ابھرتا گوادر اور ڈوبتا ماہی گیر

خلیجی ممالک جیسے کہ عمان، کویت، بحرین کے علاوہ گوادر سے بمبئی اور افریقی ممالک جیسے کہ ممباسا اور صومالیہ سے بھی تجارت کی جاتی ہے۔

گوادر کو مچھیروں کی بستی کہا جانا غلط نہ ہوگا(تصویر: شاہد مجید)

پیشکان گوادر کے سنہرے ریتلے سمندر کے کنارے بیٹھے ناکو دارو کسی گہری سوچ میں گم تھے۔ کھلے آسمان تلے سمندر کی خطرناک لہروں کے درمیان دو ماہ گزارنے والا ناکو دارو بظاہر تو جالوں کی مرمت کر رہا تھا لیکن اس شہر گوادر کے تقریباً 70 فیصد بسنے والے لوگوں کی طرح یہ بات اسے بھی پریشان کر رہی تھی کہ اس بار کی پتی (سمندر کی کمائی سے حاصل کی گئی رقم) اتنی ہوگی کہ وہ اپنے گھر کے اخراجات پورے کر پائے۔

گوادر کو مچھیروں کی بستی کہا جانا غلط نہ ہوگا اور اس روزگار سے وابستہ صنعت کو فشریز کہا جاتا ہے۔ یوں تو بلوچستان کی پوری ساحلی پٹی اسی روزگار سے وابستہ ہے لیکن گوادر کو یہ خاص اہمیت حاصل ہے کہ قدرتی طور پر ’ڈیپ سی‘ یا گہرا سمندر ہونے کی وجہ سے یہاں پورا سال ماہی گیری کرنا ممکن ہے۔ اس لحاظ سے تو ناکو دارو کو خوشحال ہونا چاہیے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

گوادر شہر کی اپنی ایک تاریخی اور جغرافیائی حیثیت کے ساتھ ساتھ اس کی اپنی تجارتی حیثیت کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ خلیجی ممالک جیسے کہ عمان، کویت، بحرین کے علاوہ گوادر سے بمبئی اور افریقی ممالک جیسے کہ ممباسا اور صومالیہ سے بھی تجارت کی جاتی ہے۔

کوہ باطل سے دلکش نظر آنے والا یہ شہر 2016 میں نواز شریف کے دور حکومت میں خبروں کی زینت بنا۔ کسی نے اسے سی پیک کا جھومر قرار دیا تو کسی نے آنے والے وقتوں میں اس شہر کی تشبیہ دبئی اور سنگاپور سے کی۔ گوادر پورٹ سٹی ایک نیا نام ابھر کر سامنے آیا اور اسی سال چین نے بندرگاہ کی تعمیر شروع کر دی۔

ترقی کسے اچھی نہیں لگتی، خوشحالی کے دن کون نہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ جہاں گوادر پورٹ کے ساتھ ساتھ جو اب تک تجرباتی طور پر آپریشنل ہوچکا ہے وہاں گوادر ایئرپورٹ پر کام بھی تیزی سے جاری ہے۔

عملی طور پر ہونا یہ چاہیے تھا کہ چونکہ اس پورے شہر کا انحصار ماہی گیری پر ہے تو اس شعبے پر خصوصی طور پر توجہ دی جاتی مگر افسوس اسے گوادر کی ترقی کے تناظر میں بری طرح نظر انداز کیا گیا۔

یہ صنعت کس قدر منافع بخش ہوسکتی ہے اس کا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ بی این پی کے موجودہ ایم پی اے حمل کلمتی، سابق قومی اسمبلی کے رکن بی این پی عیسیٰ نوری اور نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاست دان گوادر اور پسنی میں فش پروسس کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ یہ کاروبار کامیابی سے کافی عرصے سے چلا رہے ہیں۔

مندرجہ ذیل مسائل اگر حل کیے جائیں تو گوادر کا ہر ماہی گیر اس صنعت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

1۔غیرقانونی ٹرالنگ

بلوچستان کے زرخیز سمندر میں کئی اقسام کی نایاب مچھلیاں پائی جاتی ہیں جن کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں دو ہزار سے زائد اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔

گوادر ماہی گیر اتحاد کے ترجمان یونس انور کے مطابق سندھ سے بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں غیر قانونی ٹرالنگ کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے جوکہ نہ صرف بلوچستان کے ماہی گیروں کے حق پر ڈاکہ ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ان نایاب آبی حیات کی نسل کشی ہے۔

یہ غیر قانونی ٹرالرز اپنے منافع کے چکر میں جس طرح کا جال شکار کے لیے استعمال کرتے ہیں جن میں مچھلیوں کے ساتھ ساتھ ان کے انڈے بھی لے جاتے ہیں۔ ان غیر قانونی ٹرالرز کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے ان کے حوصلے مسلسل بڑھ رہے ہیں اور اب وہ رات کے علاوہ دن میں بھی غیرقانونی شکار کرتے ہوئے کسی قسم کا کوئی خوف محسوس نہیں کرتے۔

یہی وجہ ہے کہ ’گواننر‘ اور ’یالوار‘ نامی قیمتی مچھلی اب گوادر کے ساحل پر ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ یونس انور نے اس سلسلے میں مزید بتایا کہ مقامی ماہی گیر قرض لے کر سمندر میں کئی ماہ گزارنے کے باوجود وہ نفع نہیں کما سکتے جو یہ غیرقانونی طور پر ٹرالنگ کے ذریعے کمایا جاتا ہے کیونکہ یہاں کا مقامی ماہی گیر ان حصوں میں کبھی بھی شکار نہیں کرتا جہاں ان آبی حیات کی افزائش ہوتی ہے۔

2۔ محکمہ فشریز کا کردار

مسلسل غیرقانونی ٹرالنگ محکمہ فشریز کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔ گوادر اے ڈی سی اطہر عباس کے مطابق چند ماہ قبل ایک ضلعی میٹنگ کے دوران MSA (میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی) نے بتایا کہ پندرہ سے زائد غیر قانونی ٹرالر انہوں نے دو ماہ میں پکڑے جبکہ محکمہ فشریز نے اتنی تعداد میں دو سال میں بھی نہیں پکڑ پائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک مقامی ماہی گیر کے مطابق ایک تو ناکارہ اور عام بوٹس کے ذریعے پیٹرولنگ ممکن ہی نہیں اور  پیٹرولنگ نہ کرنے کی وجہ سے ان بوٹس کے انجن میں زنگ لگ جائے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ آپ اپنے ساحلی حدود کی پیٹرولنگ کرسکتے ہیں۔

البتہ مناسب پیٹرولنگ نہ ہونے کے باوجود کروڑوں روپے پیٹرول کی مد میں خرچ کر لیے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں مقامی ماہی گیر وقتاً فوقتاً احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن مقامی اور صوبائی پیمانے پر کارروائیاں نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ عدم توجہی کا شکار ہے۔

پچھلے ماہ نیب بلوچستان نے فشریز بلوچستان کے سابق سیکریٹری آفتاب احمد بلوچ، ڈائریکٹر جنرل منیر موسانی کو گرین فائبر کلاس بوٹوں کی خریداری، جہازوں کی نگرانی کا نظام اور غیر اہل کمپنیوں سے معاہدے کے الزام میں گرفتار کیا۔

3۔ صنعت لیکن ماہی گیر لیبر لا کا حصہ نہیں

فشریز پہلے محکمہ فوڈ کا حصہ رہا لیکن غوث بخش بزنجو اور اس وقت کی حکومت نے فشریز کو ایک علیحدہ محکمے کا درجہ دیا لیکن آج تک اسے لیبر سوشل سکیورٹی نہیں دی گئی۔

2013میں بلوچستان اسمبلی میں ایک قرار داد کے طور پر اسے پیش کیا گیا لیکن افسوس کہ اتنے اہم موضوع پر کوئی پیش رفت ممکن نہ ہوسکی جس کے تحت مقامی ماہی گیروں کو لیبر قرار دیا جائے۔

ماہی گیروں سے منسلک تنظیموں نے اس اہم مسئلے کے حل کے لیے کئی مرتبہ درخواستیں جمع کروائیں لیکن صوبائی حکومتوں سے لے کر اپوزیشن تک کسی نے اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں دکھائی۔

بلوچستان جس کا اہم ترین حصہ اسی ساحلی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اگر یہاں کے ماہی گیروں کو سوشل سکیورٹی کا حصہ بنا دیا جائے تو معاشی طور پر یہاں کے رہنے والوں کے لیے ایک خوش آئند اقدام ہوگا اور سی پیک کی وجہ سے بلوچستان کے تحفظات اور خدشات کی اس فضا میں لوگوں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد حاصل ہوسکے گی۔

جہاں گوادر اب وفاقی حکومت کی توجہ کا اہم مرکز بن گیا ہے اور یہ نیا آنے والا حکمران اس شہر کی ترقی کو پاکستان کی ترقی قرار دیتا ہے وہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ گوادر کے بنیادی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ مقامی ماہی گیروں کی جدید ٹریننگ جس میں فشنگ سے لے کر کشتی سازی اور پروسیسنگ پلانٹس کے لیے ٹریننگ سینٹرز انتہائی اہم ہیں۔

چین کی امداد سے حاصل کیے گئے چند سولر پینلز یہاں کے مقامی افراد کی قسمت بدلنے میں اہم کردار ادا نہیں کرسکتے ہاں سکیورٹی کے مسائل اب تک حکومتوں کے لیے چیلنج ہیں۔ مقامی افراد کو مشاورت کا حصہ بنا لینے سے موجودہ وزیر اعظم پاکستان کی اہم ترین ترجحات سیاست اور ماحولیات دونوں کو فروغ حاصل ہوگا۔

جہاں ہم ملک میں ترقی کے پہیے کو آگے بڑھانے کے لیے مرغی اور کٹوں کے کاروبار کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں وہاں سمندر میں موجود آبی حیات کی افزائش نسل اور اس صنعت کو اس کا جائز حق دینے کی طرف صوبے اور وفاق کی سوچ سے بڑھ کر وسیع پیمانے پر اقدامات لینے ضروری ہیں۔ اگر مقامی افراد کو ان کے ثمرات حاصل نہ ہوسکے تو ترقی ہمارے لیے محض ایک خواب ہی ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ