کیا بھارت میں کرونا کا سونامی مودی حکومت ہلا سکتا ہے؟

بھارت میں سوشل میڈیا پر ’ریزائن مودی‘ اور ’مودی میڈ ڈیزاسٹر‘ جیسے ٹرینڈ کرونا وبا سے نمٹنے میں وزیر اعظم کی ناکامی پر ان کے خلاف عوامی غم و غصے کی غمازی کر رہے ہیں۔

 10 اپریل کی اس تصویر میں مغربی نبگال میں بی جے پی کی ایک ریلی میں ایک خاتون وزیر اعظم نرندر مودی کا ماسک اٹھائے(اے ایف پی)

اتوار کو بھارت میں ایک روز کے دوران تقریباً ساڑھے تین لاکھ کرونا (کورونا) کیس سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اعتراف کیا کہ اس وبا نے ملک میں تباہی مچا رکھی ہے۔

اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں نریندر مودی کا کہنا تھا: ’میں آپ سے ایک ایسے وقت پر مخاطب ہوں جب کووڈ 19 ہمارے درد سہنے کی طاقت اور صبر کا امتحان لے رہا ہے۔ ہمارے بہت سے پیارے ہمیں وقت سے پہلے چھوڑ کر چلے گئے۔‘

ویکسینیشن کی اہمیت کا اعادہ اور احتیاطی ایس او پیز کی پیروی کی تلقین کرتے ہوئے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا: ’پہلی لہر سے کامیابی سے نمٹنے کے بعد قوم کا حوصلہ بلند تھا اور وہ پراعتماد تھے لیکن اس (کرونا کی دوسری لہر کے) طوفان نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘

تاہم ایک ہفتہ قبل ان کا پیغام اس سے قدرے مختلف تھا۔

مغربی بنگال میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ماسک کے بغیر اپنے حامیوں کے سمندر کو ہاتھ ہلاتے ہوئے مودی نے فخریہ انداز سے یہ اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ’اتنے بڑے ہجوم کو پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘

ان کی انتخابی ریلیاں 22 اپریل تک بڑے پیمانے پر بلا تعطل جاری رہیں یہاں تک کہ جب بھارت اس غیر معمولی سانحے کی زد میں آ گیا جہاں آکسیجن کی سپلائی اور ہسپتال کے بستر بیماروں کے لیے کم پڑ گئے اور مایوس عوام کی مارے مارے پھرتے ہوئی تصاویر اور ویڈیوز کا سوشل میڈیا پر سیلاب آ گیا۔

اس صورت حال کے بعد بھارت میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔

جیسا کہ آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن تھنک ٹینک سے وابستہ مایا میرچندانی نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’ہماری حکومت نے عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے جو ہسپتالوں میں بستر، آکسیجن، ویکسین اور دوائیوں کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ اس صورت حال نے ہمیں ایک ناکام ریاست بنا دیا ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں: ’مودی زبردست اختیار رکھتے ہیں۔ وہ ایک طویل عرصے سے بھارت میں سب سے زیادہ مقبول وزیر اعظم ہیں۔ ان کا مینڈیٹ حیرت انگیز ہے۔ یہ مودی کے لیے وہی وقت تھا جب انہیں ان لوگوں کے لیے کھڑا ہونا چاہیے تھا جنہوں نے انہیں منتخب کیا تھا۔‘

اس کے علاوہ بھارت کی متعدد اہم ریاستوں کے رہنماؤں نے بھی مودی پر اس وقت انتخابی مہم جاری رکھنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا جب انفیکشن میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔

مہاراشٹر، جس کا درالحکومت ممبئی بھارت کا تجارتی مرکز ہے، کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ جب انہوں نے میڈیکل آکسیجن اور ادویات کی کمی پر بات کرنے کے لیے وزیر اعظم کو فون کرنے کی کوشش کی تو انہیں بتایا گیا کہ مودی انتخابی جلسوں سے خطاب کرنے میں مصروف ہیں۔

یہاں تک کہ مودی کی اپنی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک اہم رہنما اور سابق وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

 

یشونت سنہا نے ٹوئٹر پر لکھا: ’کووڈ کے وقت آسنول کے انتخابی جلسے میں ایک بہت بڑے مجمع کو دیکھ کر نہال ہونے والے وزیر اعظم کی خوشی کا اظہار صرف اسی شخص کی طرف سے ہوسکتا ہے جو مکمل طور پر بے حس ہو۔ میں ان کے بیان کی مذمت کرتا ہوں۔‘

میرچندانی نے بھی اسے ’قیادت کی مکمل ناکامی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 70 سالہ مودی کو بروقت انداز میں اس بحران سے نمٹنے میں اپنی ناکامی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے۔

ان کے بقول: ’وہ (مودی) صرف بی جے پی ووٹرز کے وزیر اعظم نہیں۔ وہ ہم جیسے ایک ارب 30 یا 40 کروڑ بھارتیوں کے وزیر اعظم ہیں۔ انہیں ہم سب کو جواب دینے ہیں۔ ہم اس صورت حال میں کیوں ہیں؟ لوگ مکھیوں کی طرح کیوں مر رہے ہیں؟ کیوں شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں نے اپنے دروازے بند کر دیے ہیں اور لاشوں کا سڑکوں پر انبار لگا ہوا ہے؟‘

مودی اور ان کی انتظامیہ کی طرح دیگر سینیئر شخصیات نے بھی موجودہ بحران کو ایک ’طوفان‘ کے طور پر بیان کیا جس کے بارے میں کوئی توقع بھی نہیں کرسکتا تھا اور نہ ہی اس کے لیے تیار ہوسکتا ہے حالانکہ ماہرین کچھ عرصے سے دوسری لہر کے حوالے سے خبردار کر رہے تھے۔

ماضی میں بی جے پی سے وابستہ اعداد و شمار کے تجزیہ کار اور ’ہاؤ ٹو وِن این اینڈین الیکشن‘ کتاب کے مصنف شیوم شنکر سنگھ کے مطابق حکومت دو ممکنہ وجوہات کی بِنا پر وبا کی دوسری لہر کی پیش گوئی کرنے میں ناکام رہی۔

انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’ایک وجہ جو سب نے نوٹس کی وہ یہ تھی کہ وہ انتخابی مہم میں بہت زیادہ مصروف تھے اور دوسری یہ کہ ان کا خیال تھا کہ دوسری لہر بھی پہلی لہر کی طرح گزر جائے گی لہٰذا انہوں نے سوچا کہ پہلے سے اعلان کردہ فتح کو مشکوک بنانے کی ضرورت نہیں۔‘

ایسا 20 اپریل تک نہیں تھا جب وزیر اعظم مودی نے وبا سے نمٹنے پر بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تنقید کے بعد کیسز میں ہوشربا اضافے پر قوم سے خطاب کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جیسا کہ میرچندانی کا کہنا تھا: ’میرا خیال ہے کہ جب عالمی میڈیا نے حکومت کی جانب سے عوام کو نظر انداز کرنے پر خبریں دنیا بھر میں چلائیں تو اسی وجہ سے وہ باہر آنے پر مجبور ہوئے۔‘

شیوم شنکر سنگھ کو لگتا ہے کہ وزیر اعظم کی خاموشی ایک حکمت عملی کا حصہ تھی جس کا مقصد صرف احتساب سے بچنا نہیں تھا بلکہ خود کو بطور نجات دہندہ رہنما کی حیثیت سے پیش کرنا بھی تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’ایسا عین ممکن ہے کہ وزیر اعظم نے جان بوجھ کر انتخابی مہم جاری رکھی تاکہ وہ اس بحران کے خاتمے کا انتظار کر سکیں اور معاملات بہتر ہونے کے بعد عوام کے سامنے آئیں تاکہ وہ خود کو اس بہتری کا حقدار ثابت کریں نہ کہ بحران، ناکامی اور خوف و ہراس کے لیے ذمہ دار ٹھہرائے جائیں۔‘

وزیر اعظم مودی کے خلاف آن لائن غم و غصہ بڑھ رہا ہے جیسا کہ ٹوئٹر اور فیس بک پر ’ریزائن مودی‘ اور ’مودی میڈ ڈیزاسٹر‘جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

تاہم اس سے بھی کم واضح بات یہ ہے کہ موجودہ بحران کے مودی حکومت پر سیاسی اثرات آن لائن تنقید سے بھی زیادہ ہوں گے۔

یہ وہی مودی ہیں جن کو بہت زیادہ عوامی حمایت حاصل ہے۔ وہ سب سے زیادہ عوامی مقبولیت رکھنے والے رہنما ہیں جن کی مقبولیت کی شرح بھی 80 فیصد سے اوپر ہوتی ہے اور جنہوں نے 2019 کے عام انتخابات میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی تھی۔

شیوم شنکر سنگھ کا اصرار ہے کہ یہاں تک کہ اس پیمانے کی کسی آفت سے بھی انہیں ہلایا نہیں جا سکتا۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’وبا کی دوسری لہر سے نمٹنے میں ناکامی کی وجہ سے بلا شبہ ان کی شبیہہ اور حمایت کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔‘

سنگھ نے کہا: ’ان (مودی) کے لیے جو سب سے خراب بات یہ ہے کہ بی جے پی کے بہت سارے حامی بھی حکومت کی ناکامیوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں کیونکہ وہ ذاتی طور پر وبا کے نتائج کا سامنا کر رہے ہیں۔ جبکہ وہ قائدین جن کی انہوں نے حمایت کی تھی، یہ دعویٰ کرتے ہوئے بحران سے انکار کرتے ہیں کہ ملک میں ضروری دوائیوں، آکسیجن اور ہسپتال کے بستروں کی کوئی کمی نہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھاکہ ’لیکن یہ بیانات عوام کے اپنے تجربے کے منافی ہیں کیونکہ انہیں ان تمام نایاب ضروری اشیا کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑ رہی ہیں۔‘

مغربی بنگال اور کئی دیگر ریاستوں اور خطوں میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کا اعلان چند روز بعد یعنی دو مئی کو کیا جائے گا اور یہ اس بات کا پہلا اشارہ ہو گا کہ وبا کی دوسری لہر نے حکمران جماعت کی حمایت کو کس قدر متاثر کیا ہے۔

لیکن اگر اب تک بطور وزیر اعظم ان سے کوئی بات سیکھی جا سکتی ہے تو وہ یہ کہ نریندر مودی کی ضبط کرنے کی صلاحیت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا