جب ’ارطغرل‘ کشمیر میں ہارس رائیڈنگ سکول کھلنے کا سبب بنا

علی عباس وانی نے ڈرامہ ارطغرل سے پیدا ہونے والے گھڑ سواری کے شوق کو پورا کرنے کے لیے سری نگر کے نواح میں پہلا ہارس رائیڈنگ سکول کھولا ہے۔

’ہمارے ہاں ترک ڈراما سیریز ’ارطغرل غازی‘ کی وجہ سے لوگوں میں گھڑ سواری کا شوق پیدا ہوا۔ اب جو بھی گھوڑے پر سوار نظر آتا ہے اسے ارطغرل کہہ کر پکارا جاتا ہے۔‘

یہ کہنا تھا 34 سالہ نوجوان علی عباس وانی کا جنہوں نے کشمیری لوگوں بالخصوص نوجوانوں میں ارطغرل غازی سیریز سے پیدا ہونے والے گھڑ سواری کے شوق کو پورا کرنے کے لیے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا پہلا ہارس رائیڈنگ سکول کھولا ہے۔

نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ سے ایم بی اے کی تعلیم حاصل کرنے والے علی نے ’فضل اللہ رائل سٹیبلز اینڈ رائیڈنگ سکول‘ سری نگر سے 14 کلومیٹر دور قصبہ بڈگام میں کھولا ہے جہاں اس وقت درجنوں افراد زیر تربیت ہیں۔

’ہمارے پاس سکول میں چھوٹے بچے، لڑکیاں اور بڑی عمر کے افراد گھڑ سواری سیکھنے آتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ گھڑ سواری کا ایک 15 روزہ کورس کراتے ہیں لیکن اکثر شوقین ایسے ہیں جو کورس ختم ہونے کے بعد چھٹی نہیں کرتے بلکہ معمول کی طرح ہر روز آتے ہیں۔

علی کا کہنا ہے کہ ’ارطغرل غازی سیریز کی وجہ سے گھڑ سواری کی روایت زندہ ہو گئی ہے۔‘

شوق کا احیا ’ارطغرل غازی‘ کی دین

علی کہتے ہیں کہ جب سے پاکستان اور بھارت میں ’ارطغرل غازی‘ آن ایئر ہوا ہے تب سے کشمیر میں بھی ہر طرف اسی کے چرچے ہیں۔

’ہم نے دیکھا کہ فلموں میں جب بھی کسی مسلم لیڈر کو دکھایا جاتا ہے تو اسے ایک جرائم پیشہ کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ ارطغرل غازی ایک ایسا ڈراما ہے جس میں سلطنت عثمانیہ کی ایک اہم ترین شخصیت کو ہیرو کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

’میں اور میرے کچھ دوستوں کے پاس پہلے سے ہی گھوڑے تھے۔ ارطغرل غازی کا اثر دیکھیں کہ جہاں بھی ہم کہیں جاتے تھے وہاں پر لوگ ہم سے کہتے تھے کہ ہمیں بھی سواری کرنے دو۔

’ہم ان کو نظرانداز کرتے تھے کیوں کہ اگر آپ کے پاس گھڑ سواری کی تربیت نہیں تو آپ گر بھی سکتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پھر جب سواری کا مطالبہ بڑھنے لگا تو میں نے سوچا کیوں نا کوئی محفوظ جگہ منتخب کر کے ایک ہارس رائیڈنگ سکول قائم کیا جائے۔‘

علی کا کہنا ہے کہ گھڑ سواری ایک انسان کو نہ صرف ذہنی و جسمانی طور پر تندرست رکھتی ہے بلکہ برائیوں سے بھی روکتی ہے۔

’گھڑ سوار ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہتا ہے۔ آپ گھوڑے پر سوار ہو جاتے ہیں تو آپ کی 50 فیصد پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں۔

’جب بھی آپ دوڑنا شروع کرتے ہیں تو پورے بدن میں حرارت پیدا ہو جاتی ہے۔‘

سکول کے ٹرینر اور ٹرینی

عرفان کشمیر کے اس پہلے ہارس رائیڈنگ سکول میں شوقین افراد کو تربیت دے رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس 80 کے قریب کم عمر لڑکے، لڑکیاں ہارس رائیڈنگ کے لیے آ رہے ہیں۔ ہم ہر ایک سے پوچھتے ہیں کہ آپ میں ہارس رائیڈنگ کا شوق کیسے پید ہوا تو ان میں سے بیشتر کا کہنا ہوتا ہے کہ ارطغرل کی وجہ سے۔‘

’بچوں کے ساتھ ایک مسئلہ ہے کہ وہ آتے ہی کرتب دکھانا شروع کرتے ہیں، ہم انہیں ایسا کرنے نہیں دیتے۔ ہمارے گھوڑے تربیت یافتہ ہیں۔ ان کو جب بولا جائے گا تب ہی چھلانگ لگائیں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’گھڑ سواری کے لیے ضروری ہے کہ ہم گھوڑے کے ساتھ کچھ وقت گزاریں اور اس کا رویہ پہچان جائیں۔ آپ ایسا کریں گے تو گھوڑے کو بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ بندہ مجھ سے لگاؤ رکھتا ہے اور مجھے بھی اس کا خیال رکھنا ہے۔‘

ممبئی میں مقیم کشمیری خاتون تقویٰ ایوب ان دنوں یہاں پر محض اس لیے رکی ہیں تاکہ وہ گھڑ سواری کی تربیت مکمل کر سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے کشمیر آ کر پتہ چلا کہ یہاں ہارس رائیڈنگ سکھائی جاتی ہے۔ میں ایک اینیمل لور ہوں۔ مجھے رائیڈنگ بہت پسند ہے۔ یہ دونوں چیزیں مجھے یہاں اس سکول میں کھینچ لائیں۔

’پہلی بار کشمیر میں کچھ ایسا ہوا ہے۔ یہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ڈپریشن کا شکار ہے۔ لوگوں کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ جانوروں سے محبت اور ہارس رائیڈنگ لوگوں کو ذہنی پریشانیوں سے نجات دلا سکتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میں بھی ہارس رائیڈنگ سیکھ چکی ہوں۔ گھوڑے تھوڑے زیادہ لمبے ہیں اس لیے ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں گرائیں نا۔

’ہارس رائڈنگ کا شوق مجھے ہر روز ڈیڑھ گھنٹے کا سفر طے کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ مجھے واپس ممبئی جانا تھا لیکن صرف ہارس رائیڈنگ سیکھنے کے لیے میں نے اپنی چھٹیوں میں توسیع کی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا