کرپشن کو ترقی سے جوڑنے پر پاکستانی سماجی کارکن پر تنقید

پاکستانی تجزیہ کار ریما عمر ایک چینی مصنفہ کی چین میں کرپشن کے ترقی سے تعلق کے متعلق کتاب کی تشریح پر سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہیں۔

ریما انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور ایک وکیل ہیں (ریما عمر ٹوئٹر اکاؤنٹ ویڈیو گریب)

پاکستانی تجزیہ کار اور سماجی کارکن ریما عمر ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان کی وجہ سے زیر تنقید ہیں۔

پچھلے دنوں ریما، جو وکیل ہیں، نے اپنی ایک ٹویٹ میں چین کی ڈاکٹر یوئن یوئن اینگ کی کتاب ’چائناز گلڈڈ ایج‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو لوگ چین کا ماڈل پاکستان میں لانا چاہتے ہیں ان کو یہ خبر ہونی چاہیے کہ چین کی ترقی میں کرپشن کا ہاتھ ہے اور ’ایکسیس منی‘ بھی ایک طرح کی کرپشن ہی ہے۔

ان کی ٹویٹ کے بعد بہت سے صارفین نے ان پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریما شاید کرپشن کے حق میں وضاحت پیش کر رہی ہیں حالانکہ ان کا اصرار رہا کہ وہ ایسا کچھ نہیں کہہ رہیں۔

سوینگالی نامی صارف نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ریما عمر ایک مشن پر نکلی ہوئی ہیں جس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ترقی کا دارومدار کرپشن پہ ہے۔

دوسری جانب کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر اینگ نے بھی ریما کی ٹویٹ کے جواب میں  وضاحت کی جو تشریح ریما نے ان کی کتاب کی ہے، وہ غلط تھی۔ ’میری کتاب یہ بات واضح کرتی ہے کہ کرپشن ، کسی بھی نشے کی طرح خطرناک ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کی کتاب کی تشرح ہر کسی کا حق ہے اور ان کے اور ریما کے درمیان احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ٹوئٹر پر بات چیت ہوئی۔

 

خرم حسین نے اپنی ٹویٹ میں ریما سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اچھا ہوتا کہ اگر لوگ یہ سمجھ پاتے کے ریما کہنا کیا چاہتی ہیں، انہوں نے یہ کبھی نہیں بولا کہ کرپشن اچھی ہوتی ہے۔

  

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ