ’اب ظاہر ہے اگر کسی اور نے اسے چلانا ہے تو وہ اس کی اجازت لیں گے اور جب اجازت لیں گے تو اس کی رائلٹی دینا پڑے گی۔ اگر معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے چینل، تخلیق کار سے ان کے جملہ حقوق خرید لیتے ہیں تو تخلیق کار اس پر رائلٹی کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔‘

علی سبطین نے بتایا کہ ان کے والد سبطین فاضلی نے بھی 1950 میں ’دوپٹہ‘ نامی ایک فلم بنائی تھی اور انہیں ریڈیو پاکستان سے رائلٹی کے چیک اکثر آیا کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کوئی بھی مواد یا کوئی بھارتی گانا یا کچھ اور بغیر اجازت کے نہیں چلا سکتے، اگر چلائیں گے تو اس کی رائلٹی دینی پڑے گی۔ آپ کو اس کے رائٹس خریدنے پڑیں گے۔

پاکستان کاپی رائٹ آرڈیننس 1962 کے مطابق ادب، ڈرامہ اور موسیقی کے شعبے میں کیے جانے والا وہ کام جو تخلیق کار کی زندگی میں شائع ہوا، اس کی موت کے اگلے سال سے 50 سال بعد تک اس کی ملکیت رہے گا جبکہ سنیماٹوگرافی، ریکارڈ یا تصاویر، شائع ہونے کی تاریخ سے اگلے 50 برس تک تخلیق کار کی ملکیت رہے گا۔ اس کے بعد وہ پبلک پراپرٹی بن جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن