دہشت گردی کے الزام میں درجنوں فلسطینی طلبہ گرفتار

اسرائیلی فورسز نے بیرزیت یونیورسٹی کے 20 سے 30 طلبہ کو حماس کا آلہ کار ہونے کا الزام لگا کر حراست میں لے لیا۔

بیرزیت یونیورسٹی نےعالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے فوری طور پر طلبہ کی رہائی یقینی بنائے (اے ایف پی)

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے سے حماس کے دہشت گردی کے مبینہ آلہ کار 20 سے 30 فلسطینی طلبہ کو حراست میں لیا ہے۔

فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ بیرزیت یونیورسٹی کے درجنوں طلبہ کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ گاؤں ’ترمس ایا‘ سے بس پر واپس آرہے تھے۔

یہ وہی گاؤں ہے جہاں رواں ماہ اسرائیلی فورسز نے ایک فلسطینی امریکی شخص کے آبائی گھر کو مسمار کردیا تھا۔

اس شخص کو رواں برس مغربی کنارے میں یہودی طالب علم پر فائرنگ کرنے کے الزام میں مقدمے کا سامنا ہے۔

اس حوالے سے اسرائیلی فوج کے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پکڑے جانے والوں میں بعض دہشت گردی کی سرگرمیوں میں براہ راست ملوث ہیں، جن میں رقوم کی منتقلی، لوگوں کو اکسانا اور مغربی کنارے میں حماس کی سرگرمیوں کا انعقاد شامل ہے۔‘

خیال رہے کہ حماس اور اسرائیلی فورسز کے درمیان رواں برس مئی میں 11 روزہ جھڑپیں ہوئی تھیں۔ یورپی یونین اور امریکہ حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر بلیک لسٹ کر چکے ہیں۔

طلبہ کی گرفتاری سے متعلق جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’بیرزیت یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ سیل سے تعلق رکھنے والے دہشت گردی کے درجنوں آلہ کاروں کو فوج، پولیس اور سکیورٹی ایجنسی شاباک کے مشترکہ آپریشن میں بدھ کو گرفتار کیا گیا۔‘

فوجی ترجمان نے آج بتایا کہ گرفتار طالب علموں کی تعداد 20 سے 30 کے درمیان ہے اور تحقیقات شاباک ایجنسی کے سپرد کردی گئی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ادھر یونیورسٹی نے طلبہ کی گرفتاری اور ان کے مستقل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ بین الاقوامی قوانین اور اقدار کے خلاف ہے جو طالب علموں کو تحریک چلانے کے حق کی آزادی دیتے ہیں۔‘

یونیورسٹی اعلامیے میں کہا گیا کہ ’جامعہ عالمی برادری سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور فوری طور پر ان کے رہائی یقینی بنائے۔‘

فلسطینی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بعض طلبہ کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا تاہم باقیوں کو طویل عرصے تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا