کوئٹہ سے بوستان، کولپور کے سیاحتی مقامات کا سفر ٹرین سے ممکن

پاکستان ریلوے نے بلوچستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کوئٹہ سے تاریخی ریلوے سٹیشنز بوستان اور درہ بولان کے ابتدائی سٹیشن کولپور تک ایک خاص ٹرین کا افتتاح کیا ہے۔

بلوچستان میں سیاحوں کو کوئٹہ کے قریب سیاحتی مقامات تک لے جانے کے لیے محکمہ ریلوے نے ٹرین سروس شروع کردی ہے، جس کا باقاعدہ آغاز آج (ہفتے) سے کردیا گیا۔ 

یہ ٹرین کوئٹہ ریلوے سٹیشن سے ہفتے اور اتوار کو بوستان اور وہاں سے کولپور تک جائے گی۔ 

ٹرین کے افتتاح کے موقع پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلوے انجینیئر اختر محمود نے بتایا کہ یہ ٹرین حکومت بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر شروع کی گئی ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ سیاحت کو فروغ دینے  کے لیے یہ ٹرین تاریخی ریلوے سٹیشنز بوستان اور درہ بولان کے ابتدائی سٹیشن کولپور تک چلائی جارہی ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ اس کا کرایہ بھی مناسب ہے جو 20 روپے اور زیادہ سے زیادہ 50 روپے ہے، تاکہ سیاح نہ صرف سفر سے لطف اندوز ہوسکیں بلکہ ان پر کوئی اضافی بوجھ بھی نہ پڑے۔ 

اختر محمود کا کہنا تھا کہ ٹرین کے راستے میں آنے والے ریلوے سٹیشنوں پر پانی کی سہولت مہیا کردی گئی ہے اور مزید سہولتیں بھی فراہم کردی جائیں گی۔ 

انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ سے بوستان کا فاصلہ 31 کلو میٹر اور کولپور کا تقریباً 41 کلو میٹر ہے۔ 

اس ٹرین میں چار بوگیاں لگی ہیں، جن میں تین سو مسافروں کو لے جانےکی گنجائش ہے۔ 

ڈی ایس ریلوے کے مطابق: ’اس ٹرین کے چلانے کے علاوہ ہماری کوشش ہے کہ بولان اور اکبر ایکسپریس کو بھی جلد دوبارہ چلایا جائے، جو گذشتہ سال کرونا کی وبا وجہ سے بند کی گئی تھیں۔‘ 

انہوں نے بتایا کہ یہ ٹرین صبح ساڑھے نو بجے کوئٹہ ریلوے سٹیشن سے روانہ ہوگی اور بوستان جائے گی اور وہاں سے واپس ہو کر کولپور جائے گی۔ 

سیاح اس ٹرین پر سفر کے ساتھ اس کے راستے میں آنے والے ریلوے سٹیشنوں پر کچھ وقت رک بھی سکیں گے۔ 

انہوں نے بتایا کہ یہ ٹرین بوستان کی طرف جاتے ہوئے بوستان، بلیلی اور کولپور کی طرف جاتے ہوئے سریاب، سپزینڈ سے ہوکر گزرے گی۔ 

ڈی ایس ریلوے کا کہنا تھا کہ اگر سیاحوں نے دلچسپی لی تو ریلوے سٹیشنوں پر مزید سہولیات اور ٹک شاپ وغیرہ بھی بنائے جائیں گے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا