ٹیکس بڑھانے کی آئی ایم ایف کی تجویز قبول نہیں کی: شوکت ترین

پاکستان کے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس خسارہ پورا کرنے کے لیے ڈالر نہیں تھے اس لیے مجبوراً عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانا پڑا تھا۔

شوکت ترین نے آئندہ بجٹ کے حوالے سے زوم لنک کے ذریعے بریفنگ دی (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس خسارہ پورا کرنے کے لیے ڈالر نہیں تھے اس لیے مجبوراً عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانا پڑا تھا۔

کراچی سے زوم لنگ کے ذریعے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ 2018 میں 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ تھا۔

آئی ایم ایف کے حوالے سے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کو مجبوراً عالمی مالیاتی فنڈ کے پاس جانا پڑا لیکن اس مرتبہ آئی ایم ایف کا پروگرام بہت سخت تھا۔

شوکت ترین نے کہا کہ امیر اور غریب کے لیے ایک جیسی گروتھ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ داروں پر ٹیکس بڑھانے کی آئی ایم ایف کی تجویز قبول نہیں کی ہے۔

شوکت ترین کی صحافیوں سے گفتگو آئندہ بجٹ کے حوالے سے تھی جس کے حوالے سے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے بجٹ کے حوالے سے کہا کہ ’ہمارا وعدہ ہے کہ ٹیرف میں اضافہ نہیں ہوگا جبکہ حکومت عام آدمی کے لیے مختلف سکیمز لا رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ اب مہنگائی کم کرنے پر ہوگی۔ رواں مالی سال میں حکومت نے ایکسپورٹ انڈسٹری، زراعت اور تعمیرات سیکٹر پر زیادہ توجہ دی اور حکومت نے کرونا بحران کے دوران پیکج کا اعلان کیا۔

اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے شوکت ترین نے بتایا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستان میں ریکارڈ پیسے بھجوائے جس نے ملکی معیشت کو سہارا دیا۔

معاشی ترقی کی رفتار پر اپوزیشن کی تنقید پر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت اس وقت 3.94 فیصد سے ترقی کر رہی ہے۔

’اگلے سال پانچ فیصد معاشی گروتھ ہو سکتی ہے جبکہ 2023 میں جی ڈی پی گروتھ چھ فیصد سے بھی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔‘

شوکت ترین نے کہا کہ پہلی ترجیح قیمتوں کا استحکام اور مہنگائی میں کمی ہے۔ پاکستان میں زراعت پر کافی عرصے سے توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے ملک غذائی قلت کا شکار ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹنا پڑے گا۔

ٹیکس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی استعمال کریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’سیلز ٹیکس کے لیے لاٹھیاں نہیں ماریں گے بلکہ سہولیات دیں گے، وزیراعظم عمران خان کا وعدہ ہے کہ مہنگائی کم کریں گے، اس لیے سیلز ٹیکس، پیٹرولیم لیوی کم کر دی ہے۔‘

جون میں ہونے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ گرے لسٹ سے نکلنے کی شرط آئی ایم ایف پروگرام میں نہیں دیکھی۔

انہوں نے کہا کہ ’فیٹف کی صرف ایک شرط رہ گئی ہے۔ بھارت کے جواب میں ہم بھی فیٹف معاملے پر دوست ممالک سے رابطے کر رہے ہیں۔‘

ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب گرنے سے متعلق سوال پر وزیر خزانہ نے اس کا ذمہ دار مرکز اور صوبوں کو ٹھہرایا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ این ایف سی کے وقت ٹیکس ٹو جی ڈی پی 8.8 فیصد تھا۔ این ایف سی کے تحت ٹیکس ٹو جی ڈی پی میں سالانہ ایک فیصد اضافہ نہیں ہوسکا۔ اس حوالے سے مرکز اور صوبوں نے درست کام نہیں کیا۔

’مالی مسائل حل کرنے کے لیے ٹیکس ٹو جی ڈی پی 18 سے 20 فیصد تک لے جانا ہو گا۔‘

واضح رہے کہ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں 13 فیصد کے بعد ہر سال بتدریج کم ہوتی ہوئی اب شرح نو فیصد کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔

گذشتہ روز سے ملکی معیشت کی شرح ترقی پر اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر شدید تنقید جاری ہے۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ ’ہم نے شرح ترقی 5.8 فیصد پر چھوڑی اور عمران آج محض 3.9 فیصد شرح ترقی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ‘

’سٹیٹ بینک کے نمائندے نے اس پر اعتراض اٹھایا ہے کہ یہ عدد اصل سے زیادہ دکھایا گیا ہے۔پی ٹی آئی  نے اپنے پہلے سال میں اصل 1.9 فیصد کےعدد کو بڑھا چڑھا کر 3.3 فیصد دکھایا تھا۔ اس سال بھی انہوں نے جھوٹ بولا۔ اندازہ لگائیں۔‘

جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے کہا کہ ’اس شرح ترقی پر حکومت کے پاس دکھانےکو کچھ نہیں رہا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت