پاکستان اور کشمیریوں کو آخر حاصل کیا؟

ایک تیسرے ملک کے ذریعے پاکستان کو یہ پیغام بھجوایا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بھارت اور مودی کو فسطائیت اور ہٹلر سے تشبیہ دینا بند کیا جائے۔ پاکستان نے اس کو روکا، اپنی پالیسی کو رول بیک کیا اور بھارت پر دباؤ بھی کم کیا۔

12 جون 2021 کو سری نگر کے سوپور میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں بھارتی سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کے دوران ہلاک ہونے والے ایک پولیس اہلکار کی نماز جنازہ کے دوران رشتہ دار اور پڑوسی غم کا اظہار کر رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان اور بھارت تعلقات کے بارے میں اس ہفتے کچھ اہم باتیں ہوئیں۔

بھارتی آرمی چیف ایل او سی پر جب گئے وہاں ان سے سوال ہوا تو انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایل او سی پر امن ابھی ضرور ہے، جنگ بندی ہے لیکن پاکستان  نے جو دہشت گردوں کے کیمپ بنائے ہیں اور وہاں سے جو دہشت گردی ہوتی ہے اس کو برقرا ر رکھا گیا ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ دونوں ممالک میں قیام امن کی ذمہ داری پاکستان کی ہے۔

اس کے علاوہ بھارت سے یوں خبر آئی کہ بھارت  نے کشمیر میں جو گورنر تعینات کیے ہیں ان کی نئی دہلی میں وزیر داخلہ سے ملاقات ہوئی جس کے بعد یہ سوال اٹھے کہ آیا کچھ وہاں مزید تبدیلیاں لائی جا رہی ہے۔

پہلے ہی پانچ اگست، 2019 کو کشمیر کے حصے کر دیئے گئے اور اس کی قانونی حیثیت آرٹیکل 370 کے تحت ختم کر دی گئی۔

اب یہ سوال تھا کہ بھارت مزید کیا کرنے جا رہا ہے۔ 5 اگست کے بعد تو بھارت کے کشمیر کے حوالے سے ارادوں میں تو شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی واضح قراردادیں ہیں جن کے تحت کشمیریوں کو ابھی حق خودارادیت ملنا ہے۔ اس کے بالکل برعکس یہ اقدام اٹھایا گیا اور پاکستان سے بات چیت کرنے کی پیشکش تو بھارت نے ضرور کی ہے لیکن اس آفر سے منسلک چار اہم پہلو ہیں۔

نمبر ایک: بھارت نے دسمبر 2020 میں پاکستان کو بات چیت کی پیشکش کی تھی جس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ بیک چینل پر پاکستان کے آئی ایس آئی کے سربراہ اور بھارت کے نیشنل سکیورٹی مشیر کے درمیان بات چیت ہوئی۔

جب بھارت کی جانب سے پیشکش آئی تو پاکستان نے چار جوابی شرائط رکھیں۔ نمبر ایک یہ کہ بھارت کشمیر کی ریاستی حیثیت کو بحال کرے، دوسرا یہ کہ نظربند کشمیری رہنماؤں اور شہریوں کو رہا کیا جائے، نمبر تین حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو ختم کیا جائے اور نمبر چار غیر کشمیریوں کو لاکر بسانے سے کشمیر کی جغرافیائی تبدیلی لائی جا رہی ہے اس کو روکا جائے۔ لاکھوں کو ڈومیسائل دیئے گئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب پاکستان نے یہ جواب دیا بظاہر بھارت کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔ اپریل میں پاکستان کی طرف سے بھارت کو کرونا (کورونا) سے بگڑتے حالات پر قابو پانے میں مدد کی پیشکش کا بھی بھارت نے جواب دینا گوارا نہ کیا۔

کشمیر میں اب مزید کیا تبدیلی آ سکتی ہے؟ جب یہ سوال اٹھا تو پاکستان کی طرف سے ایک ردعمل دفتر خارجہ کے بیان میں آیا کہ ہندستان جو کر رہا ہے وہ درست نہیں اور یقینی طور پر یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے خلاف ہے۔

بھلے بھارت کی طرف سے جو بھی اقدامات اٹھائے جائیں کشمیر کو نہ دنیا نظر انداز کر سکتی ہے نہ بھارت ایسا کر سکتا ہے۔ بھارتی اقدامات کشمیری حق خودارادیت کی حقیقت پر عمل درآمد کو نہیں روک سکتے۔

پاکستان کا یہ ردعمل بھارت کو کشمیر میں ریاستی دہشت گردی جو اب فسطائیت کے ساتھ  ساتھ ایک نو آبادیاتی  سیکولر منصوبے میں تبدیل ہوگیا اسے نہیں روک سکتا۔

یہ بات واضح ہے کہ بھارت نے پاکستان پر جو دباؤ ڈالا کہ اسلام آباد اپنا رویہ بدلے گا تو امن آئے گا اس سوچ کے نتیجے میں بھارت نے یہ واضح کر دیا کہ وہ اس کے زیر انتظام کشمیر میں اپنی پالیسی کو کسی صورت تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس صورت حال میں جب بھارت کی نوآبادیاتی سیکولر پالیسی جس کے تحت کشمیریوں کو ایک اقلیت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو اسے جب تک پاکستان بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر روکنے کی کوشش نہیں کرے گا تو بھارت اسرائیل کی طرح کشمیر کو ایک غیر کشمیری ریاست بنانےکی جانب کامیابی سے بڑھتا جائے گا۔

نریندر مودی حکومت کا کشمیریوں کو اقلیت بنانے کا منصوبہ  کشمیری جدوجہد کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ 1846 سے میں جب انگریزوں نےمسلمان اکثریتی ریاست کو مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کیا تھا تب سے کشمیری مزاحمت کی تحریک جاری ہے۔

اسے کچلنے کی کوشش بھی تب سے جاری ہے۔ سب سے پہلے انگریزوں پھر ڈوگرہ راج نے اور اب بھارت یہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے البتہ کشمیری جدوجہد کو کسی طریقے سے ختم نہیں کیا جاسکا۔

لیکن اب خاص طور پر پانچ اگست، 2019 سے نوآبادیاتی سیکولر پراجیکٹ(colonial settler)جو شروع ہوا ہے اگر اس کو واضح طور پر پاکستان روکنے کی کوشش نہیں کرے گا تو یہ کشمیریوں کے لیے حالات شاید ناقابل تلافی طور پر بگڑ سکتے ہیں۔

اگست 2019 کے بعد پاکستان  نے بین الاقوامی سطح پر اور پبلک ڈپلومیسی کے ذریعے بھارت کی ریاستی دہشت گردی، جو وہ پاکستان کے اندر کر رہا ہے اور جو کشمیریوں کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے برعکس ظلم وزیادتی اور  کشمیری ریاست میں تبدیلی کا عمل شروع کیا تھا، بڑی حد تک بین الاقوامی سطح پر اس کو واضح طور پر اجاگر کیا۔

اس کے نتیجے میں بھارت کو اتنی پریشانی کا سامنا ہوا کہ ایک تیسرے ملک کے ذریعے پاکستان کو یہ پیغام بھجوایا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بھارت اور مودی کو فسطائیت اور ہٹلر سے تشبیہ دینا بند کیا جائے۔

پاکستان نے اسے روکا، اپنی پالیسی کو رول بیک کیا اور بھارت پر دباؤ بھی کم کیا۔ یہ سب اس لیے کیونکہ کچھ سٹیک ہولڈرز کا خیال تھا کہ یہ بیک چینل کامیابی سے آگے بڑھے گا۔

آج پاکستان کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا پڑے گا کہ کیا بیک چینل کے نتیجے میں کشمیریوں کے لیے اور پاکستان بھارت تعلقات میں کسی بہتری کی کیا کوئی امید کی جاسکتی ہے؟ یہ بہت بڑا سوال ہے جس کا جواب پاکستان کے لیے دینا بہت ضروری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ