حوثیوں کا ساحلی شہر سے انخلا، لیکن یمن کو امن کا انتظار ہے

یہ یمن کی چار سالہ جنگ میں اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت ہے جو شورش اور قحط کے خاتمے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

حوثی فورسز  صوبہ حدیدہ کے  سلیف پورٹ سے جاتے ہوئے۔ تصویر: روئٹرز

 

یمن کی حکومت اقوام متحدہ سے امن کے لیے ٹائم فریم دینے سمیت مزید اقدامات چاہتی ہے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی جنگجوؤں نے یمن کے ساحلی شہر کو چھوڑنا شروع کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ یمن کی چار سالہ جنگ میں اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت ہے جو شورش اور قحط کے خاتمے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

گذشتہ سال سویڈن میں ہونے والے معاہدے کے عین مطابق ایرانی حمایت یافتہ تصور کی جانے والی حوثی تحریک نے ہفتے کو یک طرفہ طور پر بحیرہ احمر کے ساحلی شہر کو خالی کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ ساحلی شہر خوراک اور تیل کی ترسیل اور تجارت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اس صورتحال کی نگرانی کرنے والے ادارے اقوام متحدہ کے مطابق مقامی کوسٹ گارڈز نے سلیف، راس العیسی اور الحدیدہ پورٹس کی سکیورٹی سنبھال لی ہے۔

سعودی توثیق یافتہ اور عالمی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے حکام کے مطابق ایسا ہونا کوئی ’شو‘ نہیں تھا۔ لیکن یمنی حکومت کے مذاکرات کار صادق دیوید اعتراف کرتے ہیں کہ یہ سٹاک ہوم معاہدے پر عمل کا آغاز ہے۔  

اس جنگ میں اب تک سینکڑوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد قحط سالی کا شکار ہیں۔

دیوید نے ہفتے کو کی جانے والی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ان کی اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کے ساتھ ہونے والی ملاقات مثبت رہی ہے، جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے طے کردہ طریقہ کار پر عمل درآمد کے لیے کوئی ٹائم فریم دیا جانا چاہیے جو بحری جہازوں کے مشاہدے، بارودی مواد اور عسکری تنصیبات ہٹانے میں معاون ثابت ہوسکے۔

ایک جانب جہاں حوثیوں کے اس اقدام نے عالمی قوتوں کے انسانی بنیادوں پر قائم راہداریوں کے مطالبے کو جلا بخشی ہے وہیں الحدیدہ شہر کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ وہ واپسی کے لیے تیار نہیں۔

عدن کے ایک قبرستان میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنے والے گیارہ سالہ سمیع کہتے ہیں: ’ہم جنگ سے بھاگے تھے اور تب تک واپس نہیں جانا چاہتے جب تک جنگ ختم نہ ہو جائے کیونکہ ہم موت سے خوفزدہ ہیں۔‘

الحدیدہ سے نکالے جانے والے 34 سالہ عبد الرحمان طاہر جو اب عدن میں گاڑیاں صاف کرتے ہیں کہتے ہیں: ’جنگ نے سب کچھ تباہ کر دیا، نہ کوئی کام ملتا ہے نہ کوئی سیکیورٹی۔‘

الحدیدہ سے انخلا

عرب اتحاد کے سرپرستوں اور یمن کے صدر عبدالرب منصور ہادی کے حامیوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے حوثیوں کی جانب سے ساحلی علاقوں سے دستبرداری پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

ذرائع اس پیش رفت کو اقوام متحدہ کے ایلچی مارٹن گریفتھس کی جانب سے فریقین کو معاہدے پر یکجا کرنے میں کامیابی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ گو کہ عرب اتحاد گذشہ دسمبر میں حوثیوں کی یکطرفہ انخلا کی پیشکش کو مسترد کرچکا ہے۔

معاہدے کے مطابق بڑے پیمانے پر کیے جانے والے حملے کو ٹالنے کے لیے حوثیوں کو پانچ کلومیٹر تک پیچھے ہٹنا ہوگا اور ایسا 11 مئی سے 14 مئی کے درمیان کرنا ہوگا۔ اسی طرح اتحادی فوجوں کو بھی حدیدہ کے ساحلی شہر سے ایک کلومیٹر پیچھے ہٹنا ہوگا خاص طور پر لڑائی کا شکار دو علاقوں سے جہاں اتحادی افواج اکٹھی ہیں۔

دوسرے مرحلے میں دونوں اطراف کواپنی افواج شہر سے 15 کلومیٹر سے دور لے جانی ہوں گی جبکہ بھاری ہتھیاروں کو 30 کلومیٹر دور لے جانا ہو گا۔ امدادی تنظیم اور عالمی ریسکیو کمیٹی کے مطابق حوثیوں کا یہ عمل ایک مثبت قدم ہے لیکن بڑے پیمانے پر امن کے لیے باقی مقامات پر جاری تشدد کو روکنا ہوگا۔

نارویجین پناہ گزین کونسل کی سلطانہ بیگم نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’ہمیں سب سے زیادہ تشویش حدیدہ بندرگاہ تک مسلسل رسائی کی ہے۔ مزید عسکری کارروائیاں خوراک، ادویات اور ایندھن کی فراہمی کو روک سکتی ہیں۔‘

حدیدہ کو جنگ میں اُس وقت مرکزی حیثیت حاصل ہوئی جب اتحادیوں نے اس کے ساحل پر دو بار قابض ہونے کی کوشش کی تاکہ حوثیوں کے لیے اسلحے کی فراہمی کو روکا جا سکے، جس کے بارے میں ان کا الزام ہے کہ یہ ایران کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے، بشمول ان میزائلوں کے جو سعودی شہروں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ ایران اور حوثی جنگجو دونوں ان الزامات کی تردید کرچکے ہیں۔  

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا