عراق: کرونا وارڈ میں آتشزدگی سے 58 ہلاک، سو سے زائد زخمی

عراقی ہسپتالوں میں گذشتہ تین مہینوں کے دوران یہ آگ لگنے کا دوسرا واقعہ ہے۔ آگ لگنے کے بعد ہسپتال کے باہر نوجوانوں نے مظاہرہ بھی کیا۔

محکمہ صحت نے عمارت میں کئی افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے (عراقی نیوز ایجنسی)

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی شہر ناصریہ کے ہسپتال میں لگنے والی آگ سے 58 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اس حادثے میں سو سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ہے لیکن انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

جب کہ ایک اور اہلکار نے آگ لگنے کی وجہ آکسیجن سلنڈرز کا پھٹنا بتایا تھا۔  

ہسپتال کے اس وارڈ میں ستر بستروں کی گنجائش تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عراقی ہسپتالوں میں گذشتہ تین مہینوں کے دوران یہ آگ لگنے کا دوسرا واقعہ ہے۔ آگ لگنے کے بعد ہسپتال کے باہر نوجوانوں نے مظاہرہ بھی کیا اور ’سیاسی جماعتوں نے ہمیں جلا کر رکھ دیا ہے‘ کے نعرے لگاتے رہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اعلیٰ عہدیداروں سے استعفیٰ دینے کے مطالبات کیے جاتے رہے۔

مقامی انتظامیہ نے ذی قار صوبے کے دارالحکومت ناصریہ میں ایمرجنسی کا نفاذ کر رکھا ہے جب کہ چھٹی پر جانے والے ڈاکٹروں کو بھی زخمیوں کی مدد کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کے دفتر کی ٹویٹ کے مطابق وزیر اعظم نے بھی وزرا اور سکیورٹی سربراہان کے ساتھ ’آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک ہنگامی ملاقات کی ہے۔‘

دفتر سے جاری بیان کے مطابق ذی قار کے محکمہ صحت اور ہسپتال کے سربراہ کو تحویل میں لے کر پولیس کی جانب سے ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم نے جنوبی صوبے کے لیے ہنگامی امداد بھی روانہ کر دی ہے۔

یاد رہے اس سے قبل اپریل میں عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایک کووڈ ہسپتال میں آگ لگنے سے 82 افراد ہلاک جب کہ 110 زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے میں بھی آگ لگنے کی وجہ آکسیجن سلینڈرز میں ہونے والا دھماکہ تھا۔

اپریل میں ہونے والے اس حادثے کے بعد وزیر صحت حسن التمیمی کو عوامی غصے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

عراق میں اب تک کرونا کے 14 لاکھ سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ 17 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا