ایران میں اونچی عمارت سے گر کے خاتون سوئس سفارت کار کی ہلاکت

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایرانی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان مجتبیٰ خالدی نے کہا ہے کہ سوئس سفارت کار کی لاش ایک مالی نے دیکھی۔

(تہران کی ایک ہائی رائز عمارت پہ امریکہ مخالف نعرے: فوٹو فائل، اے ایف پی)

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران میں سوئس سفارت خانے کی فرسٹ سیکرٹری منگل کو ایک بلند عمارت سے گرنے کے بعد مردہ پائی گئیں، سفارت کار اسی عمارت میں رہائش پذیر تھیں۔

سوئس وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’تہران میں سوئس سفارت خانے کی ایک ملازم حادثے کا شکار ہو کر جان گنوا بیٹھی ہیں۔‘

حادثے کی شکار ملازم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
سوئس وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ'ایف ڈی ایف اے اور اس کے سربراہ فیڈرل قونصلر انیازیوکاسس کو سفارت کار کی افسوسناک موت پر گہرا صدمہ پہنچا ہے اور وہ متاثرہ خاندان کے ساتھ دلی تعزیت اظہار کرتے ہیں۔'

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایرانی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان مجتبیٰ خالدی نے کہا ہے کہ سوئس سفارت کار کی لاش ایک مالی نے دیکھی۔

اس سے پہلے سوئس سفارت خانے کے اہلکارمنگل کی صبح سفارت کار کی رہائش گاہ پر پہنچے تھے جنہوں نے دیکھا کہ سفارت کار رہائش گاہ پر موجود نہیں ہیں۔

خالدی نے مہر نیوزایجنسی کو بتایا ہے کہ مرنے والی شخصیت سوئس سفارت خانے میں فرسٹ سیکرٹری تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک موت کی وجہ کا تعین کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے'ارنا'کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والی سوئس سفارت کار کی عمر51 برس تھی۔ 

1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ کے سفارتی تعلقات ختم ہو گئے تھے جس کے بعد سوئٹزرلینڈ ایران میں امریکی سفارتی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایرانی پولیس نے سوئس سفارت کار کی موت کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

50 سے زائد عمر کی خاتون سفارت کارشمالی تہران میں واقع 20 منزلہ عمارت کی بالائی منزل سے گریں۔ان کی لاش ایک کارکن کو ملی جنہوں نے حکام کو ٹیلی فون کر کے اطلاع دی۔ سوئس وزارت خارجہ ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ سفارت کی اہلکار 'منگل کو پیش آنے والے ایک مہلک حادثے میںہلاک ہو گئی ہیں۔'وزارت خارجہ نے خاتون کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے تاہم کہا ہے کہ سوئس سفارت کار مقامی پولیس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا