متحدہ عرب امارات: 17 سال تک کے بچوں کو سائنوفارم لگانے کا فیصلہ

متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کسی قسم کی تفصیلات دیے بغیر وزارت صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ فیصلہ کلینیکل ٹرائلز اور وسیع تشخیص کے بعد سامنے کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے چین کی سرکاری دوا ساز کمپنی سائنوفارم کی تیار کردہ ویکسین کے تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائلز کی قیادت کی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حکومت نے تین سے 17 سال کی عمر کے بچوں کو کرونا (کورونا) وائرس سے بچاؤ کے لیے چین کی سائنوفارم ویکسین لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یو اے ای حکومت کی جانب سے ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کسی قسم کی تفصیلات دیے بغیر وزارت صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ فیصلہ کلینیکل ٹرائلز اور وسیع تشخیص کے بعد کیا گیا ہے۔

یو اے ای کے حکام نے جون میں  کہا تھا کہ ٹرائلز کے ذریعے 900 بچوں کے مدافعتی ردعمل کی نگرانی کی جائے گی۔

خلیجی ریاست پہلے ہی 12 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کو فائزر بائیو این ٹیک ویکسین فراہم کر رہی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزارت صحت نے اتوار کو کہا کہ متحدہ عرب امارات کی تقریباً 90 لاکھ آبادی میں سے 78.95 فیصد کو ویکسین کی ایک خوراک لگ چکی ہے جبکہ 70.57 فیصد کی مکمل ویکسی نیشن ہوچکی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں اتوار کو کرونا وائرس کے 1519 نئے کیسز رجسٹر ہوئے، جس کے بعد یہاں ریکارڈ ہونے والے کل کرونا کیسز کی تعداد چھ لاکھ 82 ہزار 377 ہوگئی جبکہ 1915 اموات بھی ریکارڈ کی جاچکی ہیں۔ اس تعداد سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ساتوں ریاستوں میں انفرادی طور پر کتنے کیسز ریکارڈ ہوئے۔

متحدہ عرب امارات نے چین کی سرکاری دوا ساز کمپنی سائنوفارم کی تیار کردہ ویکسین کے تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائلز کی قیادت کی تھی جس کے بعد اس نے سائنوفارم اور ابوظہبی میں قائم ٹیکنالوجی کمپنی گروپ 42 کے اشتراک سے ویکسین کی تیاری شروع کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت