نور مقدم قتل کیس: ’فورینزک کے لیے ملزم کو لاہور لے جانا ضروری ‘

وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزم ظاہر جعفر کا مزید تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ جس کے اختتام پر انہیں 31 جولائی کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

پڑوسیوں کے اطلاع دینے پر پولیس نے ظاہر جعفر کو موقع پر گرفتار کرنے کے علاوہ واردات میں استعمال ہونے والا ہتھیار بھی برآمد کر لیا تھا

وفاقی دارالحکومت کی مقامی عدالت نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو مزید تین روز کے لیے اسلام آباد پولیس کی حراست میں رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔

ظاہرجعفر کو بدھ کو جوڈیشل مجسٹریٹ شعیب اختر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جہاں تھانہ کوہسار پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل کردہ فوٹیج کی فورینزک کی غرض سے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کا مطالبہ کیا۔

 ملزم ظاہر جعفر کو بدھ کو چوتھی مرتبہ اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا، جہاں سماعت کے شروع ہوتے ہی جج شعیب اختر نے دریافت کیا: ’پراسیکیوشن کا کیا کہنا ہے؟‘

اس موقعے پر دلائل دیتے ہوئے سرکاری وکیل ساجد چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے سی سی ٹی وی ویڈیو حاصل کر لی ہے، جس کی فورینزک ہونا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ویڈیو کی فورینزک کی غرض سے ملزم کو لاہور لے جانا ضروری ہو گا۔

سرکاری وکیل نے عدالت سے ملزم کا مزید تین روز کا جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی۔

اس پر ملزم کے وکیل نواز مرزا نے کہا کہ ویڈیو فورینزک کے لیے پولیس ملزم کی تصویر بھی استعمال کر سکتی ہے۔

مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس اسلحہ اور ان کے موکل کا موبائل فون برآمد کر چکی ہے۔ اس لیے ملزم کا مزید پولیس کی حراست میں دیا جانا ضروری نہیں ہے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے مدعی اور مقتولہ کے والد شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے کہا کہ ملزم کو لاہور لے کر جانا ضروری ہے۔ ’فوٹو سے کام چلتا تو ہم ریمانڈ نہ مانگتے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل ہونے والی ویڈیوز کا سارا ڈیٹا حاصل کر لیا گیا ہے، اور ان اس کا فورینزک ہونا ہے۔ جو لاہور میں ہی ممکن ہے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں ایک جوڑے کے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزم عثمان مرزا کے خلاف مقدمے میں بھی ویڈیوز کی فورینزک کے لیے سارے ملزمان کو لاہور لے جایا گیا تھا۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’ملزمان کو لاہور لے جانا اس لیے ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ویڈیو میں ایڈیٹنگ (تبدیلی) تو نہیں ہوئی۔‘

وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزم ظاہر جعفر کا مزید تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ جس کے اختتام پر انہیں 31 جولائی کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اس سے قبل ملزم ظاہر جعفر کو بھاری پولیس نفری کے ساتھ اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں واقع کچہری لایا گیا۔ سماعت کے دوران عدالت میں مقتولہ کے والد اور سابق سفیر شوکت مقدم بھی موجود تھے۔

ملزم ظاہر جعفر پہلی پیشیوں کے برعکس نسبتا بہتر حالت میں نظر آرہے تھے۔ انہوں نے اپنے لمبے بال سلیقے سے سر کے پیچھے باندھے ہوئے تھے، جب کہ کپڑے بھی بدلے ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ تمام پیشیوں میں ملزم ایک ہی ٹی شرٹ اور جینز کی پتلون پہن کر عدالت میں پیش ہوتے رہے تھے، تاہم اس مرتبہ انہوں نے صاف ستھری سیاہ ٹی شرٹ اور نیلی جینز پہن رکھی تھی۔

اس سے قبل کمرہ عدالت میں جاتے ہوئے اور بعد میں ملزم لڑکھڑانے کے انداز میں چلتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔ جب کہ بدھ کو ان کی چال ڈھال میں اعتماد نمایاں نظر آ رہا تھا۔

کمرہ عدالت میں بھی ملزم ماضی کی نسبت زیادہ پر اعتماد نظر آئے۔

یاد رہے کہ ملزم ظاہر جعفر نے 20 جولائی کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون فور میں واقع اپنے گھر کے اندر سابق سفیر شوکت مقدم کی 27 سالہ بیٹی نور مقدم کو تیز دھار آلہ استعمال کرتے ہوئے نہایت بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔

پڑوسیوں کے اطلاع دینے پر پولیس نے ظاہر جعفر کو موقع پر گرفتار کرنے کے علاوہ واردات میں استعمال ہونے والا ہتھیار بھی برآمد کیا تھا۔ جب کہ بعد میں اس کے والدین اور دو ملازموں کو معاونت کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے کہ ملزم نے پولیس تفتیش کے دوران انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے نور مقدم کو مبینہ بے وفائی کے باعث قتل کیا۔ تاہم کسی عدالت کے سامنے اس قسم کا کوئی بیان ریکارڈ نہیں ہو پایا ہے۔ دوسری جانب ملزم کے وکیل شاہ خاور نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’اعتراف میجسٹریٹ کے سامنے ہوتا ہے۔ ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘ 

پولیس تفتیش کے مطابق ملزم نے مقتولہ کو وقوعہ سے قبل کم از کم چار دن تک اپنے گھر میں یرغمال بنائے رکھا اور اس دوران انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا تھا کہ نور مقدم ایک مرتبہ کمرے سے باہر بالکونی (ٹیرس) میں آتی ہیں، اور وہاں سے نیچے کار پورچ میں کود کر گھر کے مرکزی گیٹ کے ساتھ چوکیدار کے کمرے میں چھپتی ہیں۔ تاہم ملزم انہیں وہاں سے زبردستی واپس گھر کے اندر لے کر جاتے ہیں۔

پولیس کے مطابق گھر کے ملازمین نے ظاہر جعفر کے والدین کو فون کے ذریعے اطلاع دی۔ جس پر انہوں نے تھیراپی ورکس نامی ادارے کے ملازمین کو وہاں بھیجا، جن پر ملزم نے حملہ کیا۔ اس حملے میں بھی امجد نامی ایک شخص زخمی بھی ہوا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان