پاکستان ہمارے شہریوں کی حفاظت یقینی بنائے: چین

پاکستان میں چینی سفارت خانے نے ایک بیان میں اپنے شہریوں کو ایک بار پھر محتاط رہنے، حفاظتی احتیاطی تدابیر اپنانے اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنے کی یاد دہانی کرائی ہے۔

دھماکے کے بعد  ایف سی اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا ( اے ایف پی فائل فوٹو)

چین نے پاکستان کے ساحلی شہر گوادر میں جمعے کو چینی شہریوں کو لے جانے والی ایک گاڑی پر خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کے شہریوں کی حفاظت یقینی بنائے۔

پولیس اور صوبائی حکومت کے مطابق اس خودکش حملے کے نتیجے میں دو بچے ہلاک جبکہ ایک چینی شہری سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ دھماکہ شام سات بجے کے قریب گوادر کے ایسٹ بے روڈ پر فشرمین کالونی کے قریب ہوا۔

صوبائی وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے ایک بیان میں بتایا کہ ’جب چینی شہریوں کو لے جانے والی گاڑی کالونی کے قریب پہنچی تو ایک نوعمر لڑکا بھاگتا ہوا آیا۔

’تاہم خوش قسمتی سے سادہ کپڑوں میں ملبوس پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے اسے روکا، جس پر اس نے چینی شہریوں کے قافلے سے 15 سے 20 میٹر کے فاصلے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘

بیان کے مطابق: ’دھماکے میں ایک چینی شہری زخمی ہوا، جس کی حالت مستحکم ہے۔ تاہم قریب ہی کھیلنے والے دو مقامی بچے ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے، جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔‘

چینی سفارت خانے نے حملے پر جاری ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں چینی سفارت خانہ دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے زخمیوں کے ساتھ ہمدردی اور بے گناہ مارے جانے والے بچوں کی ہلاکت پر گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔

بیان میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ زخمیوں کا مناسب علاج، حملے کی مکمل تحقیقات اور واقعے میں ملوث قصور واروں کو سخت سزا دے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان کے مطابق: ’پاکستان میں تمام سطح پر متعلقہ محکموں کو لازمی طور پر مضبوط حفاظتی اقدامات اور اپ گریڈ شدہ سیکورٹی میں تعاون کے میکانزم کو نافذ کرنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’حالیہ ہفتوں میں پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی خراب رہی ہے۔ پے در پے کئی دہشت گرد حملوں میں متعدد چینی شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔

’پاکستان میں چینی سفارت خانہ پاکستان میں موجود چینی شہریوں کو محتاط رہنے، حفاظتی احتیاطی تدابیر اپنانے اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنے کی یاد دہانی کراتا ہے۔‘

بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ واقعے میں ہلاک ہونے والے دو مقامی بچوں کی عمریں نو سے 10 سال کے درمیان ہیں۔

اس سے قبل بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے واقعے کی تفصیلات ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے گوادر میں چینی شہریوں کو لے جانے والی گاڑی پر حملے کی مذمت کی تھی۔

لیاقت شاہوانی نے بتایا تھا کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر مزید کارروائی شروع کردی ہے اور واقعہ کی تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے۔

Strongly condemn suicide attack on Chinese nationals Vehicle in #Gwadar.

چین گوادر سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت مختلف پروجیکٹس پر کام کر رہا ہے۔

گذشتہ ماہ 14 جولائی کی صبح خیبرپختونخوا میں برسین کے مقام پر داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے قریب ہونے والے ایک دھماکے میں نو چینی شہریوں اور دو ایف سی اہلکاروں سمیت 12 افراد ہلاک جبکہ 26 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

رواں ماہ بلوچستان میں ہونے والا یہ دوسرا دھماکہ ہے۔ اس سے قبل آٹھ اگست کو سرینا ہوٹل کے قریب ہالی چوک پر ہونے والے دھماکے میں دو پولیس اہلکار چل بسے تھے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان