ذہانت کا نیا پیمانہ، جو آپ کی آنکھوں میں ہے

کیا وجہ ہے کہ لوگ جب کوئی چیز یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی پتلیاں سکڑ جاتی ہیں؟

پتلی کے سائز کا تعلق دماغ کے ایک حصے لوکس کوریولس سے ہے، جو توجہ، سیکھنے کے عمل اور یادداشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے (پکسا بے)

آنکھوں سے جہاں تھکاوٹ، غصہ، نفرت، محبت، ہمدردی اور شفقت جیسے جذبات ظاہر ہوتے ہیں، ایک نئی تحقیق کے مطابق اب آنکھوں سے کسی شخص کی ذہانت کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

معروف امریکی سائنسی جریدے سائنٹفک امیریکن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق آنکھ کی پتلی کا سائز اور ذہانت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے معلوم کیا ہے کہ پتلی جتنی بڑی ہوگی، اس کے مالک کی ذہانت کا درجہ اسی قدر بلند ہوگا۔

سائنس دانوں جیسن تسکاہارا، الیگزینڈر برگونیے اور رینڈل اینگل نے لکھا ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ لوگ جب کوئی چیز یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی پتلیاں سکڑ جاتی ہیں۔

اسی کو بنیاد بنا کر سائنس دانوں نے پانچ سو سے زائد افراد پر مبنی ایک گروپ اکٹھا کیا جن کی عمریں 18 سے 35 سال کے درمیان تھیں۔ ان کی پتلیوں کے سائز کا معائنہ آئی ٹریکر نامی آلے کے ذریعے کیا گیا۔ یہ آلہ ایک کیمرے اور کمپیوٹر کی مدد سے یہ پرکھتا ہے کہ پتلی اور قرنیہ سے کتنی روشنی منعکس ہو رہی ہے اور اس سے پتلی کے سائز کا تخمینہ لگاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلے ان افراد کو کہا گیا کہ کمپیوٹر کی خالی سکرین چار منٹ تک دیکھتے رہیں۔ اس دوران ٹریکر ان کی پتلیوں کا اوسط سائز ناپتا رہا۔

اگلے مرحلے میں شرکا سے کہا گیا کہ وہ مختلف قسم کے ’دماغ لڑائیے‘ قسم کے معمے حل کریں، جس میں یادداشت، ذہانت اور توجہ کے ٹیسٹ شامل تھے۔

اس کے بعد تحقیق کاروں نے شرکا کی کارکردگی کا موازنہ ان کی پتلیوں کے سائز سے کیا تو معلوم ہوا کہ دماغ اور پتلی کے سائز کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ یعنی جن لوگوں کی پتلیاں بڑی تھیں، انہوں نے ٹیسٹ میں نسبتاً اچھے نمبر لیے۔

سائنس دانوں نے اس کی وجہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پتلی کے سائز کا تعلق دماغ کے ایک حصے لوکس کوریولس سے ہے، جو توجہ، سیکھنے کے عمل اور یادداشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق