68 ہزار خالی کرسیوں کے سامنے ٹوکیو اولمپکس کی افتتاحی تقریب آج

جدید تاریخ کے سب سے زیادہ مسائل زدہ اولمپکس مقابلوں میں ایتھلیٹس اور سٹاف پر مختلف پابندیاں، ٹوکیو کے شہری بھی زیادہ پرجوش نہیں۔

کرونا وبا کی وجہ سے ایک سال تک ملتوی ہونے کے بعد جدید تاریخ کے سب سے زیادہ مسائل زدہ اولمپکس مقابلے آج ٹوکیو میں شروع ہونے جا رہے ہیں۔

آٹھ سال قبل ٹوکیو شہر نے اولمپکس 2020 کی میزبانی ملنے پر خوب جشن منایا تھا لیکن آج اس کی افتتاح تقریب ایمرجنسی کی حالت میں بند دروازوں کے پیچھے ہو گی۔
دنیا بھر سے آئے 11 ہزار ایتھلیٹس کی وجہ سے کرونا وبا پھلینے کے خدشات کے پیش نظر منتظمین نے اولمپکس گیمز کے لیے بائیو سکیور ببل بنایا ہے۔
وبا کی وجہ سے عائد پابندیوں کا مطلب ہے کہ اولمپکس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی مقامی یا اوورسیز تماشائی براہ راست گیمز سے لطف اندوز نہیں ہو سکے گا۔
ایتھلیٹس، سپورٹ سٹاف اور میڈیا پر مسلسل ٹیسٹنگ اور روزانہ صحت کی جانچ پڑتال سمیت سخت کووڈ 19 پروٹوکولز لاگو ہیں۔
بیرون ملک سے آئے ایتھلیٹس کو شہر میں گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں اور وہ صرف اپنے رہائشی اور کھیلوں کے مقامات تک محدود رہیں گے۔
جاپان میں ہونے والی عوامی رائے شماری میں لوگ اولمپکس گیمز کے خلاف ہیں، کچھ اس سے اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں تو کچھ کا رویہ جارحانہ ہے۔
روزنامہ آشاہی شمبھن کے حالیہ سروے سے پتہ چلا کہ 55 فیصد جواب دہندہ گیمز کے انعقاد کے مخالف ہیں۔
ٹوکیو کے ایک رہائشی سیارا اونوما نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں اپنی دلچسپی کھو رہا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میں تہہ دل سے اولمپکس کو خوش آمدید نہیں کہہ رہا اور مجھے اس میں کوئی مزہ نہیں آ رہا۔ مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ میں گیمز ٹی وی پر دیکھوں گا یا نہیں۔‘
روائتی طور پر اولمپکس کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شریک ملکوں کی ٹیمیں پریڈ کرتی ہیں اور ہزاروں ایتھلیٹس کی موجودگی میں اولمپکس کی شمع روشن کی جاتی ہے لیکن آج کی افتتاحی تقریب ایسی نہیں ہو گی۔
آج 68 ہزار نشستوں کی گنجائش رکھنے والے اولمپکس سٹیڈیم میں پاکستانی وقت کے مطابق جب چار بجے افتتاحی تقریب میں محض ایک ہزار سے کم وفود اور حکام شریک ہوں گے۔
جاپان کے شہنشاہ ناروہیتو مہمان خصوصی ہوں گے جبکہ تقریب میں امریکہ کی خاتون اول جل بائیڈن اور فرانسیسی صدر ایمینوئل میکراں سمیت متعدد عالمی رہنما شریک ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم ٹوکیو اولمپکس کے ٹاپ سپانسرز ٹوکیو، پیناسونک، فوجیٹسو اور این ای سی گیمز کی مخالفت میں اپنے اعلیٰ عہدے داروں کو نہیں بھیج رہے۔

ٹویوٹا کے آپریٹنگ افیسر جون نگاتا نے کہا ’یہ ایک ایسے اولمپکس میں بدل رہا ہے جسے کئی حوالوں سے عوامی پزیرائی نہیں مل رہی۔‘
تاہم جاپان کے شہنشاہ نے وبا کے دنوں میں اولمپکس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو تسلیم کیا ہے۔
جمعرات کو ٹوکیو میں 1979 کرونا وائرس کے نئے کیس رپورٹ ہوئے جو موسم سرما میں اپنے عروج کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔
انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے صدر تھامس باخ، جو گذشتہ 15 مہینوں میں متعدد بار اولمپکس کو ملتوی یا منسوخ کرنے کے مطالبے سن چکے ہیں، کا اصرار ہے کہ کھیل محفوظ طریقے سے ہو سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل