آئل ریفائنری کی آگ پر ’بڑی حد تک‘ قابو پا لیا: ایران

ایران کی صنعتوں میں حادثات عام ہیں اور حالیہ ہفتوں میں ایسے واقعات تواتر سے پیش آ رہے ہیں۔

یہ ریفائنری رہائشی علاقوں سے صرف چند سو میٹر دور تہران کے مضافات میں ایک بڑے صنعتی زون میں واقع ہے(فوٹو کریڈٹ: اے ایف پی)

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تہران کے قریب واقع آئل ریفائنری میں لگنے والی آگ پر ’بڑی حد تک‘ قابو پا لیا گیا ہے۔ تاہم اس آگ کو ابھی تک مکمل طور پر بجھایا نہیں جا سکا۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا پر جمعرات کو نشر ہونے والے تہران آئن ریفائنری کمپنی کے ترجمان شاکر خفائی کے بیان میں کہا گیا: ریفائنری میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور اسے جلد بجھا دیا جائے گا۔

ریفائنری کے اوپر ابھی تک دھویں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں لیکن ان کی سیاہی گذشتہ روز نظر آنے والے بادلوں سے کم ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے مناظر میں فائر بریگیڈ کی ٹیموں کو آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہوئے دکھا جا سکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کی شام سات بجکر تیس منٹ پر گیس پائپ لیک ہونے کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے کے بعد ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

جب کہ ایرانی حکام آتشزدگی کے اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ ریفائنری رہائشی علاقوں سے صرف چند سو میٹر دور تہران کے مضافات میں ایک بڑے صنعتی زون میں واقع ہے۔

ایرنا کے مطابق یہ ریفائنری 1968 سے کام کررہی ہے اور اس میں تیل صاف کرنے کی یومیہ گنجائش دو لاکھ پچاس ہزار بیرل ہے۔

ایران کی صنعتوں میں حادثات عام ہیں اور حالیہ ہفتوں میں ایسے واقعات تواتر سے پیش آ رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق 23 مئی کو وسطی ایران میں دھماکہ خیز مواد تیار کرنے والے پلانٹ میں بھی ایک دھماکہ ہوا تھا۔اس واقعے میں نو افراد زخمی ہو گئے تھے۔

جب کہ اس کے تین دن بعد خلیج عرب کے ساحل کے قریب واقع پیٹروکیمیکل کمپلیکس کے پائپ لائن دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

ایران گذشتہ سال اپنی جوہری تنصیبات میں ہونے والے دو دھماکوں کا ذمہ دار حریف ملک اسرائیل کو قرار دیتا ہے۔

ایران میں میں کچھ ماہرین صنعتوں میں ہونے والے ان حادثات کا ذمہ دار اسرائیل کو سمجھتے ہیں جب کہ کچھ کے مطابق ان حادثوں کی وجہ امریکی پابندیاں ہیں جن کی وجہ سے ایران کو اپنی صنعتوں میں جدت لانے اور انہیں محفوظ بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا