پاکستانی میگزین نے بھی ملالہ کو سرورق کی پیشکش کی تھی

برٹش ووگ میگزین کے جولائی 2021 کے ایڈیشن کے سرورق پر نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کی تصویر چھاپی گئی ہے۔

سماجی رابطوں کی سائٹس پر جہاں لوگ ملالہ کے حوالے سے اچھے تاثرات دے رہے ہیں وہیں ان کی تصویر ایک فیشن میگزین کے سرورق پر چھپنے کو منفی انداز سے بھی دیکھا جا رہا ہے (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

دنیا بھرکی فیشن انڈسٹری میں ووگ (Vogue) میگزین کے سرورق پر ہر کوئی آنا چاہتا ہے لیکن یہ کوئی آسان بات نہیں۔ فیشن انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں لوگوں کی یہ خواہش دل میں ہی رہ جاتی ہے۔

برٹش ووگ میگزین کے جولائی 2021 کے ایڈیشن کے سرورق پر نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کی تصویر چھاپی گئی ہے۔ اس کا اعلان ووگ میگزین نے منگل کے روز آن لائن جریدے میں اس سرورق کی تصویر چھاپ کر کیا۔ ساتھ ہی اس حوالے سے ٹویٹ بھی کیا جس میں بتایا گیا کہ جولائی کے سرورق کی زینت ملالہ یوسفزئی ہوں گی اوران کا خصوصی انٹرویو بھی شائع کر دیا۔

ملالہ کی تصویر ووگ کے کور پر چھپنے کی خبر سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہے۔ سماجی رابطوں کی سائٹس پر جہاں لوگ ملالہ کے حوالے سے اچھے تاثرات دے رہے ہیں وہیں ان کی تصویر ایک فیشن میگزین کے سرورق پر چھپنے کو منفی انداز سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔

ووگ کے کور پر ملالہ یوسفزئی کی تصویر چھپنے کو پاکستان فیشن انڈسٹری کس طرح دیکھتی ہے۔ اس حوالے سے ہم نے کچھ فیشن میگزین کے ایڈیٹرز سے بات کرنے کی کوشش کی مگر بیشتر کا کہنا تھا کہ ووگ ایک بڑا میگزین ہے۔ اس کے کور پر آنا ہر ماڈل یا فیشن انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے کی خواہش ہے لیکن بغص نے کہا کہ وہ اس حوالے سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ملالہ ایک متنازعہ کردار رہا ہے۔

پاکستان کے ایک نامور فیشن جریدے 'ہیلو' کی پبلشر زاہرہ سیف اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: 'یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ ملالہ کو صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں خواتین کو بااختیار بنانے کی علامت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔' جب ہم نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے کبھی ملالہ کو اپنے میگزین کے کوور پیج پر کیوں نہیں شائع کیا تو ان کا جواب تھا: 'ہم نے ملالہ سے رابطہ کیا تھا لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا۔‘

اس بارے میں انڈپینڈنٹ اردو نے ملالہ کے والد ضیاالدین یوسفزئی سے ردعمل کے لیے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے ہم سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں کیا۔‘

ملالہ کی سرورق پر چھپنے والی اس تصویر پر 'ملالہ کی غیر معمولی زندگی' کی سرخی دی گئی جبکہ اس کے علاوہ انہیں 'ایکٹوسٹ، لیجنڈ اور سروائیور' لکھا گیا ہے۔

جولائی میں آنے والے سرورق پر ملالہ یوسف زئی 'سٹیلا میکارٹنی' کے سرخ ڈوپٹے اور جوڑے اور سرخ لپ سٹک میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

ووگ میگزین کے ایڈیٹر ان چیف 'ایڈورڈ مننفل نے بھی اپنے انسٹاگرام پر ملالہ کے حوالے سے ایک نوٹ لکھا کہ ’جب ان لوگوں کی بات آتی ہے جو مجھے متاثر کرتے ہیں تو میری اس فہرست میں سب سے اوپر ملالہ یوسفزئی کا نام آتا ہے۔ 23 برس کی عمرمیں دنیا کی معروف ترین یونیورسٹی سے گریجویٹ کرنے والی پہلے ہی بہت سی زندگیاں جی چکی ہیں۔ سماجی کارکن، مصنفہ، لڑکیوں کی تعلیم کے لیے انتھک مہم چلانے والی، ایک بیٹی، بہن، طالب علم اور ایک سروائیور۔'

اس کے علاوہ اس پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ جولائی 2021 کا جریدہ 4 جون کو نیوز سٹینڈز پر آ جائے گا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ووگ میگزین کے سرورق کے لیے ملالہ کی تصاویر معروف فوٹو گرافر نک نائٹ نے بنائیں جبکہ ملالہ کو اس سرورق کے لیے جنہوں نے تیار کیا ان کے تاثرات بھی ووگ میگزین میں شائع کیے گئے۔ ان میں میک اپ آرٹسٹ 'ول گارلینڈ' نے کہا: 'ملالہ کے ساتھ کام کرنے پر میں بہت زیادہ پرجوش تھی کیونکہ ان کی موجودگی بہت طاقتور تھی۔ ان کا میک اپ کرنا ایسا نہیں تھا کہ مجھے ایک کردار تیار کرنا تھا بلکہ ان کا میک اپ ان کی شخصیت سے ہی مطابقت رکھتا تھا۔ میرا کام صرف یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو بہترین محسوس کر سکیں۔‘

سیم میکنائٹ جنہوں نے ملالہ کے بال بنائے انہوں نے کہا: 'جب مجھے ملالہ کے بال بنانے کا کہا گیا تو میں انکار نہیں کر سکا۔ ’میں نے ان کے بال کچھ کاٹے اور کچھ کنڈیشنر لگایا جس کے نتیجے میں انہوں نے بہتر محسوس کیا۔ ہم نے گفتگو کی اور ان کو ان کے بارے میں اچھا محسوس کروایا۔ کیمرے کے سامنے بیٹھنا کوئی آسان کام نہیں لیکن وہ حیرت انگیز طور پر متاثر کن تھیں۔‘

 ملالہ نے جب اپنے ٹویٹر سے یہ سرورق ٹویٹ کیا تو لکھا: 'میں جانتی ہوں ایک نوجوان لڑکی کی اس طاقت کو جو اس کے دل میں تب ہوتی ہے جب اس کے پاس ایک نظریہ اور مقصد ہو۔ میں امید کرتی ہوں کہ جو بھی لڑکی اس سرورق کو دیکھے اسے معلوم ہو کہ وہ دنیا تبدیل کر سکتی ہے۔'

اس کے ساتھ انہوں نے برٹش ووگ جریدے کے ایڈیٹر ان چیف ایڈورڈ ایننفل اور ان کا انٹرویو کرنے والی سیرین کیل کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر انہوں نے میگزین میں چھپنے والی مزید تصاویر اور ان کے کپڑوں اور جیولری کے حوالے سے مزید تفصیلات بھی دیں۔

ملالہ کی اسی ٹویٹ کے نیجے جواب میں زیادہ تر لوگوں نے ملالہ کی تعریف کی کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ ملالہ حقیقی طور پر لوگوں کو متاثر کرنے والی شخصیت ہیں۔کچھ نے لکھا کہ انہیں ان پر فخر ہے۔

کچھ صارفین نے ملالہ کے میگزین کے سرورق پر آنے کو منفی اندازمیں کچھ یوں لیا کہ ان کا کہنا تھا کہ :' آپ فلسطین اور کشمیر کے لیے آواز اٹھا سکتیں تھیں لیکن آپ نے نہ بولنے کا فیصلہ کیا۔'  کچھ کا کہنا تھاکہ ملالہ ووگ کے لیے ماڈلنگ کر کے دنیا کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ ملالہ فلسطین کے لیے نہ صرف بولیں ہیں بلکہ ان کے لیے ڈیڑھ لاکھ ڈالرز بھی عطیہ کیے۔

 

برٹش ووگ کے سرورق پر رہنا ویسے تو ہر عالمی سیلیبرٹی کی خواہش ہوتی ہے لیکن اس پر زیاد جگہ فیشن ماڈلز کو عموما ملتی ہے۔ ووگ ایک مغربی دنیا کا ایک انتہائی باوقار اور معزز میگزین ہے جو معیاری اور ذمہ دارانہ صحافت کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس کے سرورق پر آنا مغربی دنیا میں ایک بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سٹائل