بھارت میں احتجاج کرتے کسان تعلیم بانٹنے لگے

غازی پور بارڈر پر احتجاج میں شریک کسان ایک جھونپڑی میں بنائے گئے عارضی سکول میں بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔

دارالحکومت نئی دہلی کے قریب غازی پور بارڈر پر جاری بھارتی پنجاب کے کسانوں کا احتجاج کئی بچوں کی تعلیم کا ذریعہ بن گیا ہے، جہاں احتجاج پر آئے کسان ایک جھونپڑی میں بنائے گئے عارضی سکول میں بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔

اس سکول کو ’پاٹ شالا ‘ کا نام دیا گیا ہے جو ایک سماجی تنظیم ماتا ساوتری بائی پھلے مہا سبھا کے تعاون سے بنایا گیا ہے۔ پاٹ شالا میں پڑھنے والے طلبہ کی بڑی تعداد ایسی ہے جو پہلے کبھی سکول نہیں گئے۔

اس سماجی تنظیم کو چلانے والی خاتون نردیش سنگھ کا کہنا ہے کہ بچوں کو سارا دن ادھر ادھر گھومتے دیکھ کر انہیں یہ سکول بنانے کا خیال آیا۔

یوں تو اس علاقے میں کسانوں نے بہت سی عارضی جھونپڑیاں بنا رکھی ہیں مگر ان میں پاٹ شالا کی جھونپڑی سب سے نمایاں ہے، جہاں سے بچوں کے پڑھنے کی آوازیں آتی رہتی ہیں۔

محمد سعیدر بھی پاٹ شالا میں پڑھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا: ’ہم کبھی بھی سکول نہیں گئے۔ بس ادھر ہی آ کر  پڑھائی کرتے ہیں۔ یہاں پر ہمیں انگریزی حروف تہجی اور 11 تک پہاڑے بھی آتے ہیں۔ جب سے کسانوں کا احتجاج شروع ہوا ہے، تب سے ہم یہاں پڑھنے آتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک سابق کسان اور سکول میں رضاکارانہ طور پر پڑھانے والے محمد نواب نے بتایا کہ یہاں 150 بچے زیر تعلیم ہیں۔

پاٹ شالا میں بچوں کو رضا کارانہ طور پر پڑھانے والے راکیش کمار نے بتایا: ’میں بھی کسان ہوں اور احتجاج کے لیے آیا ہوں، مگر دو مہینے سے یہاں پر بچوں کو پڑھا رہا ہوں۔ یہاں پر کچھ بچے کوڑا اٹھاتے ہیں اور لاک ڈاؤن میں سکول بند ہو گئے ہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے جانے کے بعد ان بچوں کا نزدیک ترین سکول میں داخلہ کروا دیا جائے اور جو بچے پڑھائی میں اچھے ہیں انہیں ہاسٹل میں داخل کروانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔‘

بھارتی پنجاب کے کسان گذشتہ کئی ماہ سے نئی دہلی کے بارڈرز پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑے احتجاج سنگھو، تکری اور غازی پور بارڈرز پر ہو رہے ہیں۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ نئے زرعی قوانین کو کالعدم قرار دیا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس