جب مدن موہن کی دھن راج کھوسلہ سمجھ ہی نہ پائے

’لگ جا گلے کہ پھر یہ حسین رات ہو نہ ہو‘ کی دھن ترتیب دینے والے شہرہ آفاق موسیقار مدن موہن کے 97ویں یوم پیدائش پر خصوصی تحریر

مدن موہن صرف51 برس کی عمر میں 14 جولائی 1975کو اس دنیا سے منہ موڑ گئے (پبلک ڈومین)

 ہدایت کار راج کھوسلہ تو جیسے زچ کھا بیٹھے تھے۔ موسیقار مدن موہن کی ترتیب دی ہوئی دھن انہیں ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی جبکہ وہ بضد تھے کہ اسے فلم میں شامل کر لیں۔

راج کھوسلہ نے جھلا کر ایک بار تو مدن موہن کو کہہ دیا کہ ’اس دھن میں کوئی دم نہیں۔ وہ  نغمہ نگار راجہ مہدی علی خان کے لکھے ہوئے گیت پر کچھ اور طرز بنائیں۔‘

یہ وہ دور تھا جب نغمہ نگار کے لکھے ہوئے بولوں پر دھن پہلے بنائی جاتی تھی۔ مدن موہن کی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس قدر مدھر اور جلترنگ دھن میں ایسی کیا خامی رہ گئی ہے کہ راج کھوسلہ کو یہ پسند ہی نہیں آ رہی۔ پہلی بار وہ راج کھوسلہ کی فلم ’وہ کون تھی‘ کے گانے ترتیب دے رہے تھے۔ اسی لیے ذہنی تال میل نہیں بن پا رہا تھا۔

ہدایت کار راج کھوسلہ نے فلم ’وہ کون تھی‘  کی عکس بندی کا آغاز 1963 کے اختتامی عرصے میں کیا تھا۔ فلم میں ان کی من پسند ہیروئن سادھنا تھیں جبکہ تجسس سے بھری اس تخلیق میں ہیرو کے روپ میں منوج کمار جلوہ گر ہو رہے تھے۔

راج کھوسلہ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ان چند بھارتی ہدایت کاروں میں سے ایک ہیں جنہیں موسیقی کی اچھی سمجھ بوجھ ہے۔ مدن موہن سے پہلے راج کھوسلہ سچن دیو برمن اور او پی نیر پر زیادہ انحصار کرتے تھے، جنہوں نے اس وقت تک ان کی کئی فلموں کے لیے گیت تیار کیے تھے۔

اب راج کھوسلہ نے مدن موہن کی خدمات حاصل کیں تو اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے بیشتر گیت زبان زد عام ہو چکے تھے جیسے ’آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل‘ یا ’اگر مجھ سے محبت ہے،‘ یا پھر ’اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو،‘ یہاں تک کہ فلم ’ان پڑھ‘ پر مدن موہن بہترین موسیقار تک کے لیے نامزد ہو چکے تھے۔ اسی لیے راج کھوسلہ  ’وہ کون تھی‘ میں ایک نئے موسیقار کو لے کرروایت سے ہٹ کر موسیقی متعارف کروانا چاہتے تھے۔

موسیقار مدن موہن کے لیے راج کھوسلہ کے ساتھ کام کرنے کا یہ اولین تجربہ خاصا تلخ اور کٹھن بنتا جارہا تھا۔ فلم کے لیے تیار ان کا ایک گیت ’نیناں برسے رم جھم‘ تو راج کھوسلہ کو بھا گیا تھا۔ یہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ مدن موہن نے ’نیناں برسے رم جھم‘ کی دھن 1952 میں تیار کی تھی  لیکن کسی فلم میں اب تک اسے شامل نہیں کیا گیا تھا۔ یہ تو مدن موہن کی خوش قسمتی ہی کہیے کہ راج کھوسلہ کو یہ دھن پسند آ گئی تھی، لیکن بات آکر اٹک گئی تھی دوسرے گیت پر۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موسیقار مدن موہن اور راج کھوسلہ کی بیٹھک لگتی تو وہ گھما پھرا کر وہی دھن سناتے جو ہدایت کار کئی بار مسترد کر چکے تھے۔ پانچویں مرتبہ انکار سننے کے بعد مدن موہن خود حیران تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ یہ طرز ایسی ہے جو فلم بینوں کے ذہنوں میں برسوں گونجتی رہے گی۔ مدن موہن ایک دن موقع پا کر منوج کمار کو یہ کمپوزیشن سناتے ہوئے بولے: ’منوج بھائی ذرا سنیں، اس دھن کو، جو آپ کے ہدایت کار کو پسند نہیں آرہی، بس ایک ہی رٹ لگا رکھی ہے کہ میں کوئی اور طرز بناؤں۔‘

مدن موہن جب آلات موسیقی پر یہ دھن سنا رہے تھے تو ادھر منوج کمار آنکھیں بند کرکے اس کے سحر میں ڈوبے ہوئے تھے۔ آنکھ تو تب کھلی جب کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ منوج کمار گہری سوچ کے ساتھ مسکراتے ہوئے اٹھے، جن کی منزل اب راج کھوسلہ تھی۔ جنہیں انہوں نے قائل کیا کہ وہ دھن کو سنیں کیا غضب کی ہے۔

پہلے تو راج کھوسلہ حسب معمول تیار نہیں ہوئے لیکن جب منوج کمار کا اصرار بڑھا تو اس کمپوزیشن ’لگ جا گلے کہ پھر یہ حسین رات ہو نہ ہو‘  کو پورا سنا۔ راج کھوسلہ کی اس بار پوری توجہ اس دھن پر ہی تھی۔

نم آنکھوں کے ساتھ راج کھوسلہ نے اعتراف کہ واقعی اس دھن میں کچھ ہے، جو وہ سمجھ نہیں پائے تھے۔ انہیں اب ملال ہو رہا تھا کہ اس قدر خوبصورت دھن انہوں نے کیونکر مسترد کر دی تھی۔ ’گرین سگنل‘ ملتے ہی گلوکاری کے لیے راج کھوسلہ ہی نہیں مدن موہن کی پسندیدہ گلوکارہ لتا منگیشکر کی خدمات حاصل کی گئیں، جنہوں نے دل کی گہرائیوں کو چھوتی ہوئی گلوکاری کی۔

’وہ کون تھی‘ میں صرف  ’لگ جا گلے‘ نے ہی نہیں بلکہ لتا منگیشکر کی ہی  آواز میں ریکارڈ کیے گئے ’آپ کیوں روئے‘ اور ’نیناں برسیں رم جھم‘ نے بھی فلم بینوں کے دلوں کے تار چھیڑ دیے۔

منوج کمار اور سادھنا کی ’وہ کون تھی‘ جب سات فروری 1964کو سینیما گھروں کی زینت بنی تو اس نے تہلکہ مچادیا۔ فلم کی مدھر اور رسیلی موسیقی پر مدن موہن فلم فیئر ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئے لیکن بدقسمتی سے وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

اس میوزیکل ہِٹ کے بعد پھر راج کھوسلہ اور مدن موہن کی دوستی کی ایک نئی کہانی کا آغاز ہوا۔ اس جوڑی نے ’میرا سایہ‘  میں ایک بار پھر مدھر اور رسیلے گانے پیش کیے۔ اس دوران سنیل دت اور آشا پاریکھ کی فلم ’چراغ‘ کے گانے بھی مدن موہن نے راج کھوسلہ کے لیے تیار کیے۔ ’چراغ‘ کا مشہور گیت ’تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں کیا رکھا‘ آج تک شہرت رکھتا ہے، جس کا مکھڑا مجروح سلطان پوری نے فیض احمد فیض کی غزل سے ان کی اجازت کے ساتھ استعمال کیا تھا۔

یہ فلم تاخیر سے تکمیل کے مراحل سے ایسی گزری کہ 1969میں نمائش پذیر ہوئی اور درحقیقت یہی وہ آخری فلم تھی جس میں راج کھوسلہ اور مدن موہن کا ساتھ رہا، کیونکہ اس سے پہلے ان دونوں کے درمیان اختلافات نے جنم لینا شروع کردیے، جس کے بعد یہ جوڑی پھر اکٹھی نہ ہوسکی۔

ہوا کچھ یوں کہ جب راج کھوسلہ نے مدن موہن کو بتایا کہ وہ ایک ایسی فلم تیار کر رہے ہیں، جس کی آدھی کہانی ’وہ کون تھی‘ سے اور آدھی ’میرا سایہ‘ سے لی گئی ہے اور یوں دونوں فلموں کی کہانیوں کو یکجا کر کے ’انیتا‘ کو بنایا جائے گا، جس پر مدن موہن نے اعتراض کیا کہ یہ فلم نہیں چلے گی، کیوں نہ نئی کہانی پر فلم تخلیق کی جائے۔

اب راج کھوسلہ کو یہ بات اس قدر ناگوار گزری  کہ انہوں نے کہانی تبدیل کرنے کی بجائے موسیقار کو  ہی بدل کر لکشمی کانت پیارے لال کو منتخب کر لیا۔ مدن موہن کی کہی ہوئی بات سچ نکلی اور فلم ’انیتا‘ سادھنا اور منوج کمار کی موجودگی کے باوجود بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی۔

یہاں یہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ ’وہ کون تھی‘ کی ریلیز کے دو سال بعد تیلگو زبان میں اسے ’آمی ایورو‘  کے نام سے بنایا گیا، جس کی کہانی اور ہر منظر ہی نہیں یہاں تک کہ سارے گیتوں کی دھنیں تک ’وہ کون تھی‘ کی کاربن کاپی تھیں۔ فلم میں سادھنا والا کردار کسی اور نہیں جے للیتا نے ادا کیا، جو بعد میں ریاست تامل ناڈو کی وزیراعلیٰ بھی رہیں۔

یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ مدن موہن بہترین موسیقار کے لیے ’ان پڑھ،‘ ’وہ کون تھی،‘ ’موسم‘ اور ’ویر زارا‘  پر  چار بار فلم فیئر ایوارڈ میں نامزد ہوئے، لیکن کبھی بھی یہ ایوارڈ ان کے نام کے ساتھ نہیں جڑا۔

2004 میں ریلیز ہونے والی  ’ویر زارا‘ کی دھنیں ساری کی ساری وہ تھیں، جو اس موسیقار نے برسوں پہلے ہدایت کار یش چوپڑہ کے لیے ترتیب دی تھیں جو اس وقت انہیں استعمال نہ کر سکے۔ یوں کم و بیش 29 سال کے بعد مدن موہن کے بیٹے سنجیو کوہلی نے تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ ’ویر زارا‘ میں پیش کیا۔

بے شمار گیتوں اور غزلوں  کے ذریعے اپنے پرستاروں کی تعداد بڑھانے والے مدن موہن صرف51 برس کی عمر میں 14 جولائی 1975کو اس دنیا سے منہ موڑ گئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی