عالمی ایجنسی کو اب جوہری ٹھکانوں کی تصاویرنہیں دیں گے: ایران

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا: ’معاہدے کی مدت ختم ہو چکی ہے اور اب کسی بھی قسم کی معلومات انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو فراہم نہیں کی جائیں گی۔ معلومات اور تصاویر ایران کے پاس ہی رہیں گی۔‘

 ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف(فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کو کہا ہے کہ ایران اپنے بعض جوہری ٹھکانوں کے اندر کی تصاویر اقوام متحدہ کے جوہری سرگرمیوں کے نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے حوالے ہرگز نہیں کرے گا، کیونکہ ایجنسی کے ساتھ معائنے کا معاہدہ اختتام پذیر ہو چکا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایران کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا: ’معاہدے کی مدت ختم ہو چکی ہے اور اب کسی بھی قسم کی معلومات عالمی ایجنسی کو فراہم نہیں کی جائیں گی۔ معلومات اور تصاویر ایران کے پاس ہی رہیں گی۔‘

ایران کے اس اعلان سے تہران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے بارے میں مذاکرات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ تین سال قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے سے دستبردار ہوگئے تھے اور انہوں نے ایران پر نئی پابندیوں کو نافذ کیا تھا۔

آئی اے ای اے اور ایران کے درمیان جوہری ٹھکانوں کی نگرانی کا یہ معاہدہ رواں برس فروری میں طے پایا تھا، جس کی مدت تین ماہ تھی۔ بعد ازاں اس میں 24 جون تک کے لیے ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئی اے ای اے نے جمعے (25 جون) کو فوری طور پر ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جوہری سرگرمیوں کی نگرانی سے متعلق معاہدے میں توسیع کر دے، تاہم ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ تہران جواب دینے کا پابند نہیں۔

اس سے قبل ایران نے بدھ کو کہا تھا کہ ملک کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل فیصلہ کرے گی کہ نگرانی کے معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد اس کی تجدید کی جائے یا نہیں۔

دوسری جانب جمعے کو امریکی وزیر خارجہ انٹینی بلنکن نے کہا تھا کہ نگرانی کے معاہدے میں توسیع میں تہران کی طرف سے کسی بھی طرح کی ناکامی وسیع تر مذاکرات کے لیے ’سنگین تشویش‘ کا باعث ہوگی۔

2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی سے متعلق ویانا میں اپریل میں شروع ہونے والے مذاکرات میں شامل فریقین نے کہا ہے کہ اس معاہدے کی بحالی سے قبل اب بھی بہت سے معاملات حل طلب ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا