‎ملک برائے گروی 

شہباز نے اتنے برے حالات کے باوجود بیوی کا زیور گروی رکھنے کا فیصلہ ترک کر دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس قرض کی ادائیگی اس نے اپنی جیب سے کرنی ہے، جبکہ حکومت جانتی ہے کہ وہ جتنا بھی قرض لے لے یا اثاثے گروی رکھوا دے،اس کی قیمت تو عوام نے ادا کرنی ہے۔

سات اپریل 2021 کی اس تصویر میں راولپنڈی کی ایک مارکیٹ میں ایک مزدور  ہتھ گاڑی لے کر  جا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

‎شہباز خان نے دو ماہ سے بچوں کی سکول فیس جمع نہیں کروائی ہے۔ محلے کی دکان سے تین ماہ کا ادھار چل رہا ہے اور آج بجلی کے بل کی بھی آخری تاریخ ہے لیکن اس کی جیب میں پیسے نہیں ہیں۔ اس نے ارادہ کیا کہ وہ بیوی کے زیور گروی رکھوا دے۔ اس سے کچھ پیسے ادھار مل جائیں گے اور چند دن سکون سے گزر جائیں گے۔ پھر یہ سوچ کر زیادہ پریشان ہوگیا کہ وہ قرض کس طرح اتارے گا۔

آمدن میں اضافہ ہو نہیں رہا اور مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ اگر قرض نہ اتار سکا تو بیوی کا زیور بھی ہاتھ سے جائے گا۔ وہ ابھی اسی کشمکش میں مبتلا تھا کہ اس نے ٹی وی پر خبر دیکھی کہ ’پاکستان برائے گروی دستیاب ہے۔‘

وزارت خزانہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کے اثاثے گروی رکھوا کر 176 ارب روپے قرض لیا جائے گا۔ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور، ملتان ایئرپورٹ، اسلام آباد پشاور ایم ون موٹروے، پنڈی بھٹیاں فیصل آباد ایم تھری موٹروے اور لاہور اسلام آباد ایم ٹو موٹروے کو گروی کی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

لاہور اسلام آباد ایم ٹو موٹروے کو پہلے ہی گروی رکھوا کر قرض لیا جا چکا ہے۔ ایم ٹو کا صرف چکوال اسلام آباد واحد سیکشن بچا تھا جسے ابھی تک گروی رکھوا کر قرض نہیں لیا گیا تھا۔ اس مرتبہ اسے بھی لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ شہباز نے سوچا کہ حکومت تو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کا دعویٰ کرتی دکھائی دیتی ہے لیکن حالات تو یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ ملکی اثاثوں کے عوض قرض لیے جا رہے ہیں۔ 

‎اس نے ماہر معیشت شہباز انور رانا کا کالم پڑھا جس میں بتایا گیا کہ ’ابھی تک موٹرویز کی موجودہ قیمت نہیں لگوائی گئی۔ موٹرویز کی پرانی قیمت اور چند رپورٹوں کی بنا پر ایئرپورٹس کی موجودہ قیمت کا تخمینہ تقریباً 22 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔‘ اس کالم میں یہ بھی لکھا تھا کہ وزرات خزانہ کے مطابق لاہور ایئرپورٹ کی قیمت 980 ارب یا 6.1 ارب ڈالر ہے۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ 230 ارب روپے یا ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر اور ملتان ایئرپورٹ کی قیمت تقریباً 320 ارب روپے یا دو ارب ڈالر ہے۔ اسی طرح اسلام آباد ایکسپریس وے 470 ارب روپے یا تین ارب ڈالر کے قریب ہے، جس کے عوض 1.76 کھرب روپے کا قرض سکوک بانڈز کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔ 

کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو 700 ارب روپوں کے عوض پہلے ہی گروی رکھوایا جا چکا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

‎وہ سوچنے لگا کہ اتنی جلدی قرض لینا کیوں ضروری ہے کہ موٹرویز کی نئی قیمت ہی نہیں لگوائی گئی۔ آخر اس قرض کی ضرورت کیا ہے؟ اسے پتہ چلا ہے کہ اگلے مالی سال کے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے یہ رقم استعمال ہوگی۔ اس نے سوچا کہ حکومت تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور کامیاب بجٹ پیش کرنے پر شادیانے بجا رہی ہے لیکن اسے پورا کرنے کے لیے اگر ملکی اثاثے ہی بطور ضمانت رکھوا کر قرض لینے ہیں تو اسے ناکام بجٹ کہا جائے گا۔ 

‎اس نے خبر پڑھی کہ وزرات خزانہ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور سول ایوی ایشن اتھارٹی سے ان اثاثوں سے متعلق این او سی جاری کرنے کا کہا ہے۔ ابھی تک سی اے اے نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن این ایچ اے نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ پہلے یہ بتائیں کہ آپ ان اثاثوں کو استعمال کرنے کے عوض ادارے کو کیا آمدن دیں گے؟ وزرات خزانہ نے جواب دینے کی بجائے کابینہ کمیٹی سے کہا ہے کہ این ایچ اے سے کہیں کہ رکاوٹیں پیدا نہ کرے اور این او سی جاری کرے۔ ابھی تک معاملہ زیر التوا ہے۔ شہباز خان کو این ایچ اے کا مطالبہ جائز محسوس ہوا، لیکن اسے شک ہے کہ زور بازو سے یہ کام کروا لیا جائے گا۔

‎اسے نے دیکھا کہ وزیر موصوف ٹی وی پر فرما رہے تھے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ ہم سے پہلی حکومتیں بھی اثاثے گروی رکھوا کر قرض لیتی رہی ہیں۔ شہباز خان نے ایک ماہر معیشت دوست سے اس بارے استفسار کیا تو اس نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 2008 سے 2013 تک 14 سکوک ٹرانزیکشن کیں، جن کے ذریعے مختلف اثاثوں کو گروی رکھوا کر سکوک بانڈز کے ذریعے 501 ارب روپے قرض لیا گیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے 2013 سے 2018 تک پانچ سکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے 435 ارب روپے قرض حاصل کیا۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے تقریباً 12 سکوک ٹرانزیکشن کی جا چکی ہیں، جن کے ذریعے 762 ارب روپے قرض لیا جا چکا ہے، جو کہ پچھلی حکومتوں کی نسبت سب سے زیادہ ہے۔

آج تک مجموعی طور پر 32 مقامی سکوک ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں جن سے 16 کھرب روپے قرض اور چار بین الاقوامی اجارہ سکوک ٹرانزیکشن سے 3.6 ارب ڈالر حاصل کیے جا چکے ہیں۔ اب نئی ٹرانزیکشن سے 17 کھرب 60 ارب کا قرض حاصل کیے جانے کی تیاری ہے جو کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے، یعنی اگر اثاثوں کو گروی رکھوا کر قرض لینا نااہلی اور ناکامی قرار دیا جائے جیسا کہ عمران خان ماضی میں کہتے آئے ہیں تو تحریک انصاف سب سے زیادہ نااہل جماعت قرار دی جا سکتی ہے۔

اثاثوں کے عوض قرض اس وقت لیے جا رہے ہیں جب روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے ایک ارب ڈالر پاکستان آنے کی خبر ہے۔ ترسیلات زر پچھلے ایک سال سے ماہانہ دو ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جا رہی ہیں، شرح نمو 3.94 فیصد بتائی جا رہی ہے اور برآمدات میں پانچ ارب ڈالر اضافے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ شہباز سوچنے لگا کہ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو ملک کے حالات بد سے بدتر کیوں ہوتے جا رہے ہیں۔ کیا اپوزیشن کا دعویٰ درست ہے کہ حکومت غلط اعداد و شمار پیش کر رہی ہے۔ اسے لگا کہ پاکستان کے حالات تو اس کے گھر کے حالات سے بھی زیادہ برے ہو چکے ہیں۔ اس نے اتنے برے حالات کے باوجود بیوی کا زیور گروی رکھنے کا فیصلہ ترک کر دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس قرض کی ادائیگی اس نے اپنی جیب سے کرنی ہے، جبکہ حکومت جانتی ہے کہ وہ جتنا بھی قرض لے لے یا اثاثے گروی رکھوا دے، اس کی قیمت تو عوام نے ادا کرنی ہے۔

شہباز کا کہنا ہے کہ کاش حکمران اس ملک کو اپنا گھر سمجھتے تو شاید ملک کے اثاثے گروی رکھنے کی نوبت نہ آتی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ