خواتین کو تنگ یا پیچھا کرنے والوں کی گرفتاری کا حکم

قانون کے مطابق ایسا کرنے والوں کے لیے پہلے ہی سزا تجویز کی گئی ہے لہذا جو افراد ایسی کارروائیوں میں پکڑے جائیں گے اور مجرم ثابت ہوں گے انہیں قید و جرمانوں کی سزائیں بھی ملیں گی۔

پولیس ترجمان لاہور رانا عارف نے اس حکمت عملی سمیت تھانوں ،پیٹرولنگ پولیس اور سیف سٹی کنٹرول روم کو جاری ہدایات کی تصدیق کی ہے(فائل فوٹو: اے ایف پی)

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مینار پاکستان واقعہ سمیت آئے روز خواتین کو ہراسانی کے بڑھتے واقعات کو روکنے کے لیے لاہور پولیس نے حکمت عملی تیار کر لی۔

پولیس حکام کی جانب سے پیٹرولنگ اور سیف سٹی اتھارٹی کنٹرول روم کو احکامات جاری کیے ہیں کہ خواتین کا پیدل ،رکشہ، موٹر سائیکل یا گاڑی پرپیچھا کرنے والے افراد کو فوری طور پر پکڑ لیا جائے۔

پولیس کی نئی حکمت عملی کو خواتین نے بہترین اقدام قرار دے کر اسے مزید بہتر بنانے کی درخواست کی ہے۔

دوسری جانب قانونی ماہرین نے بھی اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے شفاف طریقے سے ان ہدایت پر عملدرآمد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیاہے۔

قانون کے مطابق ایسا کرنے والوں کے لیے پہلے ہی سزا تجویز کی گئی ہے لہذا جو افراد ایسی کارروائیوں میں پکڑے جائیں گے اور مجرم ثابت ہوں گے انہیں قید و جرمانوں کی سزائیں بھی ملیں گی۔

پولیس کی حکمت عملی:

لاہور میں خواتین کوہراساں کیے جانے کی متعدد ویڈیوز سامنے آنے جن میں مینار پاکستان واقعہ اور رکشہ پر سوار خاتون سے اوباش کی دست درازی کی ویڈیو شامل ہے اس کے بعد رواں ہفتے پولیس حکام کی جانب سے حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو موصول ریکارڈ کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت تمام پیٹرولنگ اہلکاروں اور سیف سٹی کنٹرول روم کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ’کسی بھی شاہراہ پر رکشے، موٹر سائیکل، گاڑی یا پیدل جاتی خواتین کا پیچھا کرنےوالے اوباشوں کو فوری حراست میں لے لیا جائے۔‘

اسی طرح پارکوں، بازاروں، بس سٹاپس، کالجوں و یونیورسٹیوں کے باہر بھی خواتین کو ہراساں یا ان کا پیچھا کرنے والوں کےخلاف کارروائی کاحکم دے دیا گیاہے۔

پولیس ترجمان لاہور رانا عارف نے اس حکمت عملی اور تھانوں ،پیٹرولنگ پولیس اور سیف سٹی کنٹرول روم کو جاری ہدایات کی تصدیق کی ہے۔

خواتین سے چھیڑ چھاڑ یا پیچھا کرنے کی سزا کیا ہے؟

ویسے تو پاکستان کے قوانین میں دیگر جرائم کے ساتھ خواتین کو ہراساں کرنے زیادتی، ریپ یا چھیڑ چھاڑ سے متعلق قوانین موجود ہیں لیکن اصل مسئلہ ہے ان پر عمل درآمد کا لہذا پولیس کی نئی حکمت عملی سے متعلق بھی یہ سوال موجود ہے۔

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ہراسانی کے مقدمات کی پیروی کرنے والے قانون دان قاسم آرائیں  نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کیے جانے یا ان کا پیچھا کرنے، ریپ سمیت کئی قوانین موجود ہیں اور ان میں سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں صرف انہیں مقدمات کو سیریس لیا جاتا جو میڈیا پر نمایاں ہوجائیں یا کوئی سنگین واردات ہو جائے۔

قاسم آرائیں کے مطابق خواتین کو گھورنے یا چھیڑ چھاڑ کرنے سے متعلق سب سے کم دفعہ 294 رکھی گئی جس کےتحت تین ماہ قید وجرمانے کی سزا ہوسکتی ہیں لیکن اس میں جرم ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ خواتین تھانے کچہریوں میں جانے سے گریز کرتی ہیں۔ معاشرے میں ایسے کیسوں کے تحت منظر عام پر آنے والی خواتین کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اس خوف سے خواتین شکایت درج کراتی ہیں اور نہ ہی سامنے آتی ہیں۔

یہی وہ کمزوریاں ہیں جن کا اوباش فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہر جگہ خواتین کو ہراساں کیا جاتاہے۔

قاسم کے بقول قوانین پر اس طرح عمل درآمد کیا جائے کہ کوئی درخواست دہندہ سامنے آئے نہ آئے لیکن ملزم کو سزاضرور ملنی چاہیے۔ ریپ کے بڑے واقعات جو میڈیا پر رپورٹ ہوجائیں حکومت اورپولیس صرف انہیں کیسوں میں خواتین سے تعاون کرتی ہے وہ بھی کسی حد تک ہوتاہے۔

قانون تو موجود لیکن معاشرتی رویہ بدلنا لازمی:

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تجزیہ کار محمل سرفراز نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ خواتین کے حقوق اور ہراسانی سے متعلق قوانین تو بہت موجود ہیں۔ لیکن حکمرانوں یا پولیس حکام سمیت معاشرتی رویہ خواتین کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول ’خواتین تو ڈرتے شکایت بھی درج نہیں کراتیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان سے طرح طرح کے سوال کیے جاتے ہیں جیسے مینار پاکستان واقعہ میں کہا گیا کہ وہ ٹک ٹاکر ساتھیوں کو لے کر کیوں گئی۔‘

محمل کے مطابق جب وزیر اعظم اور موٹر وے واقعہ پر سابق سی سی پی او غیر محتاط بیان دیں تو معاشرے میں اس کا کیا تاثر جائے گا؟ کہ خواتین اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ہراسانی کی خود ذمہ دار ہیں؟

ان کے خیال میں نظام انصاف میں خواتین کو قانونی مدد لینے میں مدد نہیں کرتا بلکہ اس سے خواتین ہچکچاتی ہیں کیونکہ میڈیکل کرانا یا ان سے دوران تفتیش عجیب عجیب سوال پوچھنا ہر خاتون ایسا نہیں کر سکتی۔

پوری تفتیش بھی مرد اہلکاروں یا افسران سے کرائی جاتی ہے اس کے لیے خواتین اہلکار تعینات ہونی چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ ’اصل مسئلہ یہاں قوانین بنا یا سزا وجزا کا نہیں بلکہ معاشرتی رویوں کا ہے جب تک پولیس میں ان کیسوں کے لیے خواتین اہلکاروں کو ذمہ داری نہیں دی جاتی پولیس کی تربیت نہیں کی جاتی مقدمات کی پیروی میں خواتین کو احساس تحفظ فراہم نہیں ہوگا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین