ایف اے ٹی ایف: اگلے ریویو تک پاکستان گرے لسٹ میں

ایف اے ٹی ایف کا 20 جون سے جاری اجلاس جمعے کو اختتام پذیر ہوا جس میں پاکستان کے حوالے سے فیصلہ سامنے آیا ہے۔

دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات پر نظر رکھنے والے ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے اپنے اگلے ریویو تک پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کا 20 جون سے جاری اجلاس آج جمعے کے روز اختتام پذیر ہوا جس میں پاکستان کے حوالے سے فیصلہ سامنے آیا ہے۔

ادارے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 27 ایکشن آئٹمز میں سے 26 کو مکمل کر لیا ہے۔ فروری 2021 کو ہونے والے جائزے میں پاکستان کو تین باقی آئٹمز کو مکمل کرنے کے لیے کہا گیا تھا جن میں سے دو مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کے مطابق 2019 میں ایشیا پیسفک گروپ کی میوچل جائزہ رپورٹ میں مزید سقم کی نشاندہی کی گئی تھی جن پر پاکستان نے کام کرنے کا اعادہ کیا تھا اور ان میں سے بیشتر پر پاکستان نے پیش رفت کی ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ پاکستان کو بالخصوص منی لانڈرنگ کے حوالے سے کام جاری رکھنے کی ضرورت ہے اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ باقی ماندہ ایک آئٹم پر جلد از جلد عمل در آمدر کیا جائے۔ اس آئٹم کا تعلق دہشت گردوں کی مالی معاونت کیسز پر تحقیقات، اقوام متحدہ کی جانب سے مقرر کردہ دہشت گرد گروہوں اور ان کے سینیئر لیڈران کو سزائیں دلوانے سے متعلق ہے۔ 

ایف اے ٹی ایف کے سربراہ ڈاکٹر مارکس پلیا نے اجلاس کے بعد ایک ورچوئل بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے انسداد دہشت گردی فنانسنگ کے خلاف کافی اقدامات کیے ہیں جس کے لیے وہ پاکستانی حکام کے شکر گزار ہیں، تاہم منی لانڈرنگ اب بھی ہو رہی ہے اور پاکستان کو اس کی تحقیقات کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے تب ہی نکالا جائے گا جب وہ تجویز کردہ تمام ایکشن آئٹم مکمل کر لے گا۔

ان سے سوال پوچھا گیا کہ کیا باقی ماندہ ایک آئٹم پورا کرنے کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا یا منی لانڈرنگ کے حوالے سے ایکشن پلان پر بھی عمل در آمد گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ضروری ہو گا، تو انہوں نے کہا کہ ایک آئٹم جو کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سزاؤں سے متعلق ہے اس کے مکمل ہونے کے بعد ایک ٹیم کو پاکستان بھیجا جائے گا جو زمینی حقائق کا جائزہ لے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایشیا پیسفک گروپ کی میوچل جائزہ رپورٹ کی جانب سے جاری منی لانڈرنگ سے متعلق چھ آئٹمز کو بھی پاکستان کو پورا کرنے ہو گا اور ان کو پورا کرنے کے بعد ایک اور ٹیم الگ سے زمینی حقائق کا جائزہ لے گی جس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ڈاکڑ مارکس نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف نے مزید ممالک کو گرے لسٹ میں ڈالا ہے جس میں ہیٹی، جنوبی سوڈان، فلپائن اور مالٹا شامل ہیں۔

ایف اے ٹی ایف نے اپنے رواں اجلاس میں صرف ایک ملک، افریقی ریاست گھانا، کو گرے لسٹ سے نکالا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے گھانا کی جانب سے پیش رفت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گھانا نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام پر خاطر خواہ پیش رفت کی ہے۔

اردو نیوز کے نامہ نگار وسیم عباسی نے بھارت میں یورینیم کے لیک اور بھارت کے جائزے پر سوال کیا جس پر ایف اے ٹی ایف کے سربراہ کا کہنا تھا: ’میں (یورینیم سے متعلق) میڈیا رپورٹس سے آگاہ ہوں مگر جب تک ہم ان کا جائزہ نہ لے لیں تب تک اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘

مارکس پلیا نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے باہمی جائزے کے چوتھے مرحلے میں جن ممالک کا جائزہ باقی ہے ان کے لیے شیڈول موجود ہے جو کہ کرونا وبا کے باعث متاثر ہوا تھا اور جیسے ہی وبا کی صورت حال واضح ہو گی اس بشمول بھارت ان ممالک کے ساتھ باہمی جائزہ شروع کیا جائے گا۔

ایف اے ٹی ایف کیا ہے؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک عالمی ادارہ ہے، جس کا قیام 1989 میں جی سیون سمٹ کی جانب سے پیرس میں عمل میں آیا۔ اس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر منی لانڈرنگ کی روک تھام تھا۔ تاہم 2011 میں اس کے مینڈیٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اس کے مقاصد بڑھا دیے گئے۔

ان مقاصد میں بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھنا اور اس حوالے سے مناسب قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات طے کرنا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ادارے کے کُل 38 ارکان میں امریکہ، برطانیہ، چین اور بھارت بھی شامل ہیں جب کہ پاکستان اس کا رکن نہیں۔ ادارے کا اجلاس ہر چار ماہ بعد، یعنی سال میں تین بار ہوتا ہے، جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل کیا گیا ہے۔

گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کیا ہے؟

ادارہ عمومی طور پر انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور ان کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔ جن ممالک کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں تو ان کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

اگرچہ ایف اے ٹی ایف خود کسی ملک پر پابندیاں عائد نہیں کرتا مگر ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف ممالک کی نگرانی کے لیے لسٹوں کا استعمال کیا جاتا ہے جنہیں گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کہا جاتا ہے۔

بلیک لسٹ میں ان ہائی رسک ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جن کے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور قواعد میں سقم موجود ہو۔ ان ممالک کے حوالے سے قوی امکان ہوتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک ان پر پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔

گرے لسٹ میں ان ممالک کو ڈالا جاتا ہے جن کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں اور وہ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مل کر ان قانونی خامیوں کو دور کرنے کے لیے اعادہ کریں۔

گرے لسٹ سے نکلنے کا پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟

گرے لسٹ میں رہنے والے ممالک کے ساتھ لین دین سے مالیاتی ادارے اور سرمایہ کار ہچکچاتے ہیں۔ اگر پاکستان گرے لسٹ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پاکستان کی معاشی سمت اور عالمی تاثر بہت ہو پائے گا۔

پس منظر

اس سے قبل رواں سال فروری میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو چار مہینوں کی مہلت دی گئی تھی اور ایف اے ٹی ایف کی طرف سے اس وقت جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کو تین شعبوں میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ان شعبوں میں ’(1) نامزد شدت پسندوں یا جو ان کے لیے یا ان کی جگہ کام کر رہے ہیں، ان پر مالی پابندیاں لاگو کرنا، (2) دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات اور مقدمات اور ان افراد یا اداروں کو ٹارگٹ کرنا، جو ان کی جگہ کام کر رہے ہیں اور (3) دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف متناسب یا مکمل پابندیوں کی صورت میں کارروائی شامل ہے۔‘

 پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے گرے لسٹ میں ڈالا تھا۔ اس کے بعد سے پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے گذشتہ کچھ عرصے میں کئی قانون متعارف کروائے ہیں۔ ان قوانین میں انسداد منی لانڈرنگ قوانین میں ترامیم، انسداد دہشت گردی قانون میں ترامیم، وقف پراپرٹیز قانون، میوچل لیگل اسسٹنس قانون سمیت 14 وفاقی اور تین صوبائی قوانین شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان