ضم شدہ اضلاع کی خواتین کے مسائل، کوئی مسیحا باہر سے نہیں آئے گا

ہمارے مسائل کے حل کے لیے کوئی مسیحا باہر سے نہیں آئے گا، ہمیں اپنے مسائل کے حل کے لیے خود ایک ہونا پڑے گا۔

ضم شدہ اضلاع کی خواتین کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے خود اکٹھا ہونا ہو گا اور اپنے بنیادی حقوق اور ضروریات کا حصول ممکن بنانا ہو گا۔ اے ایف پی فائل فوٹو

 قبائلی علاقوں کا پاکستان میں ضم ہونا بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قبائلی علاقہ جات صدیوں سے ترقی کے عمل سے دور رہے ہیں اور یہاں تعلیم، روزگاراور صحت جیسی بنیادی سہولیات کا انتہائی فقدان رہا ہے۔

اوپر سے دہشت گردی اور انتہاپسندی نے لوگوں کی زندگی اجیرن کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

البتہ خوش آئند بات یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں کی طرح اس حکومت میں بھی ان نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اقدامات کیے جار ہے ہیں۔

 تاہم خواتین کی ترقی اور شمولیت کے حوالے سے اب بھی بہت سے امور توجہ طلب ہیں۔ اس میں کوئی دو آرا نہیں کہ قبائلی علاقو ں میں خواتین پہلے سے ہی بہت ساری مشکلا ت کا سامنا کر رہی ہیں۔

 خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور ناانصافی ایک عام اور قابل قبول رویہ ہے۔ سورہ، غیرت کے نام پر قتل، کم عمری کی شادی جیسی فرسودہ رسمیں مقامی رسم و رواج کا حصہ ہیں۔

 خواتین میں تعلیم کی شرح خطرناک حد تک کم ہے اور زچہ بچہ کی صحت کے حوالے سے صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔

ان مسائل کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، انتہا پسندی اور نقل مکانی نے یہاں کی خواتین اور بچوں کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ان کو ذہنی صدمے کا سامنا ہے، جن کے اثرات آج بھی ان کی زندگیوں پر ہیں۔

نئے ضم شدہ اضلاع میں ترقی اور خوشحالی تبھی ممکن ہے جب موجودہ حکومت اپنے ہر منصوبے میں خواتین کی ضروریات کی فراہمی اور مسائل کے حل کو بھی یکساں مد نظر رکھے، بصورت دیگر ان علاقوں اور یہاں کی عوام کی ترقی اور خوشحالی ممکن ہی نہیں۔معاشرے میں مساوات اور برابری کا پرچار حکومتِ وقت اور اس کے اداروں کو ملحو ظ خاطر رکھنا ہو گا۔

جب حکومتِ وقت اور اس کے ادارے خواتین کی ضروریات اور مسائل کے حل پر توجہ نہیں دیتے تو اس کے عوام بھی انہی امتیازی رویوں کو اپناتے ہیں اور خواتین کو ایک برابر کے انسان کے بجائے اپنا ذاتی جائیداد سمجھنے لگتے ہیں اور ان کے حقوق کی پاسدرای کے بجائے ان کے حقوق کی پامالی کرتے ہیں۔

اس کی ایک مثال مقامی جرگے بھی ہیں جہاں سورہ، غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں خواتین کے ساتھ سراسر ناانصافی کی جاتی ہے۔ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور ناانصافی کو ختم کرنا ہم سب کے لیے ایک چیلنج ہے جو اُسی وقت حل ہو گا جب ہم سب اس کو ایک مشترکہ مسئلہ سمجھتے ہوئے اس کے سد باب کے لیے کام کریں گے۔

دو ماہ قبل موجودہ حکومت نے نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے سو ارب روپے کی لاگت کا ترقیاتی منصوبہ تشکیل دیا ہے۔ اس ترقیاتی منصوبے کی ترجیحات میں تعلیم، صحت، روزگار، امن وامان، تحفظ اور سیاحت شامل ہیں۔

منصوبے کے آغاز میں ہی مقامی لوگوں کی رائے اور مشورے شامل کرنے کے لیے مقامی سطح پر بحث ومباحثے شروع کیے گئے۔

لیکن یہاں یہ بات توجہ طلب ہے کہ اس عمل میں خواتین کو بالکل ہی نظر انداز کیا گیا۔ خواتین کی رائے اور نقطۂ نظر اتنا ہی اہم ہے جتنا مردوں کی رائے۔

سو ارب روپے کا یہ منصوبہ صرف ایک مثال ہے جو اس رویے کی شناخت کرتا ہے کہ خواتین کی ضروریات اور ان کے مسائل کا حل اب بھی موجودہ حکومت اور اس کے اداروں کی ترجیح نہیں، جو کہ ایک افسوسناک امر ہے۔ 

 اس ہفتے الیکشن کمیشن نے نئے ضم شدہ اضلاع میں عام انتخابات کا شیڈول شائع کر دیا ہے۔ یہ الیکشن ان اضلاع کے روشن اور ترقی یافتہ مستقبل کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

 تاہم ان انتخابات میں خواتین کی بھرپور شمولیت بے حد ضروری ہے کیونکہ سیاسی عمل سے خواتین کو دور رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ خواتین اس ملک کی برابر شہری ہیں ہی نہیں۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ اب قانون کے مطابق خواتین کو جنرل نشستوں میں پانچ فی صد کوٹہ دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یہاں پر اب سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس سلسلے میں نہ صرف خواتین کی حوصلہ افزائی کریں بلکہ ان کا ساتھ دیں اور اس کوٹے کی صورت میں خواتین کو ان علاقوں میں نشستیں دیں جہاں پر ان کے جیتنے کے مواقع زیادہ ہوں۔

گذشتہ سال خیبر پختونخوا میں عام انتخابات کے دوران پانچ فی صد کوٹے کےتحت خواتین کو نشستیں تو دی گئیں لیکن صرف ان علاقوں میں جہاں پر خواتین کو سیاست میں شمولیت میں زیادہ مشکلات کا سامنا تھااور امن و امان کی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں تھی۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر خواتین الیکشن ہار گئیں لہٰذا اس مشاہدے کو نظر میں رکھتے ہوئے سیاسی پارٹیوں کو اس دفعہ ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہو گا۔

ماضی میں ہم سب نے خیبر پختونخوا میں خواتین کے ووٹ پر مقامی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں کی طرف سے پابندی دیکھی، جس کے حوالے سے عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکنان اور اداروں کی کوششوں اور لابنگ کے بعد الیکشن کمیشن نے قانونی طور پر یہ لازم قرار دیا کہ جس حلقے میں خواتین کے ووٹ 10 فیصد سے کم ہوں گے وہاں پر انتخابات کالعدم قرار دے دیے جائیں گے۔

اس کی مثال ہمیں ضلع دیر میں دو دفعہ الیکشن کالعدم ہونے کی صورت میں سامنے نظر آئی۔

ہمیں امید ہے کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں انتخابات میں خواتین کو اس قانون سے فائدہ ہو گا اور مقامی سیاسی جماعتیں اور سماجی رہنما خواتین کے ووٹ کے عمل میں رکاوٹ بننے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

 ترقی اور خوشحالی کا خواب آدھی آبادی کے مسائل اور ضروریات کونظر انداز کر کے کبھی بھی پورا نہیں ہو سکتا۔ جن قوموں نے اس آدھی آبادی کو برابر انسان اور شہری سمجھا وہ قومیں تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کر رہی ہیں۔

 قبائلی علاقوں میں رہنے والی خواتین اور بچیاں بہت ہی باصلاحیت ہیں اور شروع دن سے اپنے خاندان اور معاشرے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔

لیکن یہ خواتین اور بچیاں ہر لمحے امتیازی سلوک اور نا انصافی کا شکار ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں کھل کراور ابھر کر سامنے نہیں آرہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب انفرادی اور اجتماعی طور ہر ایک متوازی معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس مد میں موجودہ حکومت اور تمام اداروں کو خواتین کی شمولیت کو ہر سطح پر ممکن بنانے کی لیے اقدامات کرنے ہوں گے، بصورت دیگر ان ضم شدہ اضلاع کی خواتین کے مسائل وہیں کے وہیں رہیں گے اور اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ضم شدہ اضلاع کی خواتین کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے خود اکٹھا ہونا ہو گا اور اپنے بنیادی حقوق اور ضروریات کا حصول ممکن بنانا ہو گا۔

بہت سی خواتین جن کا تعلق ان اضلاع سے ہے ، پہلے سے ہی مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ تاہم جس طرح سے آج تک خواتین نظر انداز ہو رہی ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے نہ صرف ان کو اپنی کوششیں تیز اور پُراثر کرنی ہوں گی بلکہ انہیں بڑی تعداد میں دوسری خواتین کو ساتھ شامل کر کے اپنا موقف کھل کر سامنے لانا ہو گا۔

ہمارے مسائل کے حل کے لیے کوئی مسیحا باہر سے نہیں آئے گا، ہمیں اپنے مسائل کے حل کے لیے خود ایک ہونا پڑے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر