’آپ نے جو کام کیا پورا ملک ناچ رہا ہے‘: مودی کی ہاکی ٹیم کو فون کال

بھارت مینز ہاکی ٹیم نے ٹوکیو اولمپکس میں جرمنی کو ہرا کر کانسی کا تمغہ جیت لیا۔ یہ ہاکی میں بھارت کا 12واں اولمپکس جبکہ 1980 کے بعد پہلا تمغہ ہے۔

بھارت کی ہاکی ٹیم نے جب جمعرات کو 41 سال کے طویل انتظار کے بعد کسی اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا تو ٹوکیو اور بھارت میں جشن شروع ہو گیا۔

بھارت مینز ہاکی ٹیم نے آج  ٹوکیو اولمپکس 2020 میں جرمنی کو 4-5 سے شکست دی۔ یہ ہاکی میں بھارت کا 12واں اولمپکس جبکہ 1980 کے بعد سے پہلا تمغہ ہے۔

بھارتی کپتان من پریت سنگھ نے یہ تمغہ کرونا وبا سے شدید متاثر اپنے ملک کے طبی کارکنوں کے نام کرتے ہوئے کہا ’پوری ٹیم اور کوچز یہ تمغہ ہمارے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے نام کرتے ہیں جنہوں نے ہمارے لیے قربانیاں دیں اور بھارت اور اس دنیا میں ہر جگہ بہت ساری جانیں بچائیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ٹوکیو گیمز کی تیاری کے 15 ماہ انہیں 15 سالوں جیسے محسوس ہوئے۔ آج کے میچ میں بھارت نے 1-3 کے خسارے میں جانے کے بعد فتح سمیٹی۔

اس جیت پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سٹیڈیم میں موجود قومی ہاکی ٹیم کو فون کال کر کے مبارک باد دی۔

نریندر مودی نے اس موقع پر بھارتی ہاکی ٹیم کے کوچنگ سٹاف سے بھی بات کی۔

ٹوئٹر پر بھارتی یونین منسٹر برائے سپورٹس انوراگ ٹھاکر نے نریندر مودی کی فون پر بھارتی کپتان سے گفتگو کی ویڈیو شیئر کی۔

اس ویڈیو میں نریندر مودی کو ہاکی ٹیم کے کپتان منپریت سنگھ سے کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’آپ کو بہت بہت بہت مبارک ہو۔ آپ نے بہت غضب کا کام کیا ہے، پورا ملک ناچ رہا ہے۔‘

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’آپ میری طرف سے ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو مبارک باد دیں، 15 اگست کو میں نے سب کو بلایا ہے وہاں ملاقات کریں گے۔‘

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق میچ کے بعد بھارتی کوچ گراہم ریڈ نے کہا کہ ’یہ ہاکی کے لیے بہت شاندار ہے۔ بہت سے اسے قومی کھیل سمجھا کرتے تھے اور یقیناً ہاکی میں سرگرم سبھی لوگ چاہتے ہیں کہ یہ کھیل ویسے ہی مقبول ہو جائے۔ امید ہے کہ آج ہم نے اس کوشش میں اپنا ایک چھوٹا سا حصہ ڈالا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ بہت اچھا احساس ہے، جو بہت ساری قربانیوں کے بعد ملا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارت نے 1928 سے 1964 کے درمیان سات اولمپکس میں سونے کے تمغے جیتے۔ اس دوران اسے صرف ایک مرتبہ 1960 کے فائنل میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

پھر طویل انتظار کے بعد 1980 میں اسے سونے کا تمغہ ملا۔ ماسکو گیمز اور ٹوکیو کے درمیان بھارت کبھی پانچویں پوزیشن سے اوپر نہیں جا سکا۔

جرمنی کے خلاف گول کرنے والے روپندر سنگھ نے روتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بھارت میں اس کھیل کو دوبارہ جنم ملے گا۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے ان سے منسوب بیان میں کہا ’لوگ بھارت میں ہاکی کو بھولنے لگے تھے۔ انہیں ہاکی سے پیار ہے لیکن انہیں ٹیم کی جیتنے کی امید نہیں رہی تھی۔‘

’آج ہم جیت گئے۔ اب وہ ہم سے مستقبل میں مزید کی امید رکھ سکتے ہیں۔ ہم پر اعتبار جاری رکھیں۔‘

بھارت کی خواتین ہاکی ٹیم کے پاس بھی اس بار تمغہ جیتنے کا موقع ہے۔

1980 میں چوتھے اور 2016 میں 12ویں نمبر پر آنے کے بعد بھارت کی خواتین ٹیم کانسی کے تمغے کے لیے جمعے کو برطانیہ کا سامنا کرے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل