ٹوکے، ہتھوڑی اور آگ سے بال کاٹنے والے ہیئر سٹائلسٹ

پاکستان میں علی عباس نامی ہیئر ڈریسر  بال کاٹنے کے اپنے منفرد انداز کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہرت حاصل  حاصل کر چکے ہیں۔

پاکستان میں علی عباس نامی ہیئر ڈریسر  بال کاٹنے کے اپنے منفرد انداز کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہرت حاصل  حاصل کر چکے ہیں۔

اگر آپ اب تک ان کے بال کاٹنے کے اس منفرد انداز کے بارے میں نہیں جانتے تو ہم بتائے دیتے ہیں۔

لاہور کے ہیئر سٹائلسٹ علی عباس اپنے گاہکوں کے بال ٹوکے، ہتھوڑی اور آگ سے کاٹتے ہیں۔

پہلے وہ بھی عام سٹائلسٹس کی طرح قینچی سے بال کاٹا کرتے تھے مگر پھر انہوں نے کچھ نیا کرنے کا سوچا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹوکے ہتھوڑی اور آگ سے گاہکوں کے بال کاٹنے کا فیصلہ مذاق نہیں تھا۔

’میں کچھ نیا کرنا چاہتا تھا کیونکہ شروع سے ہی مجھ میں کچھ نیا اور مخلتف کرنے کی آرزو رہی ہے۔‘

علی عباس خواتین گاہکوں کے بال کاٹتے ہوئے ٹوکے کو ہتھوڑی کی مدد سے ضرب لگاتے ہیں۔ ایسا کرنے سے انہیں بالوں کی فائن ٹیوننگ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ عمومی طور پر کسی کے سر یا گردن کے پاس تیز دھار آلہ رکھا جائے تو وہ گھبرائے بغیر نہیں رہ سکتا مگر غیر یقینی طور پر علی عباس کی خواتین گاہک خوشی سے ٹوکے اور ہتھوڑی کی مدد سے اپنے بال کٹواتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عروج بھٹی بھی علی عباس سے اپنے بال کٹواتی ہیں اور کئی مرتبہ یہ منفرد سروسز لے چکی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں بالکل بھی ڈر نہیں لگتا اور ’قینچی کی نسبت ٹوکے سے بال  بہتر کٹتے ہیں اس لیے میں اب ٹوکے سے ہی بال کٹوانے کو ترجیح دیتی ہوں۔‘

ہیئر سٹائل سیلون میں اس منفرد سروس کو لینے والوں میں مرد بھی شامل ہیں۔ کیونکہ مردوں کے بالوں کی لمبائی عمومی طور پر خواتین کے بالوں کی نسبت کم ہوتی ہے اس لیے علی عباس انہیں کاٹنے کے لیے آگ کا بھی استعمال کرتے ہیں۔

وہ منظر بہت دلچسپ ہوتا ہے جب گاہک کے سر پر آگ لگی ہوتی ہے مگر وہ پریشان ہونے کی بجائے بے فکری سے اپنے بال کٹنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

سر پر آگ لگوا کر بال کٹوانے والے ایک گاہک علی ثقلین نے بتایا کہ انہیں خوف محسوس نہیں ہوتا۔ ’آگ تو اوپر بالوں کو لگی ہوتی ہے جو سر کی جلد سے بہت دور ہوتی ہے۔ اس لیے لطف آ رہا ہوتا ہے۔‘

علی عباس کا دعویٰ ہے کہ جب سے انہوں نے ٹوکے، ہتھوڑی اور آگ سے بال کاٹنا شروع کیے ہیں تب سے ان کے پاس آنے والے گاہکوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔

انہوں نے یہ مشورہ بھی دیا کہ مشق کرنے سے کوئی بھی یہ فن سیکھ سکتا ہے۔

 ’جو یہ سیکھنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ پہلے ڈمی پر پریکٹس کرے۔ ڈمی کے بالوں کو قینچی سے، ٹوکے سے، ہتھوڑی سے اور آگ سے کاٹے۔ ایسا کرنے سے اس میں اعتماد پیدا ہو گا۔ جب خود اعتمادی آ جائے تو پھر آپ کچھ بھی کر ستکے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا