گویا موروثیت بھی جمہوریت کا حُسن ہے؟

حکمرانی کا کیک افطاری کی ٹیبل پر رکھ کر کاٹا گیا۔ کیک کا کتنا حصہ کس ولی عہد کی میراث بنے گا، اس کا فیصلہ تو موروثی سیاست دانوں نے آپس میں کر لیا، ہاں مگر ایک فیصلہ عوام کا بھی ہوتا ہے۔

کیا اپوزیشن کی افطار دعوت کا مقصد یہ تھا کہ مختلف خانوادوں کے ولی عہدوں کے درمیان دوریاں ختم کی جائیں؟ (اے ایف پی)

ابھی پچھلے دنوں اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کی دعوتِ افطار کی۔

افطار ٹیبل پر ایک جانب خاندان شریف کے سربراہ نواز شریف کی نورِ نظر مریم تھیں، ان کے بائیں جانب خانوادہ باچا خان کے ولی عہد اسفند یار ولی کے بیٹے ایمل ولی خان، دائیں جانب نشست پر بے نظیر بھٹو کے فرزند اور ذوالفقار بھٹو کے نواسے بلاول تھے۔

بلاول کی اگلی سے برابر والی نشست پر ایک بار پھر خاندان شریف کے دوسرے ولی عہد یعنی شہباز شریف کے لخت جگر جناب حمزہ براجمان تھے۔

افطار کی میز پر سامنے بےنظیر بھٹو کے شوہرِ نامدار محترم آصف زرداری بیٹھے تھے۔ یہ جمہوریت کی خوبصورتی ہی تو تھی کہ اس افطار میں نورانی سلسلے سے شاہ احمد نورانی کے نور چشمی جناب شاہ اویس نورانی شریک تھے جبکہ اس افطار میں مولانا مفتی محمود کے بیٹے مولانا فضل الرحمنٰ عشائیہ لگنے تک آگئے۔

اگلی سحری پارٹی وغیرہ ہوئی تو مولانا کے فرزند ارجمند جناب اسد محمود بھی تصاویر میں نظر آ ہی جائیں گے۔

اس عشائیے میں اور بھی بہت سے سیاسی نفوس شامل تھے، مگر ان کا ذکر اس لیے نہیں کر رہی کیونکہ ان کی حیثیت فلم میں ایکسٹرا کے جیسی ہے، جنہیں صرف ہیرو ہیروئن کو سپورٹ کرنے کے لیے فلم میں کاسٹ کیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر لوگ سوال کرتے نظر آئے کہ آیا اس افطار میں شریک افراد کو پاکستان کی حکمرانی کسی ورثے میں ملی ہے یا جمہوری سیاسی پارٹیاں ان افراد کی ذاتی جاگیریں ہیں جو ان کے والدین نے بطور ترکہ چھوڑی تھیں؟

کیا اس بیٹھک کا مقصد یہ تھا کہ افطار ٹیبل پر بٹھائے گئے مختلف خانوادوں کے ولی عہدوں کے درمیان دوریاں ختم کی جائیں، سیاسی کزنز میں دوستی کا نیا چارٹر لایا جائے اور اپنے اپنے خانوادوں کی ساکھ بچائی جائے؟

حکومت کو ٹف ٹائم دینا تو ہر اپوزیشن کا کام ہے مگر یہ کیسی اپوزیشن ہے جس میں صرف چند خاندانوں کی نئی نسل کی لانچنگ ہو رہی ہے، آیا کہ موروثیت بھی جمہوریت کا حسن ہے یا یہ کچھ اور ہے؟

گمان یہ ہونے لگا ہے کہ ہم 22 کروڑ یہاں خواہ مخواہ ہی ہیں، حکمرانی میں ایک باری ایک خاندان کی دوسری باری میں دوسرا، باقی جو بچا وہ کالے چور کا ’موقع،‘ ایسے ہی یہ ملک تو خاندانی جاگیر ہے، کچھ علاقہ ہمارا، کچھ علاقہ تمھارا، باقی جو بچ جائے وہ ڈی ایچ اے کا۔ ہماری باری پہ تم ساتھ دینا، تم پہ آئے گی تو ہم بھی حاضر رہیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آصف زرداری کہتے ہیں کہ اب ہم آرام کریں گے اب میرا بیٹا، میاں صاحب کی بیٹی اور فضل الرحمن کا بیٹا اپوزیشن چلائیں گے۔ میرا بیٹا، اس کا بیٹا، اس کی بیٹی، میری بیٹی، یہ رائل ہائینس نہیں تو اور کیا ہے؟

کیا یہ 22 کروڑ عوام کی اہلیت اور قابلیت کے منہ پر طمانچہ نہیں؟ یا یہ بھی جمہوریت کی ایک ادا ہی ہو گی، ہمی کمبخت نہ پہچان پائے۔

زرداری صاحب کا جملہ یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے کافی ہے کہ مریم، بلاول کے علاوہ حکومت کے خلاف جو بھی پیپلز پارٹی اور ن لیگی رہنما شاندار پرفارمنس دکھائے گا اسے صفر سے ضرب کر دیا جائے گا کیونکہ وہ سب فلم کے ایکسٹراز ہیں۔

اب خورشید شاہ اسمبلی میں جتنی چاہے فوں فاں کر لیں، رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر جمہور کے حقوق پر چاہے جتنی بار بھی آواز بلند کر لیں، خواجہ آصف حکومت کو چاہے جتنی شرم و حیا کے طعنے تشنے دیں، مشاہد اللہ چاہے جتنے شعر سنا لیں، ان کی رگوں میں نہ شریف خاندان کا خون دوڑتا ہے نہ یہ بھٹو کی اولاد ہیں، یہ سب بہرحال سیاسی فلم کے ایکسٹراز ہی رہیں گے، وہی جنہیں ہیرو ہیروئن کے کریکٹر کو ابھارنے اور نکھارنے کے لیے کاسٹ کیا جاتا ہے۔

موروثی سیاست پر بحث کی ابتدا تو مریم نواز اور بلاول بھٹو سے ہو سکتی ہے مگر یہ کلچر ہمارے سیاسی منظر نامے میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں حلقے کی سیاست خاندانوں سے شروع ہوتی ہے اور انہی پہ ختم ہوجاتی ہے۔

سرداروں، جاگیرداروں، زمینداروں کی نسل در نسل حاکمیت ان علاقوں میں تقریباً ایک طے شدہ معاملہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر کارکردگی، اہلیت اور قابلیت کے سر پر موروثیت کب تک سوار رہے گی؟ کب تک سیاسی پارٹیوں کے تجربہ کار بابے منہ تکتے رہ جائیں گے اور کوئی کم عمر شہزادہ یا شہزادی ان کے لیڈر بنا دیے جائیں گے؟ آخر کب یہ سیاسی پارٹیاں اپنے اندر شفاف جمہوری اقدار لائیں گی؟

حکمرانی کا کیک افطاری کی ٹیبل پر رکھ کر کاٹا گیا۔ کیک کا کتنا حصہ کس ولی عہد کی میراث بنے گا، اس کا فیصلہ تو موروثی سیاست دانوں نے آپس میں کر لیا، ہاں مگر ایک فیصلہ عوام کا بھی ہوتا ہے۔

وہی عوام جنہوں نے لودھراں میں جہانگیر ترین کے قابل ترین، آکسفورڈ کے طالبعلم، وجیہہ و خوش گفتار بیٹے علی ترین کو مسترد کرتے ہوئے گلی محلے، یونین کونسل کی سیاست و خدمت کرنے والے گمنام مقامی بندے پیر اقبال شاہ کو منتخب کرلیا تھا۔

ان موروثی سیاست دانوں کو زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ اسی افطار ٹیبل کی اک جانب محسن داوڑ اور لیاقت بلوچ جیسے سیاست دان بھی بیٹھے تھے۔

یہ لوگ اس روشن امید کی جانب اشارہ ہیں کہ عوامی نمائندہ بننے کے لیے بڑے بڑے خاندانوں، نامی گرامی خانوادوں کا چشم و چراغ ہونا اہم تو ہے مگر اتنا بھی ضروری نہیں۔

آخر میں قارئین سے گزارش ہے کہ اس افطار پارٹی کی تصاویر، وڈیوز، برادرانہ بیانات، دوستانہ مسکراہٹیں، وغیرہ وغیرہ سب کچھ سنبھال کر رکھیں، آئندہ جب کوئی سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات کرے تو بطور حوالہ کام آئیں گی کیونکہ کزنز میں نوک جھونک چلتی رہتی ہے۔

یہ نوک جھونک بھی جمہوریت کا حسن ہے اور حسن اپنی گنجائش نکال لیتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر