ٹک ٹاک فیس پرنٹس اور وائس پرنٹس معلومات حاصل کرے گی؟

مختصر ویڈیو کی ایپ ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صارفین کے ’فیس پرنٹس اور وائس پرنٹس‘ اکھٹے کر سکتی ہے۔ تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کیا ہیں۔

ڈیٹا کو اس طرح سے جمع کرنا ایپ کی امریکہ میں نئی اپ ڈیٹ کی شرائط کا حصہ ہیں، جس سے ایپ کی جانب سے اپنے صارفین کی معلومات کو جمع کرنے کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا (اے ایف پی)

مختصر ویڈیو کی ایپ ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صارفین کے ’فیس پرنٹس اور وائس پرنٹس‘ اکھٹے کر سکتی ہے۔ تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کیا ہیں۔

ڈیٹا کو اس طرح سے جمع کرنا ایپ کی امریکہ میں نئی اپ ڈیٹ کی شرائط کا حصہ ہیں، جس سے ایپ کی جانب سے اپنے صارفین کی معلومات کو جمع کرنے کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔

ان شرائط میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر طرح کی معلومات کو حاصل کیا جا سکتا ہے اور یہ اس وقت کیا جائے گا جب صارفین اس ایپ کو استعمال کر رہے ہوں گے۔

جو معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں ان میں صارف کہاں ہے، ان موبائل میں موجود معلومات سے لے کر وہ ٹک ٹاک کو کیسے استعمال کرتے ہیں تک شامل ہے۔

لیکن شاید ان سب میں سب سے غیرمعمولی ہوگا ’تصاویر اور آڈیو‘ کا حاصل کرنا جس کے بارے میں ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ جب لوگ اپ کو استعمال کر رہے ہوں گے اس وقت یہ معلومات حاصل کر لی جائے گی۔

نئی شرائط اور ہدایات کے سیکشن کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ ایپ لوگوں کی پوسٹ میں کیا آتا ہے اس سے معلومات حاصل کرے گی۔

’ایپ آٹومیٹک سسٹم کو چلا سکتی ہے جو نظر آنے والی اشیا اور مناظر کی نشاندہی کرے گی، تصویر میں دکھائی دینے والے مقام، چہرے اور جسم کے فیچرز، آڈیو کس قسم کی ہے اور بولے جانے والے الفاظ کے ٹیکسٹ کو حاصل کرے گا۔‘

جہاں اس طرح کی ٹریکنگ غیراخلاقی لگ رہی ہے وہیں اس کام کے لیے ٹک ٹاک کو کچھ ٹولز کی بھی ضرورت ہو گی۔ جیسا کہ مختلف فلٹرز کی ضرورت ہو گی جو کسی بھی پوسٹ میں نظر آنے والے چہروں کو سمجھ سکے۔ ان فلرٹرز کو صحیح طرح سے استعمال کرنے کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹک ٹاک کی اس نئی اپ ڈیٹ میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ ’ہم اس معلومات کو حاصل کریں گے تاکہ سپیشل ویڈیو افیکٹس بنائے جا سکیں، مواد میں تبدیلی،  ڈیموگرافک درجہ بندی، مواد اور اشتہاروں کی تجاویز اور دیگر نان پرسنل آئیڈینٹیفائنگ آپریشنز کیے جا سکیں۔‘

ٹیک کرنچ جس نے سب سے پہلے اس تبدیلی کو رپورٹ کیا تھا کا کہنا ہے کہ اس اپ ڈیٹ میں ’بائیومیٹرک معلومات‘ حوالے سے بات کی گئی ہے اور یہ واضح نہیں کہ یہ کیا ہے اور اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

’ہم بائیومیٹرک آئیڈنٹیفائرز اور بائیومیٹرک معلومات حاصل کر سکتے ہیں جو امریکی قوانین میں واضح کیا گیا ہے۔  جیسا کہ فیس پرنٹس اور وائس پرنٹس شامل ہیں وہ بھی آپ کے صارفین کے مواد سے۔ جہاں قانون کے مطابق ضروری ہوگا وہاں ہم آپ سے اس طرح کی معلومات حاصل کرنے سے قبل اجازت طلب کریں گے۔‘

جو قانون بائیومیٹرک معلومات حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے وہ فی الحال نیا ہے اور بڑے پیمانے پر تاحال نافد نہیں، کیونکہ ٹیکنالوجیز ابھی نئی ہیں۔ جہاں تک بات ہے کہ ’جہاں قانونی طور پر ضروری ہو‘ شاید چند واقعوں پر ہی ہو سکے۔

ٹیک کرنچ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کمپنی کی جانب سے اس حوالے سے مزید معلومات نہیں دی گئی ہیں کہ آیا بائیومیٹرک معلومات، فیس پرنٹس یا وائس پرنٹس کس چیز پر مبنی ہوں گے یا ان کا استعمال کیسے ہوگا۔ کمپنی نے صرف اتنا کہا ہے کہ پرائیوسی پالیسی کو مزید شفافیت کے لیے اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل