شہباز شریف کا یقین، یقین دہانیاں اور یاد دہانیاں

لگتا ہے کہ عمران خان شہباز شریف کے ساتھ کوئی دوستی نبھا رہے ہیں یا پھر ٹیم شہباز کی سائیڈ سے کھیل رہے ہیں۔

شہباز کی عارضی پرواز کو تو حکومت نے روک لیا مگر ان کی طویل پرواز کے آگے بند باندھنے میں ناکام نظر آئے گی: غریدہ فاروقی (اے ایف پی)

کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ عمران خان یا تو شہباز شریف کے ساتھ کوئی دوستی نبھا رہے ہیں اور ٹیم شہباز کی سائیڈ سے کھیل رہے ہیں یا پھر اگر مخالف ٹیم سے ہیں تو پھر ایسی لائن و لینتھ پر بولنگ کیوں کروائے جا رہے ہیں کہ بجائے رَن آؤٹ ہونے کے ان کا مخالف بیٹسمین جب بھی کریز پر آتا ہے رَن پر رَن بنانا شروع کر دیتا ہے۔

عمران خان حکومت کے تین سالوں میں قائد حزب اِختلاف شہبازشریف کو تین بار گرفتار کیا گیا اور تین بڑے کیسوں میں مسلسل انہیں عدالتوں سے رہائی ملی اور وہ بھی ایسے کہ کیس ان کے خلاف ثابت نہ ہو پائے۔

صاف پانی سکینڈل سے لے کر آشیانہ سکینڈل اور پھر رمضان شوگر ملز کا سکینڈل، لگتا ہے عمران خان نے ٹھان رکھی ہے کہ شہباز شریف کو ہرالزام میں کلین چِٹ دلوانی ہے اور بھَلے اپوزیشن لیڈر کا جتنا بھی کڑا میڈیا ٹرائل ہو مگر عدالتی ٹرائل سے انہیں سنوائی ہی دلوانی ہے۔

ٹی ٹی منی لانڈرنگ کا ایک خوف ناک پہاڑ جیسا بڑا سکینڈل بھی کھڑا کرکے دیکھ لیا گیا مگر اب تک کی عدالتی کارروائی اور معزز جج صاحب کے ریمارکس کے بعد اِس الزام کا انجام بھی دیگر کیسز کے مقابلے میں مختلف نظر نہیں آتا۔

ایسا لگتا ہے کہ عمران خان نے ‘چور، ڈاکو، ڈکیت، ملک لوٹ کر کھا گئے’ کا جو بیانیہ خود تشکیل دیا تھا اب اسے اپنے ہی ہاتھوں دفن کرنا ہے مگر فاتحہ پڑھنے سے پہلے یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ اپنے بڑے بڑے حریفوں کو عدالتوں سے بری الذّمہ ہونے کا موقع ضرور فراہم ہو اور اعلیٰ ترین فورمز پر ساکھ بحال ہونے کا ریلیف بھی ملے۔

مثلاً اب اپوزیشن لیڈر کی حالیہ متفقہ علیہہ ضمانتی رہائی کے معاملے کو ہی لے لیجیے۔ لاہور ہائی کورٹ سے جو ایک بار کی مشروط روانگی کی اجازت ملی اسے پراویژنل نیشنل آئیڈینٹی فیکیشن لِسٹ (پی این آئی ایل) کے چھوٹے معاملے سے اٹھا کر ایگزٹ کنٹرول لِسٹ (ای سی ایل) جیسے بڑے فورم پر ڈال دینا اور ساتھ ہی لاہور ہائی کورٹ کے فورم سے اُٹھ کر ملک کے سب سے بڑے عدالتی فورم سپریم کورٹ چلے جانا کہ شہباز شریف کی لندن پرواز روکی جائے، جہاں سپریم کورٹ میں بھی پہلی ہی سماعت میں حکومت کو لینے کے دینے پڑ گئے جب عدالت نے خود حکومت کی ہی درخواست کے مخالف حکومت ہی کو توہینِ عدالت کا مرتکب ہونے کے پھندے کے خوف میں جکڑ دیا۔

لگتا تو یہ ہے کہ عمران خان حکومت اب لاہور ہائی کورٹ کی بجائے خود ہی سپریم کورٹ سے شہباز شریف کو ریلیف دلوانا چاہتی ہے۔ اسی لیے تو لگتا ہے کہ عمران خان یا تو شہباز شریف کے ساتھ کوئی دوستی نبھا رہے ہیں یا پھر ٹیم شہباز کی سائیڈ سے کھیل رہے ہیں۔

دانش مندی اور دور اندیشی کا تقاضہ تو یہ ہوتا کہ حکومت قائدِ حزب اختلاف کی بیرونِ ملک روانگی میں رَخنہ نہ ڈالتی کیونکہ فیصلہ تو بہرحال عدالتی تھا اور معاملہ ای سی ایل جیسا کڑا بھی نہ تھا، سیاسی بوجھ کوئی ڈلنا نہیں تھا حکومت پر۔

اور یوں بھی شہباز شریف کی روانگی کے متعلق پکی اطلاع تھی کہ وہ واپسی کی مضبوط یقین دہانی پر روانہ ہو رہے ہیں۔ جس ‘لندن پلان’ سے وزیراعظم صاحب کو ممکنہ طور پر درون خانے ڈرا دیا گیا تھا وہ بھی فی الحال ممکن نہیں تھا اور اس کی کئی خفیہ و عیاں وجوہات موجود ہیں۔

شہباز شریف کے وقتی طور پر ہی سہی مگر باہر چلے جانے سے حکومتی ریلیف کے عرصے میں کچھ رکاوٹ نہیں آنی تھی ہاں مگر اب شہباز صاحب کے پاکستان میں ہونے کی بدولت ایک طرف بجٹ سیشن میں جہانگیر ترین گروپ کی صورت میں حکومت کے سر پر لٹکتی تلوار کے ساتھ ساتھ اپوزیشن لیڈر کی لابنگ اور قیادت میں حزبِ اختلاف کے اکٹھ کا ‘غیر ضروری’ دردِ سر ضرور حکومت نے مول لے لیا ہے۔

صرف یہی نہیں پاکستان پیپلز پارٹی کی واپسی کی صورت میں پی ڈی ایم کے دوبارہ فعال ہو جانے کا پریشر بھی حکومت نے شہباز کی پرواز کو غیر دانش مندانہ طور پر روک کر ازخود اپنے اوپر طاری کروایا ہے۔

جس وقت یہ کالم چھَپ کر قارئین تک پہنچے گا غالب امکان ہے کہ اپوزیشن الائنس کا اہم اجلاس ہو رہا ہو اور پیپلز پارٹی کی واپسی کے بارے میں اہم فیصلہ بھی ہو جائے جس کے بعد حکومت پر دباؤ کا نیا سلسلہ شروع ہو جائے۔

فی الوقت تو حالات ایسے نہیں کہ پی ڈی ایم حکومت گرا تو کیا ہِلا بھی سکے مگر متحدہ اپوزیشن کا پریشر اور وہ بھی حکومتی مدت کے آخری عرصے میں کسی بھی سرکار کے لیے پریشان کُن ضرور ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنے گذشتہ کالم میں بھی عرض کی تھی کہ شہباز شریف کا ہدف قلیل مدت میں عمران خان حکومت کو گرانا نہیں بلکہ طویل مدت کی سیاست اب ان کے پیشِ نظر ہے۔

ان کی نگاہ اب آئندہ عام انتخابات پر ہے جس کے لیے وہ نہ صرف اپنی جماعت بلکہ خود اپنے واسطے بھی ہموار کریں گے اور تمام متعلقہ مقامات پر کیمپین اور لابنگ مزید جاری رکھیں گے۔

اسی تناظر میں قائدِ حزب اِختلاف کے حالیہ بیانات اور انٹرویو کو بھی سنجیدگی سے قابلِ غور لایا جائے کیونکہ ایوان میں اپوزیشن سے حکومتی بینچز کا فاصلہ محض چند قدم ہی دوری کا ہے۔

ایک جماعت کب قائدِ حزب اِختلاف رکھنے سے قائد ایوان کا عہدہ سنبھالنے میں کامیاب ہو جائے صرف پلک جھپکنے کی ہی دیر لگتی ہے۔

پہلے بھی عرض کیا تھا ایک بار پھر یاد دہانی کروا لیجیے کہ شہباز کی عارضی پرواز کو تو حکومت نے روک لیا مگر ان کی طویل پرواز کے آگے بند باندھنے میں ناکام نظر آئے گی۔ باقی رَب جانے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ