ایس ایس اے نے واضح کیا کہ ’یہ نیٹ ورک قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے حزب اللہ اور ایران سے جڑے بیرونی فریقوں کی ہم آہنگی سے ایک پہلے سے طے شدہ سٹریٹجک منصوبے کے تحت کام کرتا تھا۔‘
متحدہ عرب امارات
ملاقات کے علاقائی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل رابطے اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔