گرین ویزا: سپانسر شپ کے بغیر یو اے ای میں کام کرنے کی اجازت

نئے ’گرین ویزا‘ رکھنے والے افراد یو اے ای میں کسی کمپنی کی سپانسر شپ کے بغیر کام کر سکیں گے اور اپنے والدین اور 25 سال تک کے بچوں کو سپانسر کر سکتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی ایک کروڑ آبادی میں 90 فیصد غیر ملکی ہیں(اے ایف پی)

متحدہ عرب امارات نے غیر ملکیوں کے لیے ایک نئے ویزے کا اعلان کیا ہے جو بغیر کسی سپانسر شپ ملک میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اتوار کو سامنے آنے والے اعلان کے مطابق ’گرین ویزا‘ کے تحت رہائش کے ضوابط کو بھی نرم کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں غیر ملکیوں کو عام طور پر صرف محدود مدت کے ویزے دیے جاتے ہیں جو کہ ان کے روزگار سے منسلک ہوتے ہیں اور وہاں طویل مدت کے لیے رہائش حاصل کرنا مشکل رہا ہے۔

حکام نے بتایا کہ نئے ’گرین ویزا‘ رکھنے والے افراد کمپنی کی سپانسر شپ کے بغیر کام کر سکیں گے اور اپنے والدین اور 25 سال تک کے بچوں کو سپانسر کر سکتے ہیں۔

اس نئی سکیم کا اعلان کرنے والے متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ثانی بن احمد الزیودی کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی ہنر مند افراد، سرمایہ کاروں، کاروباری افراد، انٹرپرنیورز کے ساتھ ساتھ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل طلبہ اور پوسٹ گریجویٹس کے لیے ہے۔‘

متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ممالک اپنی معیشت کو متنوع بنانے اور تیل پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2019 میں متحدہ عرب امارات نے 10 سالہ ’گولڈن ویزا‘ لانچ کیا تھا تاکہ امیر افراد اور انتہائی ہنر مند کارکنوں کو راغب کیا جاسکے، یہ خلیج میں اس نوع کی پہلی سکیم ہے۔

اسی طرح کے کئی پروگرام دوسرے خلیجی ممالک میں بھی شروع کیے گئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات جو پڑوسی ملک سعودی عرب کے بعد عرب دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، کی ایک کروڑ آبادی میں 90 فیصد غیر ملکی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا