’ فلسطینی جانوں کے لیے اسرائیل کی لاپروائی جنگی جرائم کے مترادف ہے‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کی رہائشی عمارتوں پر کیے جانے حملوں کی تحقیقات جنگی جرائم کے طور پر ہونی چاہیے۔

غزہ میں احتجاج کے دوران ایک فلسطینی خاتون اسرائیلی افواج کا سامنا کرتے ہوئے۔(18 مارچ، 2021 - اے ایف پی)

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کی رہائشی عمارتوں پر کیے جانے حملوں کی تحقیقات جنگی جرائم کے طور پر ہونی چاہیے۔ ادارے نے یہ بیان سوموار کو جاری کیا ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے نے ان حملوں کو 'انسانیت کے خلاف جرائم' قرار دیا ہے۔ ادارے کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطینی شہریوں کی جانوں کے لیے 'حیران کن لا پروائی' کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے  بین الااقوامی کریمنل کورٹ (آئی سی سی) سے سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے رہائشی عمارتوں پر 'پیشگی اطلاع' کے بغیر کیے جانے والے 'مہلک حملوں' کی تحقیقات کرے۔ غزہ میں ہونے والے ہلاکتوں کی تعداد 200 سے زائد ہو چکی ہے۔ تشدد کی تازہ ترین لہر میں 1200 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل میں مرنے والوں کی تعداد 10 ہو چکی ہے۔

مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈپٹی ڈائریکٹر صالح حجازی کا کہنا ہے کہ 'اسرائیل کی جانب سے غزہ میں رہائشی عمارتوں اور خاندانوں کے گھروں کو نشانہ بنانے کی ایک خوف ناک حکمت عملی سامنے آ رہی ہے۔ کئی حملوں میں پورے خاندان عمارت گرنے کے نتیجے میں ملبے تلے دب گئے ہیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ کئی حملوں میں عمارتوں میں مقیم عام شہریوں کو پیشگی انتباہ بھی جاری نہیں کیا گیا تاکہ وہ عمارت کو خالی کر سکیں۔ صالح حجازی کا کہنا تھا کہ 'بین الااقوامی اور انسانی قوانین کے تحت تمام فریقین کو شہری اور عسکری اہداف کے درمیان فرق روا رکھنا ہوتا ہے اور صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔ حملہ کرتے ہوئے فریقین کو شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے ہر ممکن احتیاط کرنی ہوتی ہے۔'

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے 'جان لیوا اور بے باکانہ حملے' فلسطینی شہریوں کی زندگیوں کو 'مکمل طور پر نظر انداز' کرنے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ شہری اسرائیل کی جانب سے سال 2007 سے غزہ کی غیر قانونی ناکہ بندی سے پہلے ہی اجتماعی سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔'

ہیومن رائٹس کے المیزان سینٹر کے مطابق 11 مئی سے غزہ میں 152 رہائشی عمارتوں کو تباہ کیا جا چکا ہے۔ غزہ میں فلسطین کی وزارت ہاوسنگ اور ورکس کا کہنا ہے کہ 'اسرائیلی حملوں میں 94 عمارتوں کو تباہ کیا جا چکا ہے جن میں 461 رہائشی اور کمرشل یونٹس شامل ہیں جبکہ 285 رہائشی یونٹس کو شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ اب رہنے کے قابل نہیں رہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 میڈیا کے لیے جاری کردہ بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ '2500 سے زائد افراد گھر تباہ ہونے کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 38 ہزار افراد اندرونی طور پر نقل مکانی کرتے ہوئے غزہ میں اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزیںوں کے لیے ریلیف ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے 48 سکولوں میں پناہ لے چکے ہیں۔' 

انسانی حقوق کے عالمی ادارے نے فلسطینی مسلح گروہوں پر بھی اسرائیل میں 'شہری علاقوں کی جانب بلا امتیاز راکٹ حملوں' کا الزام عائد کیا ہے جن میں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ماضی میں شائع کردہ شواہد کے مطابق اسرائیلی فوج سال 2014 کے تنازعے سے جان بوجھ کر فلسطینی خاندانوں کی رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔'

دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے سوموار کو اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں جنگ بندی کے لیے امریکی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے اور جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو رہی ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا