'بچوں کو کیا جواب دیں گے':خواتین بھی بھارتی کسانوں کے احتجاج کا حصہ

کسانوں کے دھرنے میں شریک پرمیندر کور کے مطابق یہ طویل لڑائی ہے، ’کم از کم ہم فخر کے ساتھ اپنی آئندہ نسلوں کو بتا تو سکتے ہیں کہ ہم نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔‘

بھارت کے دیہی منظر نامے میں مردوں کی بالادستی کا تاثر عام ہے لیکن متنازع زرعی قوانین کے خلاف نئی دہلی کی سڑکوں پر جاری کسانوں کے احتجاج میں ہزاروں خواتین حکومت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔

احتجاج میں مویشی پالنے اور کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین سے لے کر پروفیشنل ورکرز اور ویل چیئرز پر بیٹھی بزرگ خواتین حکومت کی زراعت کے شعبے میں متعارف کرائی گئی متنازع مارکیٹ اصلاحات کو واپس لینے کے مطالبے کے ساتھ منجمد کر دینے والی سردی کا بہادری سے مقابلہ رہی ہیں۔

دن کے وقت ریلیوں میں نعرے لگانے اور شام کو دسیوں ہزار مظاہرین کے لیے کھانا بنانے میں مدد کرنے والی 40 سالہ پرمیندر کور کا کہنا ہے کہ ’میں اپنے بچوں اور اپنے پوتے، پوتیوں کے لیے یہ جنگ لڑ رہی ہوں۔‘

بھارت میں زراعت کے شعبے میں خواتین کو روایتی طور پر ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، جہاں وہ مردوں کے شانہ بشانہ فصلوں کی بوائی اور کٹائی سے لے کر تمام مراحل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور اس سب کے باوجود انہیں غربت، گھریلو تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

غربت کے خلاف سرگرم عالمی تنظیم ’آکسفیم‘ کے مطابق بھارت کے دیہی علاقوں میں تقریباً 85 فیصد خواتین کسی نہ کسی طرح کی زرعی سرگرمیاں میں حصہ لیتی ہیں لیکن اس سب کے باوجود صرف 13 فیصد خواتین کو زمینوں کے مالکانہ حقوق حاصل ہیں۔

تاہم پرمیندر کور کو کسانوں کے حقوق کے دفاع کے لیے مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے پر فخر ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو اصلاحات کے نام پر تین متنازع قوانین پر تنقید کا سامنا ہے، جن کے تحت کسانوں کو اپنی گندم اور چاول جیسی بڑی فصلوں کو فری مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سے قبل دہائیوں سے حکومت کسانوں سے براہ راست یہ فصلیں گارنٹیڈ داموں پر خریدتی تھی۔

حکومت کا اصرار ہے کہ ان اصلاحات سے ایسے شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا جو بھارت کی 1.3 ارب آبادی میں سے دو تہائی افراد کو ملازمتیں فراہم کرتا ہے لیکن اس کا معیشت میں صرف 15 فیصد حصہ ہے۔

دوسری جانب کسان رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں کارپوریٹ سیکٹر کے ذریعے زرعی کاروبار پر قبضہ کیا جائے گا۔ پرمیندر کور کے خاندان کے پاس دو ایکڑ زمین ہے جہاں وہ گندم کاشت کرتے ہیں۔

کور نے کہا: ’یہ زمین ہمارے لیے سب کچھ ہے۔ یہ ہماری ماں کی طرح ہے۔ وہ ہماری ماں کو ہم سے دور کرنا چاہتے ہیں، ہم اس کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟‘

احتجاج سے تشدد اور کشیدگی کا خطرہ

دہلی کے ایک غیر سماجی ادارے ’سینٹر فار سوشل ریسرچ‘ کی سربراہی کرنے والی رانجنا کماری نے کہا کہ ایک ایسی صورت حال میں جب کہ خواتین زمین کی مالک نہیں ہیں، انہیں خدشہ ہے کہ آمدنی میں کمی سے ان کے گھروں کے اخراجات بری طرح متاثر ہوں گے۔

کماری نے کہا: ’جب خاندان میں آمدنی کم ہو جاتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ اثر خواتین کی صحت اور بھلائی پر پڑتا ہے۔ کم آمدنی کا مطلب مردوں کے ہاتھوں تشدد اور زیادہ تناؤ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ (خواتین) ان قوانین کے بارے میں ناراض ہیں اور اس کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔‘

کئی رہنماؤں نے مظاہروں میں خواتین کی فعال شرکت کو سراہا ہے۔ ریاست ہریانہ کے ایک کاشت کار خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون رہنما رعنا بھٹی نے کہا کہ احتجاج خواتین کے لیے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

خواتین کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے بھٹی نے کہا: ’میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ ہم تمام محاذوں پر گامزن ہوں اور اس مغرور حکومت کے چیلینج کا مقابلہ کریں۔‘

رانجنا کماری کے بھی ایسے ہی تاثرات ہیں جن کا کہنا ہے کہ خواتین پہلے سے کہیں زیادہ سیاسی طور پر باشعور ہیں۔ کسانوں کی تحریک کی وجہ سے شہری خواتین بھی ان کی ہم آواز بن چکی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جینز اور شال میں ملبوس 33 سالہ آرٹس اور فلم ساز جیسی سنگھا پہلے روز سے اس احتجاج میں شامل ہیں۔ وہ کسانوں کے لیے ہفتہ وار دو اخبار نکالنے میں مدد اور کیمپ میں بچوں کے لیے تعلیم کا اہتمام کرتی ہے۔ سنگھا نے کہا: ’میں اپنا کام چھوڑ کر اس میں شامل ہوئی ہوں، ہمیں لڑنا ہے یا ہم ختم ہو جائیں گے۔‘

خیال رہے کہ کسانوں نے 26 نومبر کے بعد سے درالحکومت نئی دہلی کی اہم شاہراہوں کو بلاک کر رکھا ہے۔ ادھر حکومت نے مظاہرین سے خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو واپس اپنے گھروں بھیجنے کی اپیل کی ہے کیونکہ بھارت کو تین دہائیوں بعد سرد ترین موسم کا سامنا ہے۔

لیکن دو بچوں کی ماں پرمیندر کور نے کہا کہ یہ طویل لڑائی ہے۔ ’کم از کم ہم فخر کے ساتھ اپنی آئندہ نسلوں کو بتا سکتے ہیں کہ ہم نے (ظلم کے خلاف) اپنی آواز اٹھائی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا