’ایدھی کے انتقال کے بعد چندہ آدھا ہو گیا ہے‘

عبدالستار ایدھی کی پانچویں برسی کے موقع پر ان کے صاحبزادے فیصل ایدھی  نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ مختلف ممالک سے ایدھی فاؤںڈیشن کو ملنے والے چندے کی رقم میں کمی آگئی ہے۔

فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی اور عالمی شہرت یافتہ سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کو بچھڑے پانچ برس ہوچکے ہیں۔

آٹھ جولائی 2016 کو ایدھی کے انتقال کے بعد ان کے اہل خانہ اور چاہنے والوں کی زندگیوں میں تو ایک خلا آیا ہی، لیکن ان کی فلاحی تنظیم پر اس کے سب سے اثرات پڑے اور پاکستان سمیت دیگر ممالک سے ملنے والے چندے کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی۔

انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے بتایا کہ ان کے والد کے انتقال کے ایک دو سالوں بعد مختلف ممالک سے ایدھی فاؤںڈیشن کو ملنے والے چندے کی رقم میں کمی آگئی ہے۔ ’ان کی زندگی میں برطانیہ سے جو چندہ ملتا تھا، وہ ان کے انتقال کے بعد آدھا ہوگیا ہے۔‘

فیصل ایدھی نے مزید بتایا کہ وہ انتظامی طور پر مضبوط ہونے کے لیے کچھ اقدامات کر رہے ہیں، اگر وہ اس میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو آنے والے پانچ سالوں میں ایدھی فاؤنڈیشن دوگنی ہوجائے گی۔ 

ایدھی کی بلوچستان سے محبت

فیصل ایدھی نے انٹرویو کے دوران انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایدھی کو بلوچستان سے خاص محبت تھی۔

فیصل ایدھی کے مطابق: ’بلوچستان میں کبھی بھی کچھ بھی ہوتا تو عبدالستار ایدھی واحد شخص تھے جو سب سے پہلے وہاں پہنچتے تھے۔ وہ بلوچستان کی ایسی جگہوں پر بھی جاتے تھے، جہاں پہنچنا انتہائی مشکل ہوتا تھا۔ سڑکیں بھی نہیں ہوتی تھیں اور چار پانچ دن تک ان سے رابطہ بھی نہیں ہو پاتا تھا، ہم ڈر جاتے تھے کہ وہ کہاں چلے گئے؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیصل ایدھی نے عبدالستار ایدھی کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’10 سال قبل بلوچستان میں کنڈ ملیر کے نزدیک نانی (ہنگلاج ماتا) کے مندر سے اندر کی جانب کچے راستے پر واقع ٹانچ کے علاقے میں زہریلے کھانے کا ایک واقعہ ہوا جس میں 15 سے 20 لوگ مرگئے اور سیکڑوں بیمار ہوگئے۔ ایدھی وہاں ڈاکٹروں کی ٹیم اور ادویات لے کر گئے، مگر ان سے رابطہ منقطع ہوگیا، پھر کوسٹ گارڈ کے ساتھ ان کی تلاش شروع کی گئی تو وہ واپسی کے راستے میں ملے۔‘

عبدالستار ایدھی کی پانچویں برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ان کے ایک مجسمے کا جمعرات کو سرکاری طور پر باضابطہ افتتاح کیا گیا ہے۔

مجسمے کے افتتاح کے موقع پر وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو، ایدھی فاؤنڈیشن کے موجودہ سربراہ فیصل ایدھی اور مجسمہ ساز اسحاق لہڑی بھی موجود تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان