ایران 2003 میں ایٹم بم بنانے کے قابل ہو گیا تھا: رپورٹ

امریکہ میں جلد ہی شائع ہونے والے ایک کتاب کے مصنفین کا ماننا ہے کہ ایٹم بم بنانے کا ایرانی طریقہ ’مکمل طور پر اس کا اپنا ہے‘ اور اس میں کسی دوسرے ملک کے طریقے کی نقل نہیں کی گئی۔

کتاب کے مصنفین لکھتے ہیں کہ ایران مختصر وقت میں ایٹم بم تیار کرنے کے قابل تھا (اے ایف پی فائل فوٹو)

’ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی خطرناک ایرانی کوشش‘ کے عنوان سے جلد ہی امریکہ میں ایک نئی کتاب شائع ہونے جا رہی ہے۔

اس کتاب میں جوہری پروگرام سے متعلق چوری شدہ ایرانی دستاویزات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

یہ دستاویزات بتاتی ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت میں کئی سال آگے تھا اور وہ مختصر وقت میں ایٹم بم تیار کرنے کے قابل تھا۔

انڈپینڈںٹ فارسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ’انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل سائنس اینڈ سیکورٹی‘ کے ڈائریکٹر ڈیوڈ البرائٹ اور اسی ادارے میں تحقیق کرنے والی سارہ برن ہارٹ اس کتاب کے مصنفین ہیں۔

اس کتاب کی بنیاد ایران کے ایٹمی آرکائیو سے چوری شدہ ایٹمی دستاویزات پر ہے، جو اسرائیلیوں نے 2018 میں چوری کی تھیں۔ یہ کتاب اشاعت کے لیے تیار ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار ’دا واشنگٹن پوسٹ‘ نے اس کتاب کے بعض اقتباسات کا ذکر کرتے ہوئے ہفتے کو ایک رپورٹ میں کہا کہ مصنفین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایرانی حکومت نے 2003 میں ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے میں حائل تکنیکی مسائل پر قابو پالیا تھا اور ایٹمی بم بنانے میں استعمال ہونے والے بنیادی حصوں کے ’سرد ٹیسٹ‘ کے لیے تیار تھا۔

کتاب کے مطابق ایرانی سائنس دان ضروری فسل مٹیریل (ایٹم کے مرکزی حصے کو توڑنے کی صلاحیت رکھنے والامواد) اور ملکی رہنماؤں کی طرف سے حکم ملنے کی صورت میں تیزی سے ایٹم بم بنا سکتے تھے۔

اس کتاب میں ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام سے متعلق سائنس دانوں کی ٹیم کے اہم رکن محسن فخری زادہ کا بھی ذکر ہے جنہیں 27 نومبر، 2020 کو تہران کے مشرقی حصے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کتاب کے مصنفین کا ماننا ہے کہ ایٹم بم بنانے کا ایرانی طریقہ ’مکمل طور پر اس کا اپنا ہے‘ اور اس میں کسی دوسرے ملک کے طریقے کی نقل نہیں کی گئی۔

ایرانی ایٹمی پروگرام کے ابتدائی سالوں میں خیال کیا جاتا تھا کہ ایران ’پاکستان کے ایٹم بم کے خالق‘ عبدالقدیر خان کے ایٹم بم بنانے کے طریقے پر کام کر رہا ہے۔ تاہم اب کتاب میں کہا گیا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر اس کا اپنا ہے۔

کئی سال پہلے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش پوری کرنے سے روکنے کے لیے تہران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی عالمی کوششوں کے آغاز پر امریکی انٹیلی جنس برادری نے ایرانی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کا فوجی مقاصد کے لیے ایٹمی پروگرام2003 میں معطل کر دیا گیا تھا۔

ایران ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوششوں کو ہمیشہ مسترد کرتا رہا ہے۔

اس کا مؤقف رہا ہے کہ ملکی ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جس کا مقصد توانائی کا حصول اور ایٹمی ٹیکنالوجی کا طبی شعبے میں استعمال ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ اور عالمی برادری کو ایران کے اس مؤقف پر شک ہے۔

14 جولائی، 2015 کو ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد ویانا میں ایک معاہدہ ہو گیا تھا جس کے تحت ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر سخت اور مخصوص پابندیاں لگائی گئیں جبکہ اس کے بدلے میں ایران پر عائد پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔

تین سال بعد واشنگٹن کمپری ہنسیوجوائنٹ ایکشن پلان (سی جے اے پی) کے نام سے ہونے والے نام نہاد ایٹمی معاہدے سے الگ ہو گیا تھا۔

امریکہ کے اس اقدام کا مقصد ایک بہتر معاہدہ تھا جس میں ایران کے میزائل پروگرام اور اس کی علاقے میں سرگرمیوں کو بھی شامل کیا جاتا۔

ایران نے امریکہ کے اس اقدام کا جواب ایٹمی معاہدے میں کیے گئے وعدوں کو نظر انداز کر کے دیا۔ اب دونوں فریق اس معاہدے کو بحال کرنے کے مذاکرات میں مصروف ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا