کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

وزیر اطلاعات کہتے ہیں کہ آئندہ الیکشن الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے ہوں گے اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کی تمام شرائط پوری کی جائیں گی۔ یہ بات خوش آئند ہے لیکن کچھ سیاسی جماعتیں ایسا نہیں چاہتیں ۔

حکومت نے نئے نظام کےتحت انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں الیکشن ترمیمی بل بھی پاس کروا لیا ہے   (اے ایف پی)

قدیم یونان کی ریاست سپارٹا کے بادشاہ ارسطوڈیمس کے ہاں جڑواں بیٹے پیدا ہوئے۔ اتفاقا، بچوں کی پیدائش کے فورا بعد وہ مر گیا۔ سپارٹا کا رواج تھا کہ بادشاہ کی بڑی اولاد کو اس کا جانشین مقرر کیا جاتا تھا۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ تھا کہ بچے جڑواں تھے۔

جب ان کے قد اور وزن بھی ایک جیسے نکلے تو بچوں کو ماں کے پاس لے جایا گیا اور دریافت کیا گیا کہ ان میں سے بڑا کون ہے۔ ماں بھی اس بات کا جواب نہ دے سکی تو معاملہ حل کرنے کے لیے مقدس پہاڑی ڈیلفی پر یونانی خدا اپالو کے مقبرہ پر حاضری دی گئی۔

وہاں سے یہ حکم ملا کہ دونوں بچوں کو بادشاہ بنا دیا جائے۔ ایسا کرنا عجیب بات تھی، مگر خدائی حکم کی تعمیل کی گئی اور دونوں بچوں کو بادشاہ بنا دیا گیا۔ ریاستی امور میں ان کی مدد کے لیے امراء کا انتخاب بھی کیا گیا جو وقتاً فوقتاً بادشاہوں کو مشورے اور تجاویز بھی دیتے تھے۔ جنگ کے دنوں میں ایک بادشاہ ملک میں رہتا اور دوسرا فوج لے کر دشمن کا مقابلہ کرتا۔

دو بادشاہوں کا یہ نظام نسل در نسل سینکڑوں سال چلتا رہا۔ یورپی کہاوت ہے کہ ایک ریاست میں دو بادشاہ نہیں رہ سکتے۔ سپارٹنز نے ملکی مفاد کی خاطر اپنا قانون تبدیل کیا، ایک دوسرے کو دو بادشاہوں کو امورِ سلطنت سونپنے پر قائل کیا اور تاریخ عالم میں دوہری بادشاہت کی ایک انوکھی مثال قائم کی۔

سپارٹنز وہی لوگ تھے جنہوں نے 480 قبل مسیح میں فارس کے شہنشاہ کیخسرو کے دس لاکھ سپاہیوں کے لشکر کو 300 جنگجوؤں کے ساتھ ایک تنگ گھاٹی میں روک دیا تھا۔

ہیروڈوٹس کے بیان کردہ یہ غیر روایتی واقعات تقریبا ڈھائی سے تین ہزار سال پرانے ہیں اور ایسی سرزمین کے ہیں جو پتھریلی تھی اور صرف لڑائی جھگڑے کے لیے مشہور تھی۔ سپارٹا میں کوئی بڑا دانشور، پولیٹیکل سائنٹسٹ یا فلسفی نہیں گزرا جو افلاطون کی طرح ریاستی نظام کے خدوخال واضح کرتا، فیثا غورث کی طرح فلسفے کے حقیقی زندگی کے ساتھ تعلق کو بیان کرتا اور سقراط کی طرح سیاسی شعور کو اجاگر کرتا۔

لیکن ایک خاصیت سپارٹنز میں بدرجہ اتم موجود تھی، اور وہ تھی اپنے ملک سے محبت۔ وہ محبت جس نے تھرموپلی کی گھاٹی میں دس لاکھ فارسیوں کے سامنے 300 جنگجو لا کھڑے کیے۔ اسی محبت نے انہیں ارسطوڈیمس کی وفات کے بعد پیدا ہونے والے مسئلے کا حل نکال کر دیا جو بظاہر ناممکن تھا۔

انہیں معلوم تھا کہ آپس میں لڑ کر مرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یوں دشمن کو ہم پر حملہ کرنے کا موقع ملے گا۔ چنانچہ ایسی کسی بھی صورت حال سے بچنے کے لیے سپارٹا کے دونوں گروہوں کے رہنما مل کر بیٹھے، دوہری بادشاہت کے نظام پر راضی ہوئے اور اپنی ریاست کو انتشار سے بچا لیا۔

دنیا کی تاریخ میں درجنوں ایسے واقعات ہیں جب مشکل وقت آنے پر لیڈر اکٹھے ہوئے اور مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالا۔ لیکن پاکستان میں اس طرح کی نظیر بہت کم ملتی ہے۔ 1965 کے بعد شاید ہی کوئی ایسا موقع ہو جب حکومت اور اپوزیشن ایک صفحہ پر پائے گئے ہوں۔

ہماری پارلیمنٹ 342 ارکان اسمبلی اور 100 سینیٹرز پر مشتمل ہے۔ ان میں پولیٹیکل سائنٹسٹ بھی ہیں، دانشور بھی اور صاحب کتاب فلسفی بھی۔ اس کے باوجود ہم اس بوسیدہ نظام کو تبدیل نہیں کر سکے جس کی خستہ بنیادوں کے میک اپ اور پلاسٹک سرجری کے لیے ہمیں روزانہ اپنی ریاست کا ماس اور معیشت کا لہو درکار ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس معاملے میں اگر کوئی سیاسی جماعت کوشش کر بھی لے تو دوسری پارٹی کے سرجن آ کر سیکنڈ اوپنین دے جاتے ہیں جو ہمیشہ پہلے سے الٹ ہوتا ہے، اور ساتھ میں آرٹیکل 6 جیسے سائیڈ ایفیکٹس سے بھی خبردار کر جاتے ہیں۔ یوں، نہ علاج ہو پاتا ہے اور نہ ہی حالت بہتر۔ اسمبلی میں کتنے ہی ایسے بل ہیں جو اسی طرح کی سیاست کی نظر ہو رہے ہیں۔

ہمارا مسئلہ رہنماؤں کی اہلیت اور قابلیت کا نہیں، موجودہ سیاسی روایات کا ہے۔ نرگسیت کے نشے میں مخمور ہم مخالفت برائے مخالفت کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اپنی پارٹی کے علاوہ جماعتیں ملک دشمن، اپنے لیڈر کے سوا رہنما غدار اور اپنے بلز کے علاوہ قانون سازی بیرونی سازش نظر آتی ہے۔

بقول فیض:

بجز دیوانگی واں اور چارہ ہی کہو کیا ہے؟

جہاں عقل و خرد کی ایک بھی مانی نہیں جاتی

اگر ہم نے آنے والی نسلوں کے لیے بہتر پاکستان چھوڑنا ہے تو شخصیت پرستی اور اندھی تقلید کی بجائے عقل و دانش کی بنیادوں پر استوار صاف گوئی کے کلچر کو فروغ دینا ہو گا۔ آوازوں کو بلند کرنے کی جگہ دلائل کو مضبوط کرنا ہوگا اور سڑکوں کی بجائے پارلیمنٹ میں مسائل کو زیر بحث لانا ہوگا۔

طعن و تشنیع کے اس ماحول میں معیشت، تعلیم اور صحت سمیت کتنے ہی ایسے شعبے ہیں جن میں قانون سازی ہمارے نمائندوں کی نظر کرم کی منتظر ہے۔ ان میں ایک اہم مسئلہ ملک میں انتخابی اصلاحات کے نفاذ کا ہے۔

پاکستان میں 1970 کے بعد ہونے والے ہر الیکشن کو ہارنے والے نے دھاندلی زدہ قرار دیا۔ 2023 میں اس الزام کی دوبارہ گونج نہ سننے کے لیے حکومت نے نئے نظام کےتحت انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں الیکشن ترمیمی بل بھی پاس کروا لیا ہے۔

وزیر اطلاعات کہتے ہیں کہ آئندہ الیکشن الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے ہوں گے اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کی تمام شرائط پوری کی جائیں گی۔ یہ بات خوش آئند ہے لیکن کچھ سیاسی جماعتیں ایسا نہیں چاہتیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ جانے کیوں!

جو اختلاف نہیں ہے تو اعتراف تو ہو

ہے اختلاف تو کچھ وجہ اختلاف تو ہو

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ