مفت برگر کا ’مطالبہ‘: ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکار معطل

پنجاب پولیس نے لاہور میں مفت برگر کی فرمائش پوری نہ کرنے والے ریستوران کے عملے کو حراست میں لینے اور زدو کوب کرنے کے الزام میں ایک ایس ایچ او اور ان کی ٹیم کو معطل کردیا۔

لاہور کے ایک مارکیٹ میں پولیس اہلکار ( اے ایف پی فائل تصویر)

لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ایک ریستوران سے مفت برگر کھانے کی فرمائش پوری نہ ہونے پر اختیارات کے غلط استعمال کے الزام میں ایک ایس ایچ سمیت نو اہلکاروں کو آئی جی پنجاب کے حکم پر معطل کر کے مزید انکوائری کا آغاز کر دیا گیا۔

پنجاب پولیس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اتوار کو ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں اور آئی جی کے حکم پر متعلقہ اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔

ڈیفنس فیز سکس میں واقع ریستوران ’جونی اینڈ جگنو‘، جہاں یہ مبینہ واقعہ پیش آیا، کی انتظامیہ نے اپنے فیس بک پیج پر ہفتے کی رات ایک پوسٹ میں سارا قصہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ کچھ روز قبل چند پولیس اہلکاروں نے ریستوران میں آکر مفت کھانے کی فرمائش کی جس سے انکار پر انہوں نے ’مینیجر کو دھمکایا اور اگلے روز آکر عملے کو ہراساں کیا اور ریستوران بند کرنے کا کہا۔‘

پوسٹ کے مطابق 11 جون کی رات کچھ پولیس اہلکار ریستوران آئے اور مینیجر کو بغیر کوئی وجہ بتائے حراست میں لے لیا۔

’ہمارے پورے ریستوران کو خالی کروا دیا گیا اور تمام کچن کریو اور مینیجرز کو باہر نکال دیا۔ انہوں نے انہیں زبردستی نکالا یہاں تک کہ انہوں نے کچن میں جلتے چولہے تک بند نہیں کرنے دیے اور نہ ریستوران میں بیٹھے گاہکوں کے آرڈر مکمل کرنے دیے۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ’تقریباً سات گھنٹے ہماری ٹیم کو حوالات میں زدوکوب کیا گیا، ہراساں کیا گیا صرف اس لیے کہ ہم نے انہیں مفت برگر نہیں دیے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے عملے کے 19 اراکین کو ساری رات ایس ایچ او کے حکم کر حوالات میں رکھا گیا۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ ان کی ’بے گناہ ٹیم کو تھانے میں گھسیٹا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے ’کسی خاص‘ کو مفت برگر دینے سے انکار کردیا تھا۔‘

’11 جون کی رات ہمارے ریستوران میں پیش آنے والا واقعہ پہلی بار نہیں ہوا اور ہمیں یقین ہے کہ یہ آخری بار بھی نہیں ہو گا۔

اور یہ اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک ہم ظلم کے خلاف خود اپنی آواز بلند نہیں کریں گے۔ ناانصافی اور ایک عام آدمی کے خلاف، طاقت کے ناجائز استعمال کے خلاف۔‘

ریستوران انتظامیہ نے اپنی فیس بک پوسٹ میں عوام سے اپیل کی کہ وہ اس ناانصافی اور ذیادتی کو ہر ممکنہ پلیٹ فارم پر شیئر کریں۔

جب سوشل میڈیا پر یہ قصہ گردش کرنے لگا تو اتوار کو پولیس کے اعلیٰ حکام نے ایکشن لے لیا۔ پنجاب پولیس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا گیا کہ آئی جی پنجاب انعام غنی نے ’جونی اینڈ جگنو‘ ریستوران والے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈیفنس سی تھانے کے ایس ایچ او اور ان کے ساتھ ملوث دیگر عملے کو معطل کر دیا ہے۔

ٹویٹ میں کہا گیا: ’کسی کو قانون ہاتھ میں لیے کی اجازت نہیں۔ ناانصافی برداشت نہیں ہوگی اور ان سب کو سزا دی جائے گی۔‘

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے جب ’جونی اینڈ جگنو‘ کی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو مارکیٹنگ مینیجر ثمن بشیر نے کہا: ’ایسا نہیں کہ ہم پولیس کے خلاف ہیں، لیکن صرف چند کالی بھیڑیں ہوتی ہیں جو اداروں کی ساکھ کو خراب کرتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے اعلیٰ حکام نے ایکشن لے لیا ہے اور ہم نے اب معاملہ ان پر چھوڑ دیا ہے کیونکہ ہم انہیں وقت دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے طریقے سے تحقیقات مکمل کریں۔ ان کے بقول ریستوران کو پولیس سسٹم پر پورا یقین ہے۔

ثمن کا کہنا تھا: ’جب یہ سب کچھ ہوا تو ہمیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس حوالے سے کیا کریں کیونکہ ہماری ٹیم کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی۔

’ہم نے سوچا کہ ہم کیوں نہ اپنے برانڈ کی طاقت کو استعمال کریں اور عوام کو اس مسئلے کے بارے میں بتائیں جس کا سامنا صرف ہمیں نہیں تھا بلکہ اور بھی چھوٹے کاروبار کرنے والوں کو ہے۔‘

ان کے بقول پولیس میں کچھ افراد اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہیں اور ہم عوام کے ساتھ یہ بات کرنا چاہتے تھے تاکہ ایک بحث شروع ہو جو مثبت تبدیلی کا سبب بنے۔

’ہمیں خوشی ہوئی کہ بہت سے لوگوں نے ہمارے ساتھ تعاون کیا جس کی وجہ سے ایس ایچ او اپنے انجام تک پہنچا۔‘

کیا اختیارات کا غلط استمعال عام ہے؟

ایک ایس پی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عموماً ایسا نہیں ہوتا اور زیادہ تر پولیس اہلکار کچھ نہ کچھ پیسے دیتے ہیں۔

ایس پی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کیونکہ انہیں میڈیا سے بات کرنے کے اختیارات نہیں۔

’اگر چھوٹے دکان داروں سے کھانا کھا کر پیسے نہ دینا معمول کی بات ہو تو اس طرح پوری عوام ہی کھڑی ہو جائے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات کچھ دکان دار مقامی پولیس کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کے لیے دوستی یاری میں کچھ کھلا دیں تو وہ ایک الگ معاملہ ہے۔

’لیکن زیادہ تر اس طرح نہیں ہوتا کہ پولیس والے دھونس زبردستی سے مفت کھانے کھائیں۔‘

شکایت کسے کریں؟

مذکورہ پولیس افسر نے بتایا کہ جب اس طرح کا کوئی معاملہ پیش آئے جہاں پولیس اہلکار اپنے عہدے اور طاقت کا غلط استعمال کرے تو عوام کو چاہیے کہ وہ پولیس ہیلپ لائن برائے شکایات 8787 پر کال کر کے اپنی شکایت درج کروائیں۔

شکایت تحریری طور پر سی سی پی او کے دفتر میں قائم شکایت سیل میں بھی جمع کروائی جا سکتی ہے۔  

کیا سزا ہوسکتی ہے؟

ان ایس ایس پی کا کہنا تھا اس معاملے میں ایس ایچ او نے جو کیا وہ بد اخلاقی اور طاقت کے غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے اور اس کی سزا پولیس کے قوائد میں درج ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’بداخلاقی جس درجے کی ہوگی اس کے حساب سے سزائیں ملتی ہیں، جیسے اس قسم کی بداخلاقی یا طاقت کے ناجائز استعمال پر ایس ایچ او کو معطل کیا جاسکتا ہے، تبادلہ ہوسکتا ہے، پولیس لائن میں گیٹ ڈیوٹی کروائی جا سکتی ہے۔ جبکہ کسی سنگین بداخلاقی کے نتیجے میں نوکری کے ساتھ ساتھ مراعات بھی ختم کی جا سکتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ پولیس والے دھونس دھاندلی سے کام لیتے ہیں جس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔

’لیکن یہ نہیں ہے کہ وہ طاقت کا اس حد تک بےجا استعمال کریں کہ ہر جگہ سے وردی کے زور پر مفت کھانے کھائیں۔ یہ کیسز انفرادی طور پر ہوتے ہیں اور اگر ایسے کیسز رپورٹ ہو جائیں تو پولیس باقاعدہ ایکشن لیتی ہے۔‘

میڈیا سے بات کرنے کے اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک اور سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کی طاقت کے ناجائز استعمال پر چھوٹی اور بڑی سزائیں ہیں۔ بڑی سزاؤں میں نوکری سے برخاست کرنا، عہدے میں تنزلی، تمام مراعات ریٹائرمنٹ کے بعد ختم کرنا اور تنخواہ میں کٹوتی شامل ہے جبکہ چھوٹی سزا میں نوکری سے معطلی وغیرہ ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی سزاؤں میں سب سے خطرناک سزا یہ ہوتی ہے کہ پولیس افسر کی ترقی روک لی جاتی ہے اور وہ ایک ہی عہدے پر ریٹائر ہوتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان